| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، ایم آئی کی شمولیت اور سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ اعتماد بڑھانے کے لیے ہے

Todays Print

لاہور (تجزیہ، مجاہد منصوری)پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کا فیصلہ واضح طور پر حتمی نہیں بلکہ جے آئی ٹی کے قیام کے آرڈر آف کورٹ کی بڑی پیشرفت کے ساتھ تسلسل میں چلا گیا۔ اس طرح کیس ختم ہوا ہے نہ ابھی سپریم کورٹ اس سے الگ ہوئی ہے تاہم جسٹس لطیف کھوسہ اور جسٹس گلزار کا اختلافی نوٹ بھی تاریخی کیس کے غیر حتمی فیصلے کی طرح تاریخی بن گیا اصل (لیکن حتمی نہیں) فیصلہ جے آئی ٹی کے قیام کا آرڈر آف کورٹ ہے جس کی بنیاد تینوں فاضل ججز صاحبان کا یہ اتفاق رہا کہ الزامات کی تفتیش فراہمی انصاف کے لیگل پروسیجر کے مطابق ہونا قانوناً ضروری ہے، تاہم روایتی تفتیشی طریق کار سے ہٹ کر، تفتیش کے اعتبار کو قائم کرنے اور اس کی سکت بڑھانے کے لئےجے آئی ٹی میں سول تفتیشی اداروں کے ساتھ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی اور کسی دوسرے سنگین جرائم کی تفتیش کے لئے جے آئی ٹی کے قیام کا طریق کار اختیار کر رہی ہیں، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جے آئی ٹی کے ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کے نتائج مایوس کن ہی رہے اور عوام کا ان پر اعتماد قائم نہ ہو سکا۔ شاید اسی لئے اگلے مرحلے میں تفتیش کے مطلوب معیار کو ممکن بنانے کے لئے فیصلہ دینے والے تینوں جج صاحبان نے روایتی تفتیشی اداروں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ان پر انحصار کرنے کی بجائے جے ٹی آئی کے قیام کا آرڈر آف کورٹ دیا جس کا اعتماد بڑھانے اور تفتیشی صلاحیت میں اضافے کے لئے سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ کی گنجائش بھی پیدا کی پھر جے آئی ٹی کو ٹائم بائونڈ بھی کر دیا، تاکہ جے آئی ٹی کی تفتیش کو ٹال مٹول اور طوالت دینے کی روایتی تنقید نہ ہو۔ اس طرح جج صاحبان نے تفتیش کے مبنی برانصاف ہونے کو یقینی بنانے کے لئے اپنے محتاط اور چوکس ہونے کا بھی واضح تاثر دیا ہے۔اختلاف کرنے والے جج صاحبان نے آئین کی آرٹیکلز --62\63کو بنیاد بنایا جبکہ فیصلہ دینے والے تینوں فاضل ججز نے سزا دینے یا بری کرنے کے لئے تفتیشی مرحلہ مکمل کرنے کے قانون پروسیجر کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا۔ پانامہ کیس کا یہ غیر حتمی فیصلہ اس لحاظ سے تاریخی اور دلچسپ ہے کہ فریقین اسے اپنی اپنی کامیابی قرار دے رہے۔