| |
Home Page
جمعرات 28 محرم الحرام 1439ھ 19 اکتوبر 2017ء
الطاف حسن قریشی
May 19, 2017 | 12:00 am
مشرق سے اُ بھرتا ہوا نیا ورلڈ آرڈر

Mashriq Se Abharta Hawa Naya World Order

میں نے اپنی پچاسی سالہ زندگی میں دو سے زائد عالمی نظام بنتے، چلتے اور زوال کا شکار ہوتے دیکھے ہیں۔ 1945ء میں دوسری جنگ ِعظیم اختتام کو پہنچی، تو میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہمارے اسکول میں فتح کا جشن منایا گیا تھا۔ پورا جرمنی اور جاپان تباہ ہو چکا تھا اور برطانیہ کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ اقوامِ عالم کو احساس ہوا کہ دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے، پس ماندہ علاقوں میں زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے اور انسانیت کو اُن کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے ایک عالمی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ اِس وقت امریکہ اپنی فوجی اور معاشی طاقت کی بدولت غیر معمولی اثرورسوخ کا حامل تھا، چنانچہ اس نے ایک عالمی نظام کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ بعدازاں تباہ حال جرمنی اور جاپان کی بحالی کے لیے مارشل پلان کا اعلان کیا، لیکن اقوامِ متحدہ جن عظیم الشان مقاصد کے لیے وجود میں آئی تھی، وہ بعض پیدائشی خرابیوں کے باعث طاقتور ملکوں کے مظالم اور استحصالی ہتھکنڈوں سے کمزور قوموں کو نجات نہ دلا سکی۔ بھارت نے طاقت کے بل بوتے پر کشمیر پر قبضہ کر لیا اور اسرائیل فلسطینیوں کے علاقوں پر قبضہ کرتا اور لاکھوں فلسطینیوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کی اذیتوں سے گزارتا رہا۔
اور دوسرا ورلڈ آرڈر اس وقت دیکھنے میں آیا جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئیں اور بالآخر اس کی وسیع و عریض سلطنت شیشے کی دیوار کی طرح ٹوٹ گئی، تب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے منصب پر فائز ہو گیا اور اس نے اپنا ورلڈ آرڈر جاری کر دیا جس میں پوری دنیا کی جہاں بینی کی خواہش واضح طور پر جھلکتی تھی۔ اس کی حریصانہ پالیسیوں کے نتیجے میں کرۂ ارض کے مختلف حصوں میں شدید ردِعمل پیدا ہوا اور القاعدہ، تحریک ِ طالبان پاکستان اور داعش منظم ہوتے گئے۔ لیبیا سے لے کر عراق، شام، افغانستان اور پاکستان میں خوفناک دہشت گردی کا دائرہ وسیع اور عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا چلا گیا۔ آخر کار امریکی قیادت کو احساس ہوا کہ وہ کبھی افغانستان میں بڑھتی ہوئی سرکشی پر قابو نہ پا سکے گی اور جنوبی ایشیا میں اس کے قدم جم نہیں پائیں گے۔ اسی گہرے احساس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدارت کے عظیم عہدے پر فائز کر دیا جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف غیر انسانی اقدامات کیے جن کے ردِعمل میں عدلیہ اور سول سوسائٹی سینہ سپر ہو گئیں۔ ان کے جرأت مندانہ رویوں نے امریکی صدر کی سوچ میں قدرے تبدیلی پیدا کی ہے اور اسی لیے انہوں نے سب سے پہلے سعودی عرب جانے کا اعلان کیا ہے جسے اسلامی دنیا میں ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ ان سفارتی سرگرمیوں سے گمان گزرتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر سرگرم ہو گئے ہیں، مگر بتدریج عالمی قیادت سے دستبردار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس تاریخی تناظر میں چین کی موجودہ قیادت نے اجتماعی فلاح و بہبود، باہمی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کا انقلاب آفریں تصور پیش کیا ہے جو ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے منصوبے پر مشتمل ہے۔ چینی صدر جناب شی چن پنگ ایک وژنری شخصیت ہیں اور ماؤزے تنگ کے بعد چین کے سب سے زیادہ طاقتور اور حددرجہ دانش مند صدر خیال کیے جاتے ہیں۔ ان سے پہلے چینی قائدین نہایت خاموشی سے معاشی سپر پاور بن جانے کے لیے منصوبہ بندی اور عملی پیش قدمی کرتے رہے۔ اس حکمت ِ عملی کے نتیجے میں چین کے زرِمبادلہ کے ذخائر امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں سے تجاوز کر گئے ہیں جن کا ایک حصہ صدر شی چن پنگ ون بیلٹ ون روڈ کے عظیم الشان منصوبے کی تکمیل میں صرف کر رہے ہیں۔ چند روز پہلے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے زیرِ اہتمام دو روزہ عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں 30 ممالک کے سربراہ اور 68ممالک کے 1500نمائندے شامل ہوئے۔ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری ہوا، وہ انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک مژدہ جانفزا کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدر شی چن نے اعلان کیا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے معاہدے پر 68ممالک نے دستخط کیے ہیں جس کی بنیادی غرض و غایت خطوں اور براعظموں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور تجارت کے ذریعے معیشت کو استحکام بخشنا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ موجودہ زمانے میں کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا، اِس لیے سارے ممالک اپنے تنازعات پُرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے طے کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیں۔ میڈیا کانفرنس جس میں شرکت کے لیے ہزاروں صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو دعوت دی گئی تھی، اِس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمارے کوئی سیاسی مقاصد نہیں اور ہم پوری دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف نے سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام امن کے ذریعے آ سکتا ہے اور ہم امن کے زبردست حامی ہیں اور تمام ہمسائیوں سے امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ اُن کے خطاب کا ایک جملہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا کہ سی پیک میں کوئی ملک چین اور پاکستان کی رضامندی ہی سے شریک ہو سکے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سی پیک کے منصوبے مشترکہ خوش حالی کے لیے ہیں جن سے 68ممالک فائدہ اُٹھا سکیں گے۔ اُن کا خطاب مدبرانہ، حقائق اور دلائل سے مرصع اور دلوں میں اُتر جانے والا تھا۔ وہ بڑے اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ غربت اور دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی خوشحالی اور معاشی آزادی کا باعث بنے گا۔ جب یہ اعلانات ہو رہے تھے، تو چشمِ فلک مشرق سے ایک نیا ورلڈ آرڈر طلوع ہوتے دیکھ رہی تھی جس میں انسانی شرف و احترام اور برابری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔
وزیراعظم کے ہمراہ چاروں وزرائے اعلیٰ بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے اور وہ گوہرِ مقصود سے اپنا دامن بھر کے لائے ہیں۔ ہمارے مشیرِ خارجہ جناب سرتاج عزیز نے سائیڈ لائن پر وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جناب پرویز خٹک کی ملاقات کرائی جو آنے والے حالات میں ایک صحت مند تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ اِسی طرح سید مراد علی شاہ بھی اُفق کے اس پار اُتر گئے تھے۔ جناب شہباز شریف کی ہمہ پہلو سرگرمیوں سے اندازہ ہوا کہ وہاں اُن کے رشتے بہت گہرے ہیں اور اعتماد کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ اُن کی اعلیٰ کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں کو جگہ جگہ خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ انہوں نے اپنا سارا وقت ان شخصیات سے ملاقات میں صرف کیا جو عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بھارت خطے میں تنہا رہ گیا ہے جس سے اس کی علاقائی حیثیت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
چین کے دورے سے پاکستان کی علاقائی اور عالمی اہمیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور نئے ورلڈ آرڈر میں اسے کلیدی مقام حاصل ہو چکا ہے۔ ان بلندیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں داخلی سطح پر ملامتی دانش کا بھی سامنا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے ذمہ دار عہدیداروں نے ایک پرانی تصویر کی بنیاد پر بے پر کی اُڑا دی کہ ڈان لیکس کی سفارشات کے باوجود جناب طارق فاطمی وزیراعظم کے ساتھ بیجنگ کے دورے پر گئے ہیں۔ اِسی طرح بیمار ذہن کے لوگ سوشل میڈیا پر فوج سمیت بعض ملکی اداروں پر اذیت ناک حملے کر رہے اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف سول سوسائٹی کو منظم ہونا اور فوج کی عظمت کو سلام پیش کرنے کا کلچر فروغ دینا ہو گا۔ شرپسندوں کے خلاف قانونی طاقت کا استعمال اب ناگزیر ہو گیا ہے۔

.