| |
Home Page
جمعہ 25 ذیقعدہ 1438ھ 18 اگست 2017ء
ڈاکٹر صفدر محمود
May 19, 2017 | 12:00 am
باادب، بامقصود۔بے ادب، بے مقصود

Ba Adab Ba Maqsood Be Adab Be Maqsood

آج کل کے گھسے پٹے سیاسی مباحث سے الگ ہو کر سوچتے ہوئے میرا ذہن ایک نکتے پر اٹک گیا..... یہ نکتہ میرے مطالعے اور مشاہدے دونوں کا عکس ہے..... ہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ انسانی معاملات میں کوئی ایک کلیہ یا اصول ایسا نہیں ہوتا جس کا سب پر یکساں اطلاق کیا جاسکے کیونکہ اللہ پاک نے اپنی مخلوق میں بےحد تنوع، اختلاف اور تضاد رکھا ہے۔ انسانی رویوں اور سوچ کے حوالے سے ہرشخص دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس لئے جب انسانی نفسیات کے اصولوں کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب اکثریت یا اکثر ہوتا ہے نہ کہ ہر کوئی.....
تاریخ و سیاست اور مانوس انسانی حلقوں پر نظر ڈالوں تو یوں لگتا ہے جیسے اکثر لوگ اپنی انفرادیت، منفرد حیثیت اور الگ پہچان قائم کرنے کے لئے عام طور پر اپنی فکری، روحانی اور سیاسی میراث سے بغاوت کردیتے ہیں یا علیحدگی اختیارکرلیتے ہیں یعنی ان کی انفرادی حیثیت کا نفسیاتی مسئلہ انہیں الگ راہیں اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ مثلاًمجھے اس وقت کوئی حیرت نہیں ہوتی جب میں مذہبی گھرانوں میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں کو چند ایک کتابیں پڑھ کر عالم و فاضل بن کر اپنے بزرگوں کی راہ سے انحراف کرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی کبھی خاندانی ورثے سے بغاوت کرتے دیکھتا ہوں اور اپنی منفرد حیثیت قائم کرنے کے نفسیاتی چکر میں تضادات میں مبتلا دیکھتا ہوں۔ حیرت کی بات یہ بھی نہیں کہ میں نےاکثر دینی و مذہبی گھرانوں کے ہونہار نوجوانوں کو اس قدر آزاد خیال پایا کہ وہ مذہب، مذہبی اقدار اور اصولوں سے ہی باغی ہوگئے البتہ یہ ایک عجیب تضاد تھاکہ وہی لوگ اپنے بزرگوں کی مذہبی خدمات اور روحانی مقام پر فخر بھی کرتے تھے لیکن خود مذہب اور روحانیت کو تمسخر کا نشانہ بھی بناتے تھے۔ روحانیت کی ابجد سے بھی واقف لوگ یہ جانتے ہیں کہ سچی روحانی دنیا میں نہ تعویذ گنڈے ہوتے ہیں اور نہ ہی پیشہ وارانہ پیری مریدی..... روحانی مرشد کی ساری توجہ قلب کی صفائی، نفسانی خواہشات پر قابو اور باطن کو سفلی جذبات سے پاک و صاف کرنے پر ہوتی ہے۔ روحانی شخصیات مشکل میں دعا کے ذریعے مدد توکرتی ہیں لیکن عام طور پر اس کا اظہار نہیں کرتیںاور کرامات سے اجتناب کرتی ہیں۔ انہیں جن معاملات کا علم ہو یا ہونے والی واردات کی اطلاع ہو وہ اسے بھی خفیہ رکھتے ہیں، سوائے ان مخصوص لوگوں کے جن سے ان کا قلبی اور بھروسے کا رشتہ ہو۔ اللہ کے ان مقربین اور رضائے الٰہی کی راہ میں خود کو مٹا دینے والی معصوم ہستیوں کا ڈبہ پیر، یا سرگودھا کے قاتل پیر، یا تعویذ گنڈے کی دکانیں سجا کر وارداتیں کرنے والوں سے موازنہ یا اس حوالے سے ان کا ذکر بھی بےادبی ہے۔ ظاہر ہے کہ ادب محبت، عشق اور رضا کا پہلا قرینہ ہے، پہلی سیڑھی ہے۔ میرے درویش دوست بابا مست اقبال مرحوم و مغفور کہا کرتے تھے ’’با ادب، با مقصود۔ بے ادب، بے مقصود‘‘ لیکن سچ یہ ہے کہ ادب بھی روحانی دنیا کے چاہنے والوں کا ہی مسئلہ ہوتا ہے۔ جن کے نزدیک اس کا وجود ہی نہیں، جنہیں زندگی بھر کوئی روحانی تجربہ ہوا ہی نہیں اور جنہیں زندگی میں کبھی سچا صاحب ِ باطن یا صاحب ِنظر ملاہی نہیں، وہ اپنی لاعلمی یا محرومی کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کے وجود سے ہی انکار کردیتے ہیں اور جو ذرا روشن خیال یا خود کو عالم و فاضل سمجھتے ہیں، وہ ادب کی تمام حدوں کو عبور کرکے اس کا تمسخر اڑانے سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ پیشہ ور پیر، موروثی گدی نشین، جادو ٹونے والے جاہل یہ سب لوگوں کی توہم پرستی، کمزور ایمان اور مسائل کے جبر کا فائدہ اٹھا کر آنے والے حاجت مندوں کی جیبیں خالی کرتے، عقیدت مندوں کوگمراہ کرتے اور مختلف ہتھکنڈوں سے اپنی ہوس کی تسکین کرتے ہیں۔ ان کا اللہ پاک کے مقربین، اولیا کرام یا سچی روحانی شخصیات کے ساتھ ذکر ہی بے ادبی ا ور بے انصافی ہے۔ مرشد سڑکوں کے کنارے اشتہار لگائے بیٹھے نہیں ہوتے اور نہ ہی گول مول باتوں سے لوگوں کو ورغلاتے ہیں۔ مرشد تلاش کرنا پڑتا ہے اور یہ تلاش طویل محنت، سچی لگن، استقامت، اللہ پاک سے بار بارالتجا و دعا، زہد و عبادت اور ذکر الٰہی کی آزمائشوں سے گزر کر ثمر آور اور شرمندۂ تعبیر ہوتی ہے۔ بڑےہی خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں منزلِ مقصود جلد مل جاتی ہے لیکن یہ جلد کامیابی بھی بزرگوں کی دعا اور کسی صاحب ِ نظر کا اعجاز ہوتی ہے۔ احترام انسانیت، سراپا محبت اور خلوص کے یہ نمونے برداشت کے سمندر ہوتےہیں جنہیں ہم روحانی شخصیات کہتے ہیں۔ ان کا منتہائے مقصود صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے اور انہیں دنیا کی رنگ برنگی ترغیبات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ جس ہستی کے پاس بیٹھ کر آپ سراپا مودب ہوجائیں، دل ذکر الٰہی کی جانب راغب ہو جائے، طبیعت میں عبادت کا میلان پیدا ہو اور گفتگو غور و فکر کے سانچوں میں ڈھلنے لگے، وہ ہستی صحیح معنوں میں روحانی اور ’’اللہ والا‘‘ ہوتی ہے۔ اگر آپ کا ان کے قدموں میں بیٹھے رہنے کو جی چاہے، آپ تھوڑی سی خود فراموشی کےعمل سے گزر رہے ہوں اور دل کو سکون اور طبیعت کو آسودگی مل رہی ہو تو سمجھ لیں کہ وہ ہستی مرشد ہے۔مرشد کا مطلب رحانی رہنما جو اپنے عقیدت مند کےباطن کی صفائی کرتا ہے اور یہ صفائی بہرحال برسوں پر محیط طویل عمل ہوتا ہے کیونکہ باطن میں تعصب غرور، حسد، انتقام ، دنیاوی عہدوں یا کتابی علم کے گھمنڈ، ہوس و حرص، بغض، جھوٹی انا وغیرہ کے بت توڑنا نہایت محنت اور توجہ طلب عمل ہوتا ہے۔ یہ عمل د ونوں جانب سے یکسوئی، استقامت اور زہد و عبادت کا متقاضی ہوتا ہے اور اکثر قلبی بیعت پر منتج ہوتا ہے۔ کم سے کم میں نے کبھی کسی ولی اللہ کو ظاہراً بیعت کرتے نہیں دیکھا۔ دلوں اور نگاہوں کے یہ رشتے ابدی نوعیت کے ہوتے ہیں اور دونوں جہانوں میں کام آتے ہیں۔ میں نےاپنی گناہگار آنکھوں سے ’’دعا‘‘ کو چٹانوں سےراستہ بناتے اور ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدلتے دیکھا ہے مرشد کی نگاہ اور عقیدت مند کی سچی لگن شرط ہے۔ دنیاوی حرص و ہوس اور لذتوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے شخص کو اللہ کی راہ پر لگادینا ہی کرامت ہے اور یہ ایسی کرامت ہے جو دونوں جہان سنوار دیتی ہے۔ جو شخص کبھی اس راہ کا راہی نہیں رہا، جس کے اندر کبھی یہ تڑپ پیدا ہی نہیں ہوئی، جسے کبھی روحانی کیفیت کا تجربہ ہی نہیں ہوا، وہ کتابی علم کےزور پر پتھر برسائے یا تمسخر اڑائے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ضمیر ملامت کرے تو وہ زندہ ہے، اگرملامت نہ کرے تو وہ مردہ ہے۔ جسے اللہ سبحانہ ٗ تعالیٰ ماننے کی توفیق دے وہ مانےگا جنہیں نہیں ماننا وہ ہرگز نہیں مانیں گے۔ مقصداپنا نقطہ ٔ نظر بیان کرنا اور اپنے تھوڑ ے سے تجربات و مشاہدات شیئر کرنا ہے، بحث و تکرار نہیں۔

.