Raza Ali Abidi - برمی گاؤں سے برمنگھم تک - column - 2017-05-19
| |
Home Page
پیر 29 شوال المکرم 1438ھ 24 جولائی 2017ء
رضا علی عابدی
May 19, 2017 | 12:00 am
برمی گاؤں سے برمنگھم تک

Barmi Gahow Se Birmingham Tak

برمنگھم کہنے کو برطانیہ کا شہر ہے مگر قریب سے دیکھیں تو پاکستان کی کسی بستی جیسا نظر آتا ہے۔ گلیاں کی گلیاں اور بازار کے بازار پاکستان اور آزاد کشمیر کے باشندوں سے یوں آباد ہیں کہ ماشاءﷲ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ پورے پچاس برس ہوا چاہتے ہیں جب میں پہلے پہل برمنگھم گیا تھا۔ اور کیسا عجب اتفاق ہے کہ پچھلے دنوں ایک بار پھر جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ بات جس نے بھی سنی، یہی پوچھا کہ کوئی فرق نظر آیا۔ میں نے کہا ’جی ہاں، یہاں آباد ہمارے ہم وطن پہلے اس شہر کو ’برمی گاؤں‘ کہتے تھے، اب برمنگھم کہنے لگے ہیں‘۔
یہ بات تو خیر یوں ہی جی کو بہلانے کے لئے کہی گئی لیکن سچ تو یہ ہے کہ اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔ دکانیں مال سے اور گاہکوں سے بھری ہوئی تھیں۔ لوگ پہلے سے زیادہ خوش حال نظر آئے۔ پورے پورے کنبے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھا رہے تھے اور کھانا بھی کوئی معمولی نہیں۔ اس میں وہی لاہوری رنگ اور پنجابی ڈھنگ۔ یہی حال لباس کا۔ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ خوش پوشاک دکھائی دئیے۔ اب آپ کو بتاؤں کہ جس نسل کی میں بات کر رہا ہوں یہ کون سی پیڑھی ہے۔ گزرے ہوئے برسوں میں جا بجا یہ منظر دیکھنے میں آتا تھا کہ مہندی سے رنگی داڑھی والے کوئی بزرگ اپنے گھر کے بچوں کو ساتھ لئے مسجد یا مدرسے کی جانب چلے جا رہے ہیں۔ اب میں جس نسل کی بات کر رہا ہوں جو ہوٹلوں میں ذوق و شوق سے کھانا کھا رہی ہے یہ وہی بزرگ کی انگلی تھام کے چلنے والی نسل ہے جس کے ساتھ نیلی جینز پہنے ان کے کم سن بچّے ہیں۔ خواتین ساری کی ساری بالوں کے جوڑے کے اوپر سر کو ڈھانپے ہوئے ہیں۔ برقعے میں کوئی نہیں اور پورا چہرہ ڈھانپے مجھے تو کوئی خاتون نظر نہیں آئیں مگر میرے احباب نے بتایا کہ ابھی ایسے گھرانے موجود ہیں جن کے گھروں کی کھڑکیوں میں دبیز پردے اس طرح پڑے ہوئے ہیں کہ نہ کوئی چڑیا کا بچہ اندر آسکے اور نہ کوئی بچّی باہر جا سکے۔ اور ایسے گھرانے بھی ہیں جو ایک روز خاموشی سے نکل کر شام یا عراق کی جانب چلے جاتے ہیں کہ وہیں جاکر عہد خلافت میں جئیں گے مگر ہے جیتا جاگتا شہر۔ بے پناہ ترقی ہو رہی ہے۔ ہر طرف کچھ نہ کچھ بن رہا ہے۔ گولی کی تیزی سے چلنے والی ریل گاڑی برمنگھم پہنچنے والی ہے۔ اس کے بعد شہر میں سرمائے کا سیلاب آئے گا جس کی تیاری جاری ہے۔ شہر کا ریلوے اسٹیشن کئی گنا بڑا کر دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈہ مسافروں سے بھرا ہوا ہے اور کوچ اسٹیشن کے بارے میں کہتے ہیں کہ گھر سے بھاگنے والی مخلوق کا رخ اُسی جانب ہوتا ہے۔
میں جو گیا تو بلا سبب نہیں۔ برمنگھم میں آبادی کی شرح کی مناسبت سے پاکستان نے بڑا قونصل خانہ قائم کیا ہے۔ وہاں ایک ادبی نشست کا اہتمام تھا۔ یہ تقریب دو حصوں میں تھی۔ پہلے مجھے گفتگو کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنی زندگی کی، جو کہانیوں سے بھری پڑی ہے، چند داستانیں سنائیں۔ دوسرے حصے میں مشاعرہ تھا۔ میری نثر اور شاعروں کی نظم دھیان سے سنی گئی اور سراہی گئی۔ حاضرین میں وہ بزرگ بھی شامل تھے جن کے ساتھ جوانی کے دنوں میں میرا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ پرانی یادیں تازہ کی گئیں۔ آنکھوں کے گوشے ذرا دیر کو تر بھی ہوئے۔ جذباتی وابستگی کا یہ دستور ہے کہ ذہن کے کسی کونے میں چھپی رہتی ہے اور نکلنے کا موقع ملے تو ذرا سا آبدیدہ ہو کر برآمد ہوتی ہے۔ پاکستان کے قونصلر سید معروف نے اس نشست کا اہتمام کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی محفلوں میں نوجوانوں اور بچّوں کو بھی شامل کریں گے۔ اس شام کو عملی جامہ پہنانے والوں میں ہمارے دوست عباس ملک پیش پیش تھے۔ انہیں ہم نے ہمیشہ صحافی ہی دیکھا اور یقین ہے کہ جب تک دیکھیں گے، صحافی ہی دیکھیں گے۔
برمنگھم کے اس سفر کی روداد میں وہ ٹیلی وژن انٹرویو بھی آتا ہے جو ایک چینل کے لئے ریکارڈ کیا گیا۔ اتوار کا روز تھا لیکن وہ عمارت کھلی ہوئی تھی جس میں ٹی وی کا اسٹوڈیو بنایا گیا تھا۔ عمارت کھلی ہوئی یوں تھی کہ عام دنوں میں وہاں بچوں کی عام تعلیم ہوتی ہے لیکن اتوار کے روز وہاں دینی تعلیم کا اہتمام ہوتا ہے۔ راہ داریوں میں کہیں تلاوت کی آوازیں تھیں اور کہیں عربی کی گردان کی۔ انہی کے بیچ وہ اسٹوڈیو تھا جہاں میرا انٹرویو کرنے والا جوان میرے نوجوانی کے رفیق کار اور اردو کے سرکردہ شاعر صہبا اختر کا بیٹا ندیم تھا۔ صہبا تو اپنے زمانے میں راشن کارڈوں کے معائنے پر مامور رہے اور پھر میرے ساتھ اخبار سے وابستہ ہوئے۔ وہ برسہا برس اخباری قطعات لکھتے رہے اور دیکھتے دیکھتے شاعری میں نمایاں مقام بنا لیا۔ ندیم اختر ہر چند کہ باپ کے نقش قدم پر بھی چلے ہیں اور شعر کہتے ہیں مگر قدرت نے انہیں معالج بنا دیا ہے اور وہ بھی انسان کے اعصابی نظام کا ماہر۔ ندیم اپنے پیشے میں بہت کامیاب ہیں اور نام پا رہے ہیں۔ ان کی بیگم کو بھی ایک مہارت حاصل ہے، نہایت عمدہ پائے پکاتی ہیں۔ تین بچے خوب ذہین ہیں اور جی لگا کر پڑھتے لکھتے ہیں۔ صہبا اختر کی روح کہیں مسرور ضرور ہو گی۔
آخر میں پہلی بات پھر دہراتا ہوں۔ میں سنہ اڑسٹھ میں صحافت کی تربیت کے لئے پہلی بار برطانیہ کے شہر کارڈف آیا تھا جو ویلز کا صدر مقام ہے۔ اپنے کورس کے دوران سب طالب علموں کو مل کر ایک چھوٹا سا اخبار نکالنا تھا۔ اس کے لئے ہم سب سے کہا گیا کہ جہاں کا چاہیں سفر اختیار کریں اور اخبار کے لئے کوئی فیچر لکھیں۔ میں نے برمنگھم جانے کی خواہش ظاہر کی جہاں متحد پاکستان کے باشندوں کی بڑی آبادی تھی۔ مجھے ٹرین کا ٹکٹ دے دیا گیااور کچھ زاد راہ بھی۔ میں وہا ں چائے خانوں میں گیا اور کتنے ہی پاکستانیوں سے ملا۔ میں نے ان سے ایک ہی سوال کیا۔ آپ کیا وطن واپس جائیں گے یا اب یہیں برطانیہ میں رہیں گے۔ سب نے ایک ہی جواب دیا۔ جائیں گے، ضرور واپس جائیں گے۔ یہ سنہ اڑسٹھ کی بات ہے۔ دس سال بعد، جب میں بی بی سی سے وابستہ تھا، کسی پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں دوبارہ برمنگھم گیا۔ وہ سارے لوگ دوبارہ ملے۔ کوئی واپس نہیں گیا تھا۔ سارے کے سارے وہیں موجود تھے، مہندی سے رنگی داڑھیوں سمیت۔

.