| |
Home Page
پیر22 ربیع الاوّل 1439ھ 11 دسمبر2017ء
کشور ناہید
May 19, 2017 | 12:00 am
ڈیورنڈ لائن معاہدہ1993 ءمیں ختم پھر اس کے بعد

Dayorand Line Moahida 1993 Mein Khatam Phir Is Ke Baad

ہماری لاعلمی یا جہالت یا غفلت ہمیں بڑے مسائل میں پھنسادیتی ہے۔ آپ کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ انگریزوں نے پاکستان اور افغانستان کی زمینی حدود مقرر کرنے کے لئے 1893میں ڈیورنڈ لائن بنائی۔ یہ لائن بلوچستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ معاہدہ یہ ہوا کہ ڈیورنڈ لائن سو برس تک قائم رہے گی۔ یہ100برس1993میں پورے ہوگئے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان طالبان کی لگائی ہوئی وہ بے مقصد آگ بھڑک رہی تھی کہ طالبان کی دونوں ملکوں میں بے مقصد جنگ جاری تھی۔ پاکستان میں ہر دو سال بعد ،کبھی بے نظیر اور کبھی نواز شریف آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ مگر ان سےپہلے امریکیوں کے چہیتے ضیاالحق گیارہ برس تک مسلط رہے۔ نہ انہوں نے کبھی سوچا اور نہ کبھی اس کے بعد آنے والے بظاہر جمہوریت پرستوں نے زمینی حدود کے تعین کے بارے میں کچھ سوچا۔ افغانی اور قبائلی بہت خوش تھے کہ بغیر کسی روک ٹوک کے، دن میں ہزاروں لوگ بلوچستان سے کے پی تک آتے جاتے،جن میں دہشت گرد بھی شامل تھے۔ اتنے خونخوار مہینوں اور سالوں میں ڈیورنڈ لائن کو دوبارہ مستحکم کرنے یا دونوں ملکوں کے سربراہ سرجوڑ کر ایک دفعہ ڈیورنڈ لائن کا نام بدل کر، باہمی معاہدے کے تحت، اپنی زمینی حدود قائم رکھتے۔ آخر وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ بھی توافغانوں نے بارڈر قائم رکھا ہے۔ ایران کے ساتھ بھی دونوں ممالک کی زمینی حدود قائم ہیں۔ کمال تو پاکستان کی حکومتوں کا ہے کہ افغانی تو چاہتے ہی نہ تھے کہ اس موضوع کو دوبارہ چھیڑا جائے کہ ان کے عیش تھے ان کیلئے کراچی سے خراسان تک آزاد علاقے تھے۔ چاہے وہ ڈرگز کی اسمگلنگ کریں کہ انسانی اسمگلنگ وہ روز بروز شیر ہوتے گئے۔ 2017میں پاکستان میں چمن کے علاقے میں مردم شماری ہونے لگی تو چمن کے بارڈر کے گھروں کے بارے میں شور اُٹھ گیا۔ دونوں ملکوں نے چڑیا چڑے کی طرح لڑنا شروع کیا۔ لوگ دونوں طرف مارے گئے، تو کیا فرض پڑتا ہے۔ یہ کام تو37 برس سے مسلسل ہورہا ہے۔ جب ساری دنیا کی نظریں اُٹھیں اور اشارےہوئے تو دونوں ملکوں کے ٹیمیں، گوگل کے نقشے کی مدد سے حدود کا تعیّن کرنے کے لئے بیٹھیں۔ یہ نقشہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد برلن، مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ کسی گھر کی کھڑکی اُدھر تھی تو صحن اِدھر تھا۔ زمانہ بدلا اور وہ دیوار جسے دیوارِ برلن کہا جاتا تھا، اس کے توڑنے کا فیصلہ ہوا تو لوگ خود وہ دیوار توڑنے لگے۔ گرچہ مشرقی اور مغربی برلن کو ایک ہوئے بیس برس گزرچکے ہیں مگر وہ ذہنی فاصلے اور ترقی کی رفتار یکساں نہیں ہوسکی مگر یہ تو ان کا اپنا علاقائی مسئلہ تھا۔یہ بالکل ایسے تھا جیسے سوویت یونین روس ٹوٹا تو وسطی ایشیا کے حصوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تو بین الاقوامی سرحد تھی اور رہنی چاہئے۔ آسٹریا اور جرمنی میں ایک زبان بولی جاتی ہے اور موسیقار باخ کو دونوں ملک کیا سارا یورپ پسند کرتا ہے مگر دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں قائم ہیں۔ وہ ملک جسے ہندوستان کی فوجوں نے نئے ملک کا نام دیکر بنگلہ دیش بنوایا۔ وہاں بھی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدیں ہیں۔ برما اور بنگلہ دیشی پہاڑی علاقوں میں برمی رہینگیا کے لوگ پناہ لے رہے ہیں کہ ایک زمانے میں ہماری ہیروئن اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی تھی۔آنگ سوچوئی نے چودہ برس قید میں رہنے کے بعدجب عنانِ حکومت سنبھالی تو مسلم قبیلوں سے آنکھیں پھیرلیں۔ پاکستان نے بھی30 لاکھ افغان مہاجرین کی خدمت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ جو افغانی پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں ، وہ یہی رہ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ، دہشت گردی کی خونی جھلک آئے دن نظر آتی رہتی ہے۔ دو سو کنوں کی طرح دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام لگاتےرہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں تھا۔ مولوی فضل اللہ سے لیکر دیگر دہشت گرد افغانستان میں ہیں۔ افغانستان کوئی جواب نہیں دیتا۔ان دونوں ملکوںپر حکومت کرنیوالوں نے ہماری نسلیں بگاڑدی ہیں۔ ہمارے بچوں کی نفسیات برباد کردی ہے۔ دہشت گردی کے بعد سیاست دانوں کی کرپشن کی غضب کہانیاں صبح ہوکہ شام، پرت درپرت کھلتی رہتی ہیں۔ بھٹو صاحب کے خلاف ضیا نے کرپشن کے مقدمات بنانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ یہ جو ہمارے سیاست دان برس ہا برس دبئی میں رہتے ہیں۔وہ مال کہاں سے آتا ہے۔ لندن، جنیوا، یورپ اور امریکہ میں رہنے والوں کی بے انتہا دولت کا حساب اس طرح ملنا ناممکن ہے جیسے پاناما لیکس کا۔ میں نے کینیڈا کے ویزے کیلئے فارم بھرے تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے جب کائونٹر پر کھڑے نوجوان نے کہا میڈم سولہ ہزاردیدیجئے، بالکل اس طرح کہ پٹرول کی قیمت پر روز بڑھنے کے بعد جب ایک ہزار کا ڈلوائو تو آدھی ٹنکی بھی نہیں بھرتی۔ ارے میں سرحدی حدوں سے کہاں چلی گئی۔ بھارت کی طرف سے لوگوں کی محبت اتنی ہے کہ پاکستانی کپڑوں کی دوکانوں کو آگ لگادی گئی؟۔ انگلینڈ کے بنے کپڑے خوشی سے پہن رہے ہیں۔ ہمارے سارے ہمسائے ناراض ہیں۔ غلطی ہماری بھی ہے کہ ہماری کوئی پالیسی نہیں ۔ یہ ساری بددیانتی ایک سال اور کہ ایک سال بعد الیکشن ہونگے۔ اس وقت تک سروے آف پاکستان والے گوگل کی مدد سے پاکستان کی زمینی حدود کا تعین کرلیں گے۔

.