| |
Home Page
بدھ 23 ذیقعدہ 1438ھ 16 اگست 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
قومی اسمبلی، لوڈشیڈنگ، فاٹا اصلاحات پر ہنگامہ، واک آئوٹ، چور چور کے نعرے، باہر پھنکوادوں گا، اسپیکر کا فاٹا رکن کو انتباہ

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ایجنسیاں) لوڈشیڈنگ اورفاٹا اصلاحات ایشو پر قومی اسمبلی میں گزشتہ روز شور شرابا‘ ہنگامہ ‘خواجہ آصف کی جانب سے پی ٹی آئی کی رکن کو بجلی چورکہنے پر شدیداحتجاج‘چورچورکے نعرے ‘اپوزیشن کا واک آؤٹ‘فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کے شورمچانے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے کہا کہ آپ باز نہ آئے تو میں آپ کو ایوان سے باہر پھینکوا دوں گا۔ شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ میں ضرور بولوں گا چاہے مجھے پھانسی لگوا دیں‘ محمود خان اچکزئی کے ریمارکس پر شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے شاہ محمود قریشی اور خورشید شاہ نے محمود خان اچکزئی پر کڑی تنقید کی اور ایوان کا ماحول تلخ ہو گیا۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ حکومت فاٹا بل کو موخر کر رہی ہے جبکہ وزیر سیفران نے ایوان کو بتایا کہ فاٹا اصلاحات اور رواج ایکٹ پروزیر اعظم کا کوئی دبائو نہیں‘ قومی اسمبلی میں جمعرات کو تنازعات کے حل سے متعلق پنچائت سسٹم ‘عوامی نمائندگی ایکٹ ‘گواہوں کے تحفظ و مفادسمیت چھ بلز کی منظوری بھی دی گئی۔گزشتہ روز اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نےکہا کہ دو روز پہلے اس ایوان میں فاٹا اصلاحات کا ایک بل پیش کیا گیا بدقسمتی سے اس پر بہت زیادہ بحث بڑھ گئی ایک ممبر نے جذبات میں یہ دھمکی دیدی کہ یہ بل آیا تو میں پورا سسٹم جام کردوں گا‘اب پتہ چلا ہے کہ بل کی مخالفت کرنے والے ممبر کی وزیراعظم سے بات ہو گئی ہے اور بل نہیں آئے گا۔ حکومت ایک جانب فاٹا کے عوام کو لولی پاپ دے رہی ہے کے ہم بل منظور کرانا چاہتے ہیں دوسری جانب اپنے اتحادیوں کے ذریعے مخالفت کرائی جا رہی ہے‘شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یا تو سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے یا حکومت نے ہوم ورک نہیں کیا۔ اپوزیشن کے تحفظات رواج ایکٹ پر ہیں، کے پی کے میں ادغام کا کوئی مخالف نہیں ہے صرف حکومت کے دو اتحادی اس کے مخالف ہیں‘سیاسی دھمکی کی وجہ سے بل کو موخر نہ کیا جائے‘ خورشید شاہ نے محمود اچکزئی کی جانب  اشارہ کر کے کہا کہ ہم ان کی  انفرادی سوچ کے پابند نہیں ہیں‘فاٹا پاکستان کا حصہ ہے۔ اگر کسی کو پاکستان کا قانون اورآئین پسند نہیں ہے تو میں محمود خان کو کیا کہوں کے وہ کیا کریں‘پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرا لیں یا پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں‘اسپیکر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی رائے انفرادی رائے ہے‘اس دوران ایوان میں کئی ممبران کھڑے ہو گئے اور ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ شاہ محمود قریشی نےمحمود خان اچکزئی سے کہا کہ آپ نے آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا آپ کا دل صاف نہیں ہے آپ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں آپ ہمیں بات کرنے سے روکنے والے کون ہیں۔ ہمیں بات کرنے کا حق ہے آپ اور مولانا دونوں نے دل سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا‘ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ہم انگریزوں کے غلام نہیں ہیں اس کے فیصلوں کو چھوڑیں۔ فاٹا کے نمائندے یہاں بیٹھے ہیں یہ اسمبلی خود مختار ہیں یہ جو فیصلے کرے گی اس کو کوئی نہیں روک سکتا‘وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ہم سب آئین کے پابند ہیں‘بل قائمہ کمیٹی میں جا چکا ہے‘کمیٹی میں بعض ارکان نے اختلاف رائے کیا اور وقت مانگا گیا۔ میڈیا میں تاثر دیا گیا کہ وزیراعظم نے مجھے یہ ہدایت دی ہے کہ اس معاملے کو موخر کر دیا جائے۔ میں واضح کر دینا چاہتاہوں کہ مجھے وزیراعظم نے کوئی ہدایت نہیں دی۔ میں واضح کر دوں کہ فاٹا اصلاحات کا بل ضرور ایوان میں آئےگا۔دریں اثناءایوان میںوفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بجلی چور کہنے پر پی ٹی آئی نے اسمبلی میں شدید احتجاج کیا جبکہ متحدہ اپوزیشن نے وزیر پانی وبجلی سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاہم خواجہ آصف کی جانب سے انکار پر متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی سے واک آئوٹ کرگئی۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف نے اظہار خیال کے دوران کہا کہ گزشتہ روز پیسکو کے خلاف پشاور میں جلوس نکالا گیا جس کی قیادت ہماری ایک ایم این اے کر رہی تھی جبکہ جس فیڈر میں ان کا گھر ہے وہاں 89 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے ٗنظام کا اس سے زیادہ مذاق کیا ہوگا کہ چور احتجاج کریں۔خواجہ آصف کی جانب سے احتجاج کرنے والوں کو چور کہنے پر پی ٹی آئی نے اسمبلی میں احتجاج کیا، پی ٹی آئی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے خواجہ آصف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور نواز شریف چور چور کے نعرے لگائے ٗپی ٹی آئی رکن اسمبلی عائشہ گلا لئی کا کہنا تھا کہ عوام سے پیسے لیے جاتے ہیں لیکن حکومت بجلی دینے میں ناکام ہے جبکہ لوگ حق کی خاطر سڑکوں پر آئیں تو انہیں چور کہاجارہا ہے‘قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاکہ وزیر دفاع نے جو الفاظ بولے ہیں واپس لیں ٗخواجہ آصف نے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا جس کے بعد متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی سے واک آئوٹ کرگئی۔