| |
Home Page
پیر یکم ربیع الاوّل 1439ھ 20 نومبر 2017ء
May 19, 2017 | 12:00 am
کچھ لوگ عالمی عدالت کا فیصلہ پڑھے بغیر خوفزدہ ہوگئے،طلال چوہدری

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ)مسلم لیگ ن کے رہنما  طلال چوہدری نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت ہونی چاہئے لیکن اس سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں کچھ لوگ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پڑھے بغیر خوفزدہ ہوگئے ، خاورقریشی نے بھرپور طریقے سے پاکستان کا کیس پیش کیا، سرتاج عزیز کے پاس وہ پورا اختیار ہے جو کسی وزیر کے پاس ہوسکتا ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان،ماہر بین الاقوامی قانون احمر بلال صوفی اور نمائندہ جیو نیوز ہیگ خالد حمید فاروقی سے بھی گفتگو کی گئی۔پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان  نے کہا کہ حکومت کو عالمی عدالت انصاف میں جانا نہیں چاہئے تھا،پاکستان اگر آئی سی جے میں چلا ہی گیا تھا تو صرف عدالت کے دائرہ اختیار پر بات کرنی چاہئے تھی، نواز شریف ایک سال کلبھوشن پر خاموش رہے اس کی وجہ کیا ہے، نواز شریف ، سجن جندال کی پاکستان آمد کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں۔حامد میر نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق احسان اللہ احسان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ خالد حمید فاروقی نے کہا کہ آئی سی جے کے کلبھوشن کی سزائے موت پر حکم امتناع سے ہندوستان کو عارضی کامیابی حاصل ہوئی ہے، پاکستان عجلت میں کیس کی تیاری کے باوجود بہادری سے اپنا کیس پیش کیا۔احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے عالمی عدالت انصاف کے ابھی کلبھوشن کو پھانسی نہ دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کا پابند ہے، عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار صرف کلبھوشن کو قونصلر رسائی دلوانے تک محدود ہے۔علی محمد خان نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کلبھوشن کیس کو بہت مس مینیج کیا(بگاڑدیا)ہے، پاکستان بغیر تیاری کے عالمی عدالت انصاف میں گیا،حکومت کو عالمی عدالت انصاف میں جانا نہیں چاہئے تھا، پاکستان اگر آئی سی جے میں چلا ہی گیا تھا تو صرف عدالت کے دائرہ اختیار پر بات کرنی چاہئے تھی،عالمی عدالت انصاف پاکستان پر زبردستی فیصلے مسلط نہیں کرسکتی ہے کیونکہ اس کی حیثیت ثالثی عدالت کی ہے، عالمی عدالت انصاف کو فلسطین، کشمیر اور بوسنیانظر نہیں آتا ہے، ججوں نے فیصلے میں ویانا کنونشن کے آپشنل پروٹوکول کی بات کی ہے اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان واضح کرے کہ وہ کلبھوشن کی پھانسی کے حق میں ہے یا نہیں ہے،کلبھوشن کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد فوراً پھانسی کیوں نہیں دی گئی، نواز شریف ایک سال کلبھوشن پر خاموش رہے اس کی وجہ کیا ہے، نواز شریف کو جنرل اسمبلی میں کلبھوشن یادیو کا ذکر کرنا چاہئے تھا، کلبھوشن صرف جاسوس نہیں بلکہ دہشتگرد بھی ہے۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ، سجن جندال کی پاکستان آمد کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں ،کلبھوشن کا کیس فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چلا ہے جس کی اپیل سپریم کورٹ میں نہیں سنی جاتی ہے، اس میں آرمی چیف جو سزا دیتا ہے وہ حتمی ہوتی ہے، پاکستان کو برہان وانی کی شہادت کا کیس آئی سی جے میں لے کر جانا چاہئے تھا، تخت لاہور میں لوگوں کو مارنے والے ریمنڈ ڈیوس کو شہباز شریف نے پچکارتے ہوئے جانے دیا، احسان اللہ احسان نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی ہندوستان کروارہا ہے لیکن وزیراعظم اس پر بھی خاموش ہیں، نواز شریف کلبھوشن کا نام نہیں لے سکتے تو اسے پھانسی کیا خاک دیں گے۔ علی محمد خان نے کہا کہ نواز شریف سے نہیں ان کے طرزِ حکمرانی سے اختلاف ہے، ملک سڑکوں سے نہیں انصاف سے آگے بڑھتے ہیں، ہزارہ میں سی پیک کے پل گر گئے ہیں۔ماہر بین الاقوامی قانون احمر بلال صوفی نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کورٹ آف اپیل نہیں ہے، عالمی عدالت کلبھوشن کو فیلڈ کورٹ مارشل کی سزا ختم نہیں کرسکتی ،نہ ہی اسے چھوڑنے کا کہہ سکتی ہے اور نہ ہی اسے انڈیا واپس بھجوانے کا کہہ سکتی ہے، عالمی عدالت انصاف کا دائرہ کار صرف کلبھوشن کو قونصلر رسائی دلوانے تک محدود ہے، پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں اپنا ایڈہاک جج بٹھانا چاہئے تھا لیکن وقت کم ہونے کی وجہ سے نہیں بٹھاسکا ،پاکستان اب بھی کلبھوشن کیس کیلئے اپنا ایڈہاک جج نامزد کرسکتا ہے۔ احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دوسرے مرحلے کیلئے بھرپور تیاری کرنی چاہئے، دوسرے مرحلے میں کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان میں انڈین مداخلت کی دستاویز اور اس کے اعترافی بیان کو پیش کیا جاسکتا ہے، پاکستان کلبھوشن کے بتائے شواہد تک رسائی کیلئے انڈیا کو خط بھی لکھ چکا ہے، پاکستان بھارت کیخلاف ڈوزیئر پیش کرنے کیلئے بین الاقوامی پلیٹ فارمز ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، عالمی عدالت انصاف ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں پاکستان کو تمام چیزیں پیش کرنی چاہئیں۔احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے عالمی عدالت انصاف کے ابھی کلبھوشن کو پھانسی نہ دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کا پابند ہے، آئی سی جے سلامتی کونسل کے ذریعے فیصلے پر عملدرآمد کرواسکتی ہے، پاکستانی وکیل کی تیاری کم ہونے کی وجہ وقت کم ہونا ہوسکتی ہے، خاور قریشی کو پاکستان کا موقف بیان کرنے کیلئے دستیاب وقت پوری طرح استعمال کرنا چاہئے تھا، ایران میں پاکستانی سفارتخانہ اڑانے کی سازش کی تحقیقات پاکستان او ر ایران کو مشترکہ کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کا معاملہ آئی سی جے میں لے جاکر انڈیا پاک بھارت تنازعات باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے موقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے، اس صورتحال میں یہ فورم کشمیر سمیت دیگر معاملات کو بھی دیکھ سکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ کچھ لوگ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پڑھے بغیر خوفزدہ ہوگئے ہیں، انڈیا کے کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف میں لے جانے پر ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے، کلبھوشن کو سزا تو کسی وقت بھی ہوجائے گی اصل اہمیت یہ ہے کہ ہمیں دنیا کو بتانے کا موقع مل رہا ہے کہ انڈیا پاکستان میں دہشتگردی کروارہا ہے، کلبھوشن یادیو کو سزائے موت ہونی چاہئے، ہمارا کیس کمزور نہیں لیکن کلبھوشن کو پھانسی سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں، کلبھوشن کے پاس ابھی سپریم کورٹ میں اپیل کا وقت باقی ہے۔