| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
May 20, 2017 | 12:00 am
ترقی پر سیاست نہیں، نواز شریف، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ منظور، صوبوںکا حصہ دس فیصد زیادہ

Todays Print

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ )قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2017-18کیلئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی جبکہ اقتصادی ترقی کے ہدف کو آئندہ مالی سال کیلئے 6؍فیصد تک مقرر کردیا۔ اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 2113 ارب روپے کی منظوری اور ترقیاتی بجٹ میں صوبوں کا حصہ 10فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔یہ منظوری جمعہ کے روز وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا پرویز خٹک ، وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء زہری، گورنر خیبر پختونخوا ،وزیر اعظم آ زاد جموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الر حمن کے علاوہ وفاقی اور صو بائی وزراء نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے ایجنڈے پر سب کو ایک ہونا چاہیے اور اس معاملہ پر سیاست نہیں ہونا چاہیے، پا کستا ن کی ترقی ہر پاکستانی کی خوشحالی ہے اور اس ترقی کی منصوبہ بندی میں عوامی مفاد ترجیح ہونا چاہیے۔بعد ازاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات احسن اقبال نے اجلا س کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کی اقتصادی ترقی بحالی کی جانب گامزن ہو چکی، ترقیاتی بجٹ میں انفراسٹرکچر کیلئے 411، این ایچ اے کیلئے 320 ، توانائی منصوبوں کیلئے 404 اور سی پیک کیلئے 180ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 2113 ارب روپے کی منظوری دی گئی جس میں  پنجاب کیلئے 600 ارب روپے سندھ کیلئے263  ارب روپے، خیبرپختونخوا کیلئے 202   ارب روپے اور بلوچستان کیلئے  75ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 2 ہزار ایک سو 13 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا۔آئندہ مالی سال کے لیے مختص کی گئی یہ رقم رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ 16 کھرب 75 ارب روپے کے مقابلے میں 4 کھرب 38 ارب روپے زیادہ ہے۔آئندہ مالی سال کے لیے اس ترقیاتی بجٹ میں وفاق کے لیے 10 کھرب 1 ارب روپے جبکہ صوبوں کیلئے 11 کھرب 12 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں، اسکے علاوہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت ایک کھرب 35 ارب روپے خصوصی اقدامات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ وفاق نے آزاد کشمیر کے بجٹ میں 10ارب اضافہ کر دیا ہے، اس اضافے کیساتھ قومی اقتصادی کونسل نے آزاد کشمیر کے بجٹ کا حجم 12سے بڑھا کر 22ارب کردیا ، اسکے ساتھ ہی قومی اقتصادی کونسل نے 2017-18 کیلئے پی ایس ڈی پی اور سالانہ پلان کی منظوری د یدی ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی اعشاریے نما یاں طور پر بہتر ہوئے ہیں جس کا ریٹنگ کرنے والے عالمی اداروں نے بھی ا عتراف کا ہے۔ 5.28 فی صد گروتھ ریٹ قابل ستائش ہے۔ پا کستان تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ وفاقی اور صو بائی حکو متیں ملک کی ترقی کیلئے ہم آہنگی سے کام کر رہی ہیں۔ سی پیک پراجیکٹس تیز رفتاری سے مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم توا نائی کے منصو بوں پر دے رہے ہیں۔نہ صرف بجلی کی سپلائی ہماری تر جیح ہے بلکہ ہم صارفین کو سستی بجلی دے رہے ہیں۔ہماری توجہ بجلی کی پیداوار کے تمام ذرائع پر انحصار کر کے توازن پیدا کرنا ہے جن میں ایل این جی ، کوئلہ ، پن بجلی، شمسی توانائی اور ونڈ انرجی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انفرا سٹرکچر ترقی کی کنجی ہےاور ہم سڑکوں اور موا صلاتی نیٹ ورک پر توجہ مر کوز کئے ہو ئے ہیں۔ترقی کی منصوبہ بندی میں عوام کی سہولت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 2012-13 کے مقابلے میں 2017-18 میں پی ایس ڈی پی میں صو بوں کا حصہ تین گنا بڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فا ٹا ، گلگت بلتستان اورآزاد جموں و کشمیر بھی ہمارے لئے اتنے ہی اہم ہیں جتنے چاروں صو بے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تعلیم اور صحت کے دیہی تر قیاتی منصو بوں اور دیگر سماجی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔