کلبھوشن کیس آئی سی جے کے دائرہ کارمیں آتاہے‘بیرسٹرزاہدجمیل
| |
Home Page
جمعہ 27 رمضان المبارک 1438ھ 23 جون 2017ء
May 20, 2017 | 12:00 am
کلبھوشن کیس آئی سی جے کے دائرہ کارمیں آتاہے‘بیرسٹرزاہدجمیل

Todays Print

کراچی(جنگ نیوز)بین الاقوامی قوانین کے ماہر بیرسٹر زاہد جمیل نے کہاہے کہ کلبھوشن کیس آئی سی جے کے دائرہ کارمیں آتاہے‘پاکستان کا عالمی عدالت میں کیس کی پیروی کرنا درست فیصلہ تھا ‘نہ جاناغلطی ہوتی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جیونیوزکے پروگرام ’’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ ‘‘میں میزبان سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔پروگرام میں لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان،پیپلز پارٹی کی رہنما روبینہ خالد اور پی ٹی آئی کی رہنما عائشہ گلالئی سے بھی گفتگو کی گئی۔خرم دستگیرکا کہناتھاکہ رواں ہفتے ریکارڈ 17ہزارمیگاواٹ بجلی حاصل کی گئی۔اس سوال پر کہ پاکستان نے مارچ 2017ء میں جو آئی سی جے کا دائرہ کار قبول کیاتھاشرائط کے ساتھ اس نے ہمارا معاملہ تباہ کیا‘ اگر ہم ایسانہ کرتے توشاید ہم آج خوشیاں منارہے ہوتے اور ہندستان کے اندرسوگ منایا جارہاہوتا۔بیرسٹرزاہدجمیل نے کہاکہ میں یہ بات واضح  کردوں کہ جو یہ سازشی نظریہ گردش کررہاہے کہ کہیں کسی طرح انڈیا کے ساتھ مل تونہیں گئےیہ دیکھیں کہ جو کیس چل رہا ہے جو آئی سی جے کے آرٹیکل 36ایک کے مطابق چل رہاہے جس کے اندر آئی سی جے کے پاس چاہے کچھ بھی اقوام متحدہ کا قانون یا معاہدہ موجود ہے تو اس کے پاس دائرہ کارموجودہے ‘اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی یہ جو declearationدی گئی تھی36دو کی یہ ان معاملات میںدی گئی تھی کہ اگر کوئی ایسا معاہد ہ  ایسی کوئی treatyہو جو basically UN system کے پارٹ نہ ہو جو آئی سی جے کی jurisdiction Alreadyاس کو دی نا گئی ہو تو وہ ایک مکمل طورپرمختلف معاملہ ہے ‘ اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور میںتو ایک اور بات آپ سے کہوں گا دیکھیں انڈیا نے تو 1974میں36دو پر اپنی declearationدے کر اپنے مفادات کا تحفظ کرلیا ‘ ہماری گورنمنٹ تو اب تک بیٹھی ہوئی تھی یہ تو شکر ہے آجکہ ہم نے 2017میں جا کر اس کو Protectکے لیے کے36دو کے اندرجو دوسرے کیسز ہوتے ہیں یہ والا کیس نہیں ہے دوسرے کیسز ہیں ا س میں اپنی protectionکرلی۔طلعت حسین… تو اگر میںآپ پوچھوں کہ اس قانون یا declearationکے اندر تحت جس کا بڑا چرچہ ہے پاکستان میں جو پہلے بڑا سخت تھا 2017کے اندر ہم نے اس کو نرم کیا اگر اس کا اطلاق نہیں ہوا تو پھر جس قانون کا اطلاق ہوا اس میں کیا ہمارے پاس یہ آپشن تھا کہ ہم آئی سی جے کو کہتے کہ جی ہم اپنی راہ لیں ہم نے نہیں آنا آپ کے پاس؟بیرسٹر زاہد جمیل… نہیں جی یہ بالکل possibleنہیں ہے کیونکہ پاکستان جو ہے انڈیا کی طرح اور دوسرے ممالک کی طرح پاکستان یو این سسٹم اور یو این کا جو سسٹم ہے اس کا ممبر ہے اس سے نکلا نہیں جاسکتا‘ہم نے قونصلررسائی کا معاہدہ بھی سائن کررکھاہے ‘لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھئی ہم گئے کیوں یہ غلط بات ہے ہمیں جانا پڑتا ‘ہماراجانا اور ڈکلیئریشن غلطی تھی یہ بے بنیادباتیں ہیںکیو ں کہ یہ عالمی قوانین کے خلاف ہیں بلکہ شکر ہے ہمارے لوگ گئے انہوں نےthey put up a fightہاں ا س میں کیا کہا جاسکتا تھا کیا چیزیں اور arguments کی جاسکتی تھیں اور ہمیں دیکھنا ہے کہ اور Argumentsکیا ہوں گی ا س میں بات کی جاسکتی ہے۔طلعت حسین … اس پر میںآتا ہوں پہلے ذرا یہ بڑے بڑے معاملات ہیں ا سکو میں نکال دوں رستے میں سے یہ فرمائیے گا کہ بین ا لاقوامی انصاف کی عدالت نے ہمارے ساتھ کیا کیااس کے یہ جو itnterimیہ جو judgmentاس نے کیا ہمارے قانونی عمل کو مکمل طور پر null and voidکردیا ہے زائل کردیا ہے کہ جس کے ذریعے ہم نے کلبھوشن یادویو کو trial کیا اور موت کی سزا دی اب ہمارے ہاتھ بندھ گئے ہیں کچھ نہیں کرسکتے کیا ہوا کیا ہے  ہمارے ساتھ۔بیرسٹر زاہد جمیل… دیکھیں جی جیسے پاکستان میں اس طرح سمجھانے کی کوشش کروں گا کیوں کہ ہمارا اپنا کورٹ کا سسٹم اس طرح ہوتا ہے جو پہلی dateمیں کسی چیز پر اسٹے مل جاتا ہے نہ اسی طرح کی activiityہوئی ہے کہ پہلی date پر کہہ دیا کہ  یار ابھی ذرا رک جاؤ انتظار کرلو پہلے ہم decideکریں گے آپ کے ایشوز کو ا سکے بعد ہم فائنل آرڈر دیں گے پھر اس وقت تک کچھ کرنا نہیں اس میں یہ کہیں نہیںلکھا ہوا کہ excutionنہیں ہوسکتی ہےeventuallyکہیں یہ نہیںلکھا ہوا کہ پاکستان کی وقار یا کسی طرح impactہوگئی ہو یہ basicallyایک interimآرڈر جو صرف یہ کہہ رہا ہے کہ for the momentابھی جب تک ہم یہ کیس پورا سن نہیں  لیتے ہیں آپ kindlyیہ exucutionکو نہ کیجیے گا بس اتنی سی بات کی گئی ہے ہمارے سسٹم ہمارے کورٹس اس کو مطلب ایسا کوئی impactنہیںآیا ہے ۔بیرسٹر زاہد جمیل… ہاں tensionضرور ہے اگر ہم صحیح طریقے سے نہ بحث کریں کیونکہ جو انڈیا کا کیس ہے وہ صرف یہ نہیں ہے کہ کائونسل accessنہیں ملی اور detentionمیں رکھا گھا ان کا کیس یہ ہے council accessنہ ملنے کی وجہ سے جو ٹرائل ہواہے وہ خطرے میں پڑے گی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس نے یہ کہا کیسے یہ adviseملی کہ بھئی اس انسان کائونسل accessنہیں دی جائے کہ ہم انٹر نیشنل لاء کی خلاف ورزی کریں یہ بڑا سوال تو ہم نے اپنے آپ سے پوچھنا ہے کہ ہم نے یہ غلطی کیوں کی ۔ طلعت حسین …ذرا اسی نکتہ پر رہیے گا یہ بڑا اہم نکتہ ہے کیونکہ اگر اس نکتے کی وجہ سے اس عدالت کی طرف سے وہ فیصلہ آیا جس کی ہر طرف دھوم ہے تو ہمیں اس کے اوپر رکنا چاہیے نکتہ جو ہے وہ بحث کے درمیان نہیں اٹھا نکتہ بحث سے پہلے اٹھا جب کلبھوشن یادیو کا ٹرال کیا گیا اور جو سفارتکار ہیں ان کو جس معاہدے کے تحت چاہے وہ باہمی ہو یا بین الاقوامی ہو اپنے شہریوں تک پہنچنے کا حق حاصل ہے وہ حق ہم نے نہیں دیا تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر council accesدے دی جاتی تو شاید یہ جو ججمنٹ ہے مختلف ہوتی ؟بیرسٹرزاہد جمیل …جناب وہ انڈیا اس کورٹ میں جا ہی نہیں سکتی تھی ہم نے غلطی کی اگر ہم وہ ساری rightsجو VCCRمیں جو conventionہے کائونسل accessکی ا س میں دی ہوتی کہ جی اس کو اپنی rightsبتا نی ہے اس کو وکیل دینا ہے اور basicallyکائونسل accessاس کے جو stateکا اس کو دینا ہے ایک اور بھی چیز ہے اگر وہ یہ کہتا کہ مجھے کائونسل accessنہیںچاہیے وہ denyکردیتا ہے تو پھر بھی وہ معاملہ طے ہوسکتا تھا اس کے کافی سارے solutionsتھے مجھے نہیں سمجھ آرہا اور مجھے ہوسکتا ہے پتا نہیں اس میں کوئی پوچھا جائے ان لوگوں سے جنہوںنے یہ adviseدی تھی کہ بھئی کیوں کیا یہ ۔طلعت حسین … یہ ٹرائل کے اندر کیا ہندوستان کی ہائی کمیشن کو accessدینا آپ کے خیال میں کوئی خطرے کا باعث بن سکتا تھا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کو ناجانے ہندوستان کیسے exploitکرتا اور ٹرائل کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہوتیں اب تو خیر وہ ہورہی ہیں اس ججمنٹ کے نتیجے میں لیکن آپ کے خیال میں کائونسل accessدینے میں کسی قسم کا ٹرائل کی صحت پر اثر نہیں پڑنا تھا بلکہ ہمارے ہاتھ بین الاقوامی طور پر مضبوط ہونے تھے۔بیرسٹر زاہد … دیکھیں کائونسل accessکا مطلب یہ نہیں کہ ٹرائل میں موجود ہوں کائونسل accessکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ساتھ اس لیٹے رہیں سوتے رہیں اس کے ساتھ ہر ہوتے رہیں ، کائونسل accessیہ ہے کہ اسے میٹنگ کی اجازت دی جائے بس اور کچھ نہیں ہے اس کو manageایک ایسے طریقے سے کیا جاسکتا تھا کہbasicallyسیکورٹی کا رسک نہ ہو یہ سوچنا چاہیے تھا دوسری بات یہ ہے کہ کیونکہ ہم یہ ایک طرح سے insecurityپیش کررہے ہیں کہ نہیں نہیں آپ نہیں مل سکتے نہیں نہیں بھائی ہم اس کو closeٹرائل کریں گے ہم آپ جتنا انٹر نیشنل lawاس کو respectنہیں کرتے violateکریں گے اور ہم کرکے دکھائیں گے اس سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ ہمیں اپنے ہی کیس میں confidenceنہیں ہے یہ imressionجس بھی adviseسے گئی ہے غلط adviseدی گئی تھی ہمیں اپنے کیس کے بارے مضبوط ہنا چاہیے confidentہونا چاہیے تھا اور ہمیں اس چیز کو ایسے ڈیل کرنے چاہیے تھا claverly underinternational lawاس طرح نہیں ۔