| |
Home Page
جمعرات 25 ربیع الاوّل 1439ھ 14 دسمبر2017ء
افتخار احمد
May 20, 2017 | 12:00 am
ناعاقبت اندیشی

Na Aaqibat Andeshi

اسّی کی دہائی میں ہم جیسے کئی لوگوں نے اس وقت کے عقل کل صدر پاکستان جناب ضیاء الحق اور ان کے رفقا کار کو یہ بات سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں کی جانے والے دخل اندازی کے اثرات ہماری ریاست کے لئے کسی طور بھی مفید نہیں ہوں گے۔ لیکن اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھے افراد نے پہلے تو روس کی گرم پانیوں تک رسائی روکنے کو افغانستان میں اپنی مداخلت کا سبب بتایا اور پھر جب روس افغانستان سے نکل گیا تووہ نہ جانے کہاں سے ا سٹریجک ڈیپتھ کا تصور ڈھونڈ لائے۔ آسان الفاظ میں اس اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا مقصد افغانستان میں ایک ایسی حکومت کا قیام تھا جو بھارت سے جنگ کی صورت میں پاکستان کی حمایت کرے۔ بھارت سے جنگ تو اب تک نہیں ہو پائی لیکن اس چکر میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔آج ہمارے بیشترہمسایہ ممالک سے تعلقات کشیدگی کے مختلف درجات پر ہیں۔
افغانستان کے اندرونی معاملات میں سالہا سال سے مداخلت کے باعث آج نہ صرف افغانستان کی حکومت بلکہ عوام کا ایک بڑا حصہ بھی مخالف جذبات کا کھل کراظہار کر رہا ہے ۔افغان حکومت متعدد بار ملک میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرا چکی ہے۔ موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو کہ اپنی صدارت کے اوائل دنوں میںبرادر ملک کہتے تھے اب پاکستان کے بارے میں اپنی رائے کو یکسر تبدیل کر چکے ہیں۔ ماضی میں ہماری ریاست نے افغان طالبان کی مدد کی بلکہ ان کی حکومت کو تسلیم بھی کیا آج بھارت افغانستان میں نہ صرف موجود ہے بلکہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف شرپسندانہ کاروائیاں بھی کر رہا ہے۔ کابل میں افغان پارلیمنٹ کی بلڈنگ بھارت کی جانب سے تعمیر کی گئی، اس کے علاوہ کان کنی سے لے کر بجلی کے لئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں تک بھارت افغانستان میں اربوں ڈالر کے منصوبوں پرکام کررہا ہے اور مستقبل میں افغان حکومت کے ساتھ دفاعی نوعیت کے معاہدے بھی متوقع ہیں۔
معاملہ اب صرف افغانستان سے تعلقات خراب ہونے تک محدود نہیں رہا، ہمارا دوسرا ہمسایہ ملک ایران بھی پاکستان سے کچھ زیادہ خوش نہیں دکھائی دے رہا۔ پچھلے دنوں ایران کی افواج کے سربراہ نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ ایرانی فورسز دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ کرنے کے لئے پاکستان اور ایران کے مابین سرحد کو پار کر سکتی ہیں۔ اگرچہ ایرانی فورسز کے سربراہ کے اس بیان کے بعد سفارتی سطح پر ایران نے اس معاملے کو کچھ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے حالات کی خرابی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ حالات کی اس خرابی کی ایک وجہ پچھلے ماہ سرحدی علاقے میں ایرانی بارڈر سیکورٹی فورس پر ہونے والے حملہ بھی ہے ۔اس حملے میں ایرانی بارڈر فورس کے دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بارڈر سیکورٹی فورس پر فائرنگ پاکستانی حدود سے کی گئی اور یہ حملہ جیش عدل نامی تنظیم نے کیا، جو کہ اس سے قبل بھی ایران میں تخریبی کاروائیاں کر چکی ہے۔ ایران اس سے قبل بھی پاکستان سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ جیش عدل اور اس جیسی دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پچھلے دنوں ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیر اعظم نواز شریف سے ہونے والی اپنی ملاقات میں بھی اس بات پرزور دیا تھا کہ چونکہ دہشت گردی سے پاکستان کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے لہذٰا اس عفریت کا مقابلہ کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود جیش عدل کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کرے۔ اس ملاقا ت میں وزیر اعظم نے ایران کو یہ یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر اضافی سیکورٹی کا بندوبست کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
افغانستان اور ایران دونوں ہی پاکستان کو اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا کسی طور قصور وار سمجھتے ہیں۔ افغانستان کی حکومت پہلے تو صرف پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتی تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے افغانستان کھل کر ریاست پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کاالزام بھی لگا رہی ہے۔ اب ایران بھی پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک ہمارے بارے میں یہ تاثر رکھتے ہیں؟ کیا ان ممالک کی جانب سے صرف بہتان تراشی سے ہی کام لیا جا رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہماری ریاست نے اس بیانیے کو جو پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست بتاتا ہے، تبدیل کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ ہماری ریاست، عوام اور فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں ان کے باوجود آخر کار کیا وجہ ہے کہ ہمیں ایسے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟
مشہور مثال ہے کہ جہاں آگ ہوتی ہے دھواں وہیں سے اٹھتا ہے، کیا الزامات کے اس دھویں کے پیچھے کوئی آگ تو نہیں ہے؟ کیا ہمارے پالیسی ساز ادارے پھر سے اسی کی دہائی کی طرح ہمیں کسی ایسی آگ میں تو نہیں جھونک رہے جس کے اثرات ہمارے معاشرے پر اگلی کئی دہائیوں تک رہیں گے؟ کیا ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے پھر سے اپنے ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کر رہے؟ ہم ایک دشمن ملک سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لئے افغانستان کی دلدل میں اتر ے تھے لیکن آج ہم بری طرح اس دلدل میںدھنس چکے ہیں۔ وقت آگیا ہے ہم اب اپنے گھر کو درست کرنے کی کوشش پر بھرپور توجہ دیں،اسی ہزار افراد گنوا کر بھی اگر ہم تاریخ سے سبق نہ سیکھیں تو ہم سے زیادہ کوئی ناعاقبت اندیش نہیں ہو گا۔

.