| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
عدنان رنداھاوا
May 20, 2017 | 12:00 am
جمہوری فیصلہ سازی اور عوامی مباحثہ

Jehmoori Faisla Sazi Aor Awami Mubahisa

جمہوریت کی روح یعنی جمہوری فیصلہ سازی کا عمل عوامی مباحثے (Public Debate) یا کھلے مباحثے (Open Debate) کے بغیر ناممکن ہے۔ آمریت اور مطلق العنانیت میں بھی فیصلے بحث مباحثے کے بعد ہی ہوتے ہیں لیکن یہ بحث مباحثہ آمر یا بادشاہ کے ایک قریبی حلقے جسے کوئی عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا، کے اندر محدود ہونے کی وجہ سے عوامی مباحثہ نہیں کہلا سکتا۔ اس قسم کے بحث مباحثے کا فوکس اور مطمع نظر آمر یا مطلق العنان بادشاہ کا مفاد ہوتا ہے۔ جبکہ جمہوری فیصلہ سازی کا فوکس اس بات پر ہوتا ہے کہ جمہور کا مفاد کس فیصلے سے وابستہ ہے۔ کیونکہ آمر یا مطلق العنان بادشاہ کا وجود ہی عوامی منشا کے بغیر زبردستی عوام پر حکومت کرنے پر ہوتا ہے اسلئے قوی امکان رہتا ہے کہ جو فیصلہ آمر یا مطلق العنان کے مفاد میں ہو گا وہ عوام کے مفاد کیخلاف ہو گا۔
تھیوری کی حد تک جمہوری فیصلہ سازی عوامی بحث مباحثے کا نتیجہ ہوتی ہے اور یہ بحث مباحثہ منتخب وزیر اعظم یا صدر کے قریبی حلقے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس مباحثے میں عوام کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ جدید جمہوریت نے عوام کو فیصلہ سازی کے مباحث میں شامل کرنے کے کئی طریقے ایجاد کئے ہیں۔ مثلا سب سے پہلے تو ابتدا سے ہی مجوزہ منصوبے کی مکمل تفصیل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے جب تک مجوزہ منصوبہ ہی جمہور کو معلوم نہیں تو وہ بحث کس چیز پر کرے گی۔ پھر اس مجوزہ منصوبے پر بحث مباحثے کے مختلف فورم ہیں۔ منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمان سب سے اہم فورم ہے۔ پھر پارلیمان کی سب کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ اس مجوزہ منصوبے سے متاثر یا مستفید ہونے والے صوبوں کی اسمبلیاں ایک دوسرا اہم فورم ہیں۔ تیسرا اہم فورم میڈیا ہے جس میں پھر خبروں، تحقیقی مضامین، کالموں، ٹی وی مذاکروں، ٹاک شوز میں اس منصوبے کے تمام اہم پہلو زیر بحث آتے ہیں۔ پھر مختلف سروے اور فیڈ بیک پروگراموں کے ذریعے رائے عامہ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ عملی طور پر بہر حال یہ مشاہدہ سامنے آیا ہے کہ مخصوص اندرونی و بیرونی مفادات ان تمام فورمز پر کسی نہ کسی شکل میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور عوامی مباحثے کو مخصوص سمت دینے کے درپے رہتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد سوشل میڈیا کی شکل میں زیادہ آزاد اور عوامی میڈیا سامنے آیا ہے (اسی لئے مخصوص مفادات اب سوشل میڈیا کو کنڑول کرنے کیلئے کالے قوانین بنوا رہے ہیں) ۔ نظری اور عملی جمہوریت کے امتزاج کے بعد جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سارے عمل کے بعد بھی فیصلہ سازی سو فیصد عوامی مفاد میں نہیں ہوتی اور مخصوص مفادات اپنا کام دکھانے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں لیکن جدید جمہوریت کی بدولت یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے فیصلہ سازی زیادہ سے زیادہ عوامی مفاد کے تابع ہو سکتی ہے۔
یہ خوش کن نقشہ تو نظری یا خیالی جمہوریت کا ہے یا پھر چند ایک جدید اور ترقی یافتہ جمہوریتوں پر صادق آتا ہے لیکن ایسے ملک جہاں جمہوریت ابتدائی مراحل میں ہے، کمزور ہے، بناوٹی ہے یا پھر ایک دھوکہ ہے، وہاں حالات کافی مخدوش ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی جمہوریت ایسی ہی ایک مثال ہے جہاں جمہوری قائدین اور جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کو جب بھی موقع ملا انہوں نے حتی الوسع کوشش کی کہ فیصلے عوامی مفاد کے بجائے انکے سیاسی، شخصی یا خاندانی مفادات کے مطابق ہوں۔ بلکہ یہاں تک کہا جا سکتا ہے جمہوری قائدین اور سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نعرے کو عوام کو دھوکا دینے کےلئے استعمال کیا ہے۔ سمجھنے کیلئے ایک تازہ مثال سے کافی مدد ملتی ہے۔ موجودہ جمہوری حکومت سی پیک کو اپنا طرہ امتیاز بتاتی ہے لیکن سی پیک کے حوالے سے فیصلہ سازی کو اتنا خفیہ رکھے ہوئے ہے کہ شاید کسی آمریت میں بھی ایسا نہ ہوتا۔ سی پیک کے بارے میں عوامی معلومات کا یہ عالم ہے کہ سی پیک کے تحت کچھ منصوبے مکمل ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے سربراہ احسن اقبال نے ٹویٹ کیا کہ لانگ ٹرم پلان پر چند روز پہلے چینی حکومت کے ساتھ حتمی مشاورت مکمل ہو گئی ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ وزیر اعظم کے حالیہ دورے میں شاید حتمی دستاویز پر دستخط بھی ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک عوام کے سامنے سرکاری طور پر کوئی دستاویز نہیں رکھی گئی۔ اگر چینی حکومت کے ساتھ حتمی مشاورت مکمل ہو چکی ہے یا حتمی دستاویز پر وزیر اعظم دستخط کر چکے ہیں اور اس دستاویز پر آج کےدن تک کوئی عوامی مباحثہ نہیں ہوا تو کیا سی پیک پر فیصلہ سازی کو جمہوری فیصلہ سازی کہا جا سکتا ہے؟ میں کیسے مان لوں کہ جو فیصلے عوام سے چھپا کر انتہائی راز داری سے کئے گئے ہیں وہ عوامی مفاد کے تابع ہیں؟ یہ بات ممکنات میں شامل ہی نہیں۔ چند روز پہلے میڈیا میں سی پیک کے حوالے سے ایک مجوزہ دستاویز لیک ہوئی تو احسن اقبال کبھی ایک بیان دیتے کبھی دوسرا، کبھی ایک جواز تراشتے کبھی دوسرا۔ سب سے کمزور جواز انہوں نے یہ دیا کہ چین کے ساتھ حتمی مشاورت کے بغیر ہم مجوزہ دستاویز عوام کے سامنے نہیں رکھ سکتے تھے۔اگر مجوزہ پلان لیک نہ ہوتا تو وہ یہ عذر بھی نہ دیتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حتمی مشاورت مکمل ہونے سے پہلے ہی تو عوامی بحث مباحثہ ہونا تھا، دوسرا پہلو یہ ہے کہ حتمی فیصلہ عوام نے پارلیمانی اور صحافتی بحث مباحثے کے بعد عوام کوکرنا تھا اور تیسری بات یہ ہے کہ انہیں جواب دینا چاہئے کہ حکومت کو مینڈیٹ عوام نے دیا ہے یا چینی حکومت نے، کوئی ہمارے اندرونی عوامی مباحثے پر کسی حیثیت سے پابندی لگا سکتے ہیں؟ لیک ہونے والے مجوزہ پلان میں زراعت، "سیاحت" اور چند دیگرشعبوں کے منصوبوں کے بارے میں عوام نے پہلی دفعہ سنا اور جو کچھ سنا اس نے بہت سے سوالات کھڑے کئے اور چند سوال تو بہت ہی سنجیدہ اور تشویشناک۔ سی پیک پر اس حکومت نے جو کچھ کیا ہے اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو لیکن ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اس کی مدد سے عوام کو جمہوری فیصلہ سازی اور غیر جمہوری فیصلہ سازی کا فرق سمجھنے میں بہت آسانی ہو گئی ہے۔

.