| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
رضا علی عابدی
June 02, 2017 | 12:00 am
وہ جو ہماری بچّی کی خاطر جان سے گئے

Woh Jo Humari Bachi Ki Khatir Jaan Se Gaye

پچھلے دنوں ایک عجب واقعہ ہوا۔ واقعہ چھوٹا سا تھا۔ اب تو بڑے بڑے واقعات نے ہم پر اثر کرنا چھوڑدیا ہے۔ ہم پر کچھ گزر جائے تو دو چار روز نڈھال رہتے ہیں۔ اس کے بعد یوں لگتا ہے جیسے کچھ ہواہی نہیں۔ یہی سوچ کر خیال آتا ہے کہ یہ چھوٹا سا واقعہ بیان کروں یا نہیں۔ پھر سوچتا ہوںکہ کسی دور دراز گوشے میں ، کہیں دریاؤں کے پار، پہاڑوں کے پچھواڑے شاید کسی کے دل میں یا دماغ میں ایک چھوٹا سا دیا روشن ہوجائے۔ وہ کرن پھوٹے، وہ اجالا پھیل جائے جس کی آس لگائے کتنی ہی نسلیں آئیں اور چلی گئیں۔ اب سنئے وہ واقعہ۔
امریکہ کے شہر پورٹ لینڈمیں ایک سہ پہر دو نوجوان لڑکیاں ٹرین میں سوار ہوئیں۔ ان میں سے ایک مسلمان تھی ۔ اس نے سر ڈھانپ رکھا تھا۔ ٹرین میں کئی لوگ سوار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود ایک شخص نے ، جس کا نام کرسچئن ہے، لڑکیوں پر آوازے کسنے شروع کئے۔ وہ چلّایا ’ سارے مسلمانوں کو مارد ینا چاہئے۔ پولیس کے ایک افسر نے بھی تصدیق کی کہ یہ شخص چیخ رہا تھا، چلّا رہا تھا، اس کی باتوں سے نفرت ٹپک رہی تھی اور رویئےسے بہت متعصب لگتا تھا۔ دونوں بے بس لڑکیاں سہمی سمٹی کھڑی تھیں۔ اس پر ٹرین میں موجود تین امریکی آگے بڑھے اور انہوں نے لڑکیوں کی مدد کرنی چاہی۔ ان میں سے ایک امریکی نے اس مشتعل شخص سے کہا کہ تم ان پر اس طرح نہیں جھپٹ سکتے، دونوںبچّیاں ہیں۔اس پر وہ شخص لڑکیوں کے طرف داروں پر ٹوٹ پڑا اور شدید حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں دو افرادمارے گئے اور تیسرا زخمی ہوا۔دونوں دہشت زدہ لڑکیاں مدد کے لئے پکارتی ہوئی بھاگیں۔ انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی حمایت میں کھڑے ہونے والے افراد کس بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ ملزم کرسچئن ٹرین سے اترتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔مرنے والوں میں ایک مسٹر بیسٹ تھے جو اپنا کام ختم کرکے گھر جارہے تھے۔ وہ تیئس سال امریکی فوج میں کام کر چکے تھے اور ابھی پانچ سال پہلے ریٹائر ہوئے تھے۔ پچھلے دو برس سے وہ شہر کی بلدیہ کے ملازم تھے۔ مارے جانے والے دوسرے صاحب مسٹرنامکئی میشے تھے جنہوں نے یونی ورسٹی سے معاشیات کی تعلیم مکمل کی تھی۔ او رجس وقت یہ واقعہ پیش آیا وہ فون پر اپنی خالہ سے بات کر رہے تھے۔خالہ نے ان سے کہا کہ فون بند کرو اور پورے واقعہ کی فلم بنا ؤ۔ خالہ نے بعد میں ایک ٹی وی انٹر ویو میں کہا : میں یہ تو نہیں چاہتی تھی کہ وہ ہیرو بن جائے اور مارا جائے لیکن یہ ضرور ہے کہ وہ دو نوجوان لڑکیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔مسٹر نامکئی میشے کی غم زدہ ماں نے اپنے بیٹے کے بارے میں کہا’’ وہ میرا پیارا بے بی تھا‘‘۔انہوں نے کہا ۔’’ وہ ایک ہیرو تھا اور ہیرو ہی رہے گا۔ میری آنکھ کے تارے، میں عمر بھر تمہیں چاہوں گی‘‘۔ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کی ماں مسز ہڈسن نے فیس بُک پر لکھا: تمہار ا شکریہ کیوںکر ادا کروں، ہم جب تک جئیں گے، تمہیں اپنا ہیرومانیں گے۔ تیسرا شخص ڈیوڈ فلیچر تھا جو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہے۔ اس واقعہ کے بعد شہر پورٹ لینڈ کے میئر نے کہا کہ ان تین افراد کی جرات اور بے لوث کارروائی ہم سب کے لئے مثال بنے گی اور ہمارے حوصلے بڑھاتی رہے گی۔ میئر نے کہا کہ آج جو سیاسی فضا بن رہی ہے اس میں نفرت پھیلانے والوں کو کافی کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔
قتل کے ملزم کرسچین کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ گوروں کو دنیاکی اعلیٰ ترین نسل تصور کرتا ہے اور دائیں بازو کی کسی ریلی میں نازی انداز میں سیلوٹ بھی کر چکا ہے۔ وہ پینتیس برس کا ہے اور سزایافتہ بدمعاش ہے۔ اس پر قتل ، اقدام قتل ، دھونس ،دھمکی اور خطرنا ک ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کر کے اسے عدالت میں پیش کیا جانے تھا۔
اس قصے کی جتنی تفصیل دستیاب تھی، بیان کر دی گئی۔ اب میں حکیم لقمان کی حکایتوں کی طرح آخر میں یہ نہیں لکھوں گا کہ اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے اور اس پورے واقعہ میںکون سی نصیحت چھپی ہوئی ہے۔ یہ باتیں اس زمانے کی تھیں جب بچّے بھولے بھالے ہوا کرتے تھے۔ آج کے بچّے، آج پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ جس زمانے میں جئیں گے، اس کے ڈھنگ نرالے ہوں گے۔اسی لئے نئی نسل کے نئے بچّے پہلے سے زیادہ ذہین اور معاملہ فہم نکل رہے ہیں۔ یہ قدرت کا چمتکار ہے جو انہیں آنے والے وقتوں کے لئے تیار کرکے زمین پر اتار رہی ہے۔ ایک ذرا سی دشواری میری نسل کے ساتھ چپکی ہوئی ہے جو اپنا دامن گزرے ہوئے زمانے سے چھڑا نہیں پارہی ہے ۔ شعور کی بیداری کا تعلق جلد کی رنگت سے ہے نہ مشرق یا مغرب سے۔ یہ سارا کا سارا معاملہ علم کا ہے او رعلم آپ ہی آپ نہیں پھلتا پھولتا۔ اس کے لئے آگہی کی فضا اور ادراک کا ماحول قائم کرنا ہوتا ہے۔ علم انسان کو جوسب سے بڑی خلعت عطا کرتا ہے وہ دردمندی اور انسان دوستی ہے۔ وہی جس کا خواب صدیوں سے دیکھا جا رہا ہے او رصدیوں تک دیکھا جائے گا۔ ایک ایسے عمرانی معاہدے کی آرزو اور تمنّا جس میں انسان ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جینا سیکھے اور جس میں کسی حجاب پوش مسلمان بچّی پر حملہ ہو تو وہ سفید فام شخص اس کو بچانے کے لئے جان پر کھیل جائے جسے ہم کبھی کافر کہتے ہیں کبھی ملحد۔ کوئی مانے یا نہ مانے ، اسی کا نام انصاف ہے اور اسی کو ہماری طرف عدل کہتے ہیں۔ حق پرستی کی مثالیں ڈھونڈنے کے لئے ہم کب تک خلیفہ ہارون الرشید کے دور کی قدامت کے بوجھ تلے دبی ہوئی کہانیاں دہرائیں گے ۔ ہمارا کیا بگڑ جائے گا اگر ہم خود بھی سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سنائیں کبھی سابق امریکی فوجی مسٹر بیسٹ کے قصے اور کبھی معاشیات کے گریجویٹ نامکئی میشے کی داستانیں۔



.