Prof Syed Israr Bukhari - سر رہ گزر - column - 2017-06-20
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
June 20, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rehguzar

ہار گلے کا ہار ہوئی!
جیت کے پھول جتنے نرم و نازک ہوتے ہیں ہار کے کانٹے اتنے ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں، میدان چاہے کرکٹ کا ہو یا کوئی اور ہم ہمسایہ ہونے کے ناتے بھارت سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتے ہیں، جب کھیل بھی فرعونیت کا روپ دھار لے تو اس کے لئے موسیٰ ؑ ضرور پیدا ہوتا ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم تجھے سلام، تیری مادرِ وطن کو سلام جس کی گود سے تو اٹھی اور لندن کے اوول میں چھا گئی، نجم سیٹھی آپ کی مربوط کوششوں کو سلام کہ آخر پاکستانی کرکٹ کو اس کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے قابل بنا دیا، پوری قوم کو سلام و مبارکباد کہ یہ وہ دہری عید منائے گی، پہلی شکست نے آخری فتح کو جنم دیا آئی سی سی چیمپنئز ٹرافی ٹورنامنٹ میں کرکٹ کے کتنے ہی بڑے بڑے بت گرا کر پاکستان کرکٹ ٹیم نے اوول پر سجدہ شکر ادا کیا، ایک اچھا شگون ہے، تاہم کرکٹ ایک کھیل ہے جس کے میدان میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوئی، شیروں کے بچوں کی دھاڑ للکار کیسی ہوتی ہے یہ انتہا پسند ہندوستان نے دیکھ لیا اب کچھ اور دیکھنے کی تمنا چھوڑ دے، دوستی کر لے، مسئلے مسائل حل کرنے کی میز پر آئے نہتے کشمیریوں پر ہولناک مظالم کا سلسلہ بند کر دے ورنہ ہار جیت میں بدل سکتی ہے، کرکٹ باہمی با مقصد خوشگوار تعلقات و مذاکرات کا باعث بن سکتی ہے، صنم کدہ اب نئے بت تراشے پرانے بوڑھے بت اوندھے منہ گر گئے، شیر بچے، شیر ہوتے ہیں، ابھی یہ ان کا ٹریلر تھا، وشوا ہندو پریشد اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ماتم پر بھی افسوس ہے ہمیں ان سے ہمدردی ہے پاکستان بھارت کو کرکٹ اچھا من موہن ہمسایہ بنا سکتی ہے لیکن انتہا پسندوں کو رسوائیاں سمیٹنے کی کوشش ترک کرنا ہو گی۔
٭٭٭٭
اللہ بس باقی ہوس
عمران خان نے کہا ہے:قوم کو عید کے بعد خوشخبری ملنے والی ہے، جبکہ سعد رفیق، رانا ثناء طلال چوہدری فرماتے ہیں آئندہ انتخابات میں عمران، پختونخوا، زرداری سندھ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، خوشخبری تو عید سے پہلے مل گئی اب شاید مزید کوئی خوشخبری درکار نہیں، البتہ سعد رفیق، رانا ثناء اور طلال چوہدری نے اپنے طوطوں کی چونچ کے ذریعے جو لفافہ نکالا ہے تو ان سے گزارش ہے طوطا مینا کی کہانی پرانی ہو گئی نئے لفافوں میں نئی پیشگوئیاں ڈالیں اور اپنے طوطے بھی بدلیں ، خان صاحب آپ ایک کرکٹر ہیں، کرکٹر ہی رہیں گے، اور اپنی خوشخبری بھی ورلڈ کپ کی صورت دے چکے ہیں، اب سیاست کے میدان میں اپنی مرثیہ گوئی میں سے کونسی خوشخبری عید کے بعد نکالیں گے، آپ کی یہ لن ترانیاں بھی مذکورہ بالا تینوں اصحاب کے لفافوں طوطوں اور پیش گوئیوں کی طرح بوسیدہ ہو چکی ہیں، پویلین کو لوٹ جائیں، اپنے خدمت خلق کے مشن کے لئے چندہ اکٹھا کریں، یہ قوم اب مزید بندر تماشا، کٹھ پتلی تماشا دیکھنے والی نہیں، سب خدا سے ڈریں معلوم نہیں اس کا عید کے بعد کیا پروگرام ہے، ہوس جب حد سے گزر جائے تو بس ہو جاتی ہے، پرانے بزرگ اپنے چھوٹوں کو جب بھی خط لکھتے آخر میں یہ الفاظ ضرور درج کرتے اللہ بس باقی ہوس!
٭٭٭٭
والتین والزیتون
اللہ معاف کرے جب بھی والتین و الزیتون کی تلاوت کرتا ہوں تو روکنے کے باوجود بھی اپنے کالم کا صفحہ تین یاد آ جاتا ہے، کہ اس میں کیا لکھوں گا، اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے، اس سے ہر دو پھلوں کی اہمیت، افادیت اور تقدس کا پتہ چلتا ہے، ہم اللہ کی حکمت تو نہیں جانتے مگر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان دونوں پھلوں میں انسانوں کی صحت کے لئے کوئی ایسا جوہر ضرور ہے جس سے اپنے جسم میں بزرگوں کو بھی شباب شباب محسوس ہوتا ہے، لیکن ہم خود کو غریب بنانے والے لوگ تین و زیتون خریدیں کیسے، کہ ہم تو اپنے ملک کی تیسرے درجے کی کھجور نہیں خرید سکتے، ذرا بڑے اسٹوروں پر زیتون اور انجیر کا نرخ تو معلوم کریں، بس ان دونوں نعمتوں کے نرخ جاننے کا علم حاصل کر سکتے ہیں انہیں خرید نہیں سکتے، جب سیلز مین پوچھتا ہے صاحب کتنے ڈبے پیک کروں تو بے اختیار زبان گنگنانے لگتی ہے؎
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
شاید یہ مصرع ابراہیم ذوقؔ کا ہے، اور شاید وہ بھی ہماری طرح ونڈو شاپنگ کا ذوق رکھتے تھے، ہم جو لفظ فروش ہیں ویسے بھی انجیر اور زیتون افورڈ نہیں کر سکتے، اس لئے کہ ہم تھرڈ کلاس لکھاری ہیں، ہمارے لفظ اتنے مہنگے نہیں بکتے کہ بے دھڑک بڑے اسٹورز میں کود پڑیں، اور ہماری غربت ہو محو تماشائے تین و زیتون، آپ نے دیکھا ہو گا کہ والتین و الزیتون کے بعد طور سینین کی قسم بھی کھائی ہے، گویا یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وادی سینا میں انجیر اور زیتون اگتا ہے، الغرض کھیت سے کھلیان تک بتا دیا گیا مگر پھر وہی نگوڑی مہنگائی ہے جو رکاوٹ بن جاتی ہے۔
٭٭٭٭
روند ڈالا!
....Oپاکستان چمپئن، بھارتی ٹیم کو روند ڈالا۔
ہمیں تو بھارت اور بھارت کرکٹ ٹیم پر ترس آنے لگا ہے، مگر بھارت کو کشمیریوں پر ترس نہیں آتا جن کو وہ روز روندتا ہے۔
....Oرشی کپور نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا: پاکستان ہاں تم نے ہمیں ہرا دیا ، میں مان گیا ہوں
اور ہم اب آپ کو بھی مان گئے ہیں، کچھ کشمیریوں کی جیت کے لئے بھی کہیں! آپ نے جو طنز کے تیر چلائے وہ آپ کی کمان کے پاس پڑے ہیں اٹھا لیجئے!
....Oکچھ صاحبان قرطاس و قلم بالواسطہ تعریف، تنقید کے پردے ہیں کیوں کرتے ہیں؟
تاکہ ان پر حجاب کیس بن سکے مگر؎
قیس تصویر کے پردے میں بھی لیلیٰ کا طلبگار نکلا

 

.