| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
مسعود اشر
June 20, 2017 | 12:00 am
بڑے موذی کو مارا

Baray Mozi Ko Mara

معاف کیجئے یہ ہماری زبان نہیں ہے۔ ہم کسی کو بھی موذی نہیں کہتے۔ مگر کیا کیا جا ئے ہندوستان ’’ہمارا نفس امارہ‘‘ ہے اور ہم اس کے ’’نفس امارہ‘‘ ہیں۔ اور بزرگ کہہ گئے ہیں
بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا
اب ہم سے یہ مطالبہ نہ کر دیجئے کہ اس شعر کا پہلا مصرع بھی لکھ دو۔ عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہی ضروری ہے تو پہلا مصرع کسی پڑھے لکھے آدمی سے پو چھ لیجئے۔ اور اگر یہ جاننا ہو کہ یہ نفس امارہ کیا ہوتا ہے؟ تو کوئی اچھی سی لغت اٹھا لیجئے۔ اب یہاں ہم یہ بھی اعتراف کر لیں کہ ہم کرکٹ بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب پاکستان اور ہندوستان کا مقابلہ ہو رہا ہو کہ یہ مقابلہ کھیل کا نہیں ہوتا بلکہ دو دشمنوں کی جنگ ہوتی ہے۔ لیکن ہم اس کھیل کی باریکیوں اور نزاکتوں سے بالکل واقف نہیں ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے اس مقابلے کے بارے میں اگر ہم پٹھانوں کے ’’تربور‘‘ کا حوالہ دے دیں تو شاید بہت سے لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں لیکن معاملہ کچھ ایسا ہی نظر آ تا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ ’’تربور‘‘ کیا ہوتا ہے؟ تو اسے آپ پنجابی کا ’’شریکہ‘‘ کہہ لیجئے۔ یا پھر کسی پختون یا پشتون سے معلوم کر لیجئے کہ’’تربور‘‘ کیا ہوتا ہے؟ اور ’’تربور‘‘ کی باہمی دشمنی کیا ہوتی ہے؟ ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کھیل کی بلکہ کسی بھی کھیل کی باریکیوں اور نزاکتوں سے بالکل واقف نہیں ہیں۔ اگر کرکٹ کی نزاکتوں اور باریکیوں کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم کرنا ہوتا ہے تو ہم اپنے نوجوان دوست محمود الحسن سے رجوع کرتے ہیں۔ محمود الحسن کرکٹ اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کی پوری تاریخ کے حافظ بلکہ ان کی انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم کلاسیکی موسیقی یا ’’پکے گانے‘‘ بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ لیکن ہم راگ راگنیوں کی ابجد بھی نہیں جانتے۔ اس بارے میں اگر ہمیں کچھ معلوم کرنا ہوتا ہے تو فارسی زبان ادب کے استاد محمد اطہر مسعود کو زحمت دیتے ہیں۔ اطہر مسعود نے اپنی فارسی دانی کے بل پر موسیقی کے بارے میں نواب واجد علی شاہ اور امیر مینائی کی فارسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے اور یہ کتابیں شریف اعوان صاحب کی فائونڈیشن نے چھاپی ہیں۔
لیجئے، ہم کہاں سے کہاں نکل گئے۔ ہم تو یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چیمپئنز ٹرافی میں ہم نے ہندوستان کو بری طرح ہرا کر اس کا بھوت اپنے سر سے اتار دیا ہے۔ ہماری حالت تو یہ تھی کہ ادھر ہندوستان کی ٹیم ہمارے سامنے آئی نہیں کہ ہمارے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ اس کے بعد ہم نہیں کھیلتے تھے، ہندوستان کھیلتا تھا۔ وہ جس طرح ہمیں کھلاتا تھا ہم ویسے ہی کھیلتے چلے جاتے تھے۔ اور یہ قصہ ایک عرصے سے چلا آ رہا تھا۔ کسی کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ کبھی ہم ہندوستان سے جیت بھی سکتے ہیں۔ ہمارے اس خوف نے ہندوستان کے کھلاڑیوں کو مغرور کر دیا تھا۔ وہ ہمیں خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے۔ ہمارے بارے میں وہ حقارت سے بات کرتے تھے۔ لیکن چیمپئنز ٹرافی نے ان کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ اور اس کی وجہ ہمارے نئے اور نوجوان کھلاڑی ہیں۔ عمران خاں اور وسیم اکرم کے بعد ہمارے ہاں کھلاڑیوں کی جو نسل آئی وہ ہندوستان سے اتنی مرعوب تھی کہ کبھی سوچ ہی نہیں سکتی تھی کہ ہندوستان کو کبھی شکست بھی دے سکتی ہے۔ ہندوستان کا یہ رعب، خوف اور ڈر کی حد تک پہنچ گیا تھا۔ اسی لئے ہم مسلسل ہارتے چلے آ رہے تھے۔ آخر پرانی نسل کی جگہ نئی نسل آ گئی۔ یہ نسل ہندوستان سے مرعوب نہیں ہے۔ فخر زماں، محمد عامر اور حسن علی جیسے لڑکے ہندوستان سے مرعوب یا خوف زدہ نہیں ہیں بلکہ اس میں آپ ہماری ٹیم کے کپتان کو بھی شامل کر لیجئے۔ سرفراز بھی نئی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ اس نسل نے اپنے سر پر ہندوستان کا بھوت سوار نہیں کر رکھا ہے۔ اس لئے ان سب نے بے دھڑک ہو کر کھیلا اور ہندوستان کی تجربہ کار ٹیم کو ایسا ہرایا کہ ہم اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اب آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے اندر انگلینڈ جیسی ٹیموں کو ہرانے سے ہی بہت اعتماد پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن آپ پیچھے نظر دوڑا لیجئے سب کو ہرانے کے بعد بھی ہندوستان جب سامنے آتا تھا تو ہمارے اوپر کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔
اب ذرا ’’تربور‘‘ کی بات بھی ہو جائے۔ پہلے جب بھی ہندوستان کے ساتھ ہمارا میچ ہوتا تھا دونوں ملکوں میں ایک طوفان آ جاتا تھا۔ وہ نعرے بازی ہوتی تھی، وہ اودھم مچایا جاتا تھا کہ بس مارپیٹ کی کسر ہی رہ جاتی تھی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ مقابلے بازی اس بار بھی ہوئی، ایک دوسرے کو للکارا بھی گیا، بڑے بول بھی بولے گئے لیکن لپاڈکی کی نوبت نہیں آئی۔ ہم نے دوسرے ٹی وی چینل تو نہیں دیکھے البتہ میچ سے ایک دن پہلے جیو ٹی وی پر پاکستان سے وسیم اکرم اور شعیب اختر اور ہندوستان سے اظہرالدین اور ساروو گنگولی وغیرہ کے درمیان جو بات چیت ہوئی، وہ ہم نے دیکھی۔ یہ بات چیت نہایت ہی معقول اور بہت ہی دوستانہ تھی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی اچھائیوں اور برائیوں کا کھل کر اعتراف کیا جا رہا تھا۔ پرانی باتیں یاد کی جا رہی تھیں۔ کہیں بھی دشمنی کا شائبہ تک نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ تھا کھلاڑیوں والا جذبہ۔ یہاں ’’تربور‘‘ واقعی بھائی بھائی معلوم ہو رہے تھے۔ اب یاد کیجئے وہ منظر بھی جہاں دھونی ہمارے کپتان سرفراز کے ننھے منے بیٹے کو گود میں لئے کھڑا ہے۔ یہ ہے اصل بھائی چارہ اور کھلاڑیوں والا جذبہ۔ تو کیا ہم اب یہ توقع کر سکتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان بھی یہ بھائی چارہ واپس آ جائے گا؟ آخر نریندر مودی کی حکومت کو ہم سے چڑ کیوں ہے؟ وہ اپنی ٹیم پاکستان کیوں نہیں آنے دیتی؟ پاکستان تو اس کے ساتھ ہر جگہ کھیلنے کو تیار ہے۔ وہ اپنی ضد پر کیوں اڑی ہوئی ہے؟ اگر چیمپینز ٹرافی میں دونوں ملکوں کے کھلاڑی کھیل سکتے ہیں تو پاکستان یا ہندوستان کے اندر کیوں نہیں کھیل سکتے؟ سیاسی جھگڑے ہوتے رہیں گے۔ کھیلوں کو تو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔ اب آخر میں ہم پورے پاکستان کو مبارک باد دینا چاہتے ہیں۔ اور نجم سیٹھی اور شہر یار خاں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے نئے کھلاڑیوں کے دل سے ہندوستان کا خوف نکالا۔ اور ہمیں چیمپینز ٹرافی جیتنے کا موقع فراہم کیا۔

 

.