| |
Home Page
اتوار 27 ذیقعدہ 1438ھ 20 اگست 2017ء
علی معین نوازش
June 20, 2017 | 12:00 am
جیت کا راز۔۔۔۔۔!

Jeet Ka Raaz

بابااسکرپٹ کی یہ پیشن گوئی تھی کہ بھارت بنگلہ دیش سے سیمی فائنل میں ہی ہار جائے گا، جب ایسا نہ ہوا اور بھارت نے باآسانی بنگلہ دیش کو ہرا دیا تو میں نے بابا اسکرپٹ کو فون کیا اور ان کی پیشن گوئی کے غلط ثابت ہونےپر ان کو باور کرایا کہ اب تو بھارت فائنل میں پہنچ گیاہے تو باباا سکرپٹ نے جواب دیا اگربھارتی ٹیم پاکستان کےہاتھوں ہی ذلیل ہوناچاہتی ہے تومیں اور تم کیا کرسکتےہیں اوربابا اسکرپٹ نے گرجدار آواز میں کہاکہ تم دیکھنا کہ پاکستان بھارت کو ایسی دھول چٹائے گا کہ بھارتی ٹیم بلکہ پورا بھارت عرصہ دراز تک اپنے زخم چاٹتا رہے گا، اور پھر ایسا ہی ہوا پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اپنے ملک کے عوام کےچہروں پر ایسی خوشی بکھیردی ہے کہ ہر پاکستانی ہر تنگی اور غم بھول کر خوشی منا رہاہے ، آخر آٹھویں نمبر کی ٹیم چیمپئن کیسے بنی، کیا سرفراز احمد کی کپتانی ایسی تھی کہ ہم نے دنیا کی بہترین ٹیموں کوہرا دیا ، کیا ہم نے محنت زیادہ کی تھی ؟کیا ہمارے ملک میں کرکٹ کا انفرااسٹرکچر بہت اچھا ہے کیا ہمارا کرکٹ کا ڈومیسٹک نظام بہت مثالی ہے ؟کیا ہمارے کرکٹ گراؤنڈز ہماری وکٹیں عالمی معیارکی ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس کا جواب ایک بڑے ’’NO‘‘میں ہے اگر یہی معیار ہوتا تو موسٹ فیورٹ انگلینڈ کی ٹیم نہ ہارتی جہاںپردنیا کی تاریخی اور بہترین گراؤنڈزہیںبلکہ کرکٹ کا موجدبرطانیہ کو کہاجاتاہے جہاں عرصہ دراز سے ساری دنیا کے کرکٹرز کاؤنٹی کھیلنے آتےہیں، دیگر ممالک نے تو اب انٹرنیشنل کرکٹ لیگ کرانی شروع کی ہے لیکن برطانیہ میںیہ کلچربڑاپراناہے،اگر معیاریہی ہوتا توجنوبی افریقہ کی ٹاپ رینکنگ ٹیم نہ ہارتی جس کا کپتان ایک تجربہ کار اور دھواں دھار بیٹنگ میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، جنوبی افریقہ کی فیلڈنگ بھی ایسی کہ کسی عقاب کی طرح وہ گیند پر چھپٹتے اور کیچ کرتے نظر آتے ہیں ، آسٹریلیا بھی کسی طور سیمی فائنل مرحلے سے بھی پہلے ناک آؤٹ نہ ہوتا، جس کی ٹیم بہترین فٹنس سے ہم آہنگ اورپراعتماد کھلاڑیوںپر مشتمل ہے اور سوا ارب نفو س کاملک بھارت جسے دور حاضر میں کرکٹ کا دیوتا ملک سمجھا جاتا ہے،شاید اتنے بڑے بڑے اور ہر میچ میں عوام سے کچھا کھچ بھرے ہوئےا سٹیڈیم دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آتے۔ بھارت کا کرکٹ بورڈ مالی طورپر اور اثاثہ جات کے لحاظ سے امیرترین بورڈ سمجھاجاتاہے ، بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی ارب پتی ہیں ، لیگ اور کرکٹ فیس کے علاوہ انہیں اتنے اسپانسر ملتے ہیں کہ ان کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوںمیں ہوتا ہے ۔ کیا ہم اس وجہ سے جیتے ہیں کہ ہمارے ملک کا وزیر اعظم بھی ایک کرکٹرہے؟ اگر وہ سیاست میںنہ ہوتا تو شاید ایک کرکٹر ہوتا، وزیر اعظم ہوتےہوئےبھی اپنے گزشتہ دورمیں وہ سفید کٹ پہنے لاہور جیمخانہ میں کرکٹ کھیلتے نظر آتےبلکہ ایک دور تو یہ بھی تھا کہ وہ اسلام آباد میں وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی نیٹ پریکٹس کیا کرتے ، کیا پاکستان کی ٹیم اس وجہ سے جیتی ہے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ بھی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹر ہے اور قومی ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنانے کا اعزاز حاصل کرچکا ہے اور آج اس لیڈر یعنی عمران خان کی طرف یوتھ کے جھکائو کی ایک وجہ کرکٹ بھی ہے کیا ہم اس وجہ سے جیتےکہ اس ملک کی فوج کا سربراہ بھی ایک کرکٹر ہے جو جوانی میں پنڈی کے گراؤنڈز اور گلیوں میں کرکٹ کھیلتا رہاہے لیکن آپ مجھ سے اتفاق کرینگے کہ ان تینوں شخصیات کی کرکٹ سے دلچسپی صرف مبارکباد دینے تک ہے یا عمران خان سے کوئی صحافی کرکٹ کے بارے میں سوال پوچھے تو وہ جواباً کچھ کہہ دیتا ہے اور وزیر اعظم جو قومی کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ کرکٹ پر زیادہ توجہ دیں، تو پھر وہ کونسا را زہے جس نے اس ٹوٹی پھوٹی انگلش بولنے والے کھلاڑیوں ،جن کے چہروں پر ڈنٹ پڑے ہوئے ہیں گلیوں محلوں میں ٹوٹی کرسی یا دو اینٹیں رکھ کر کرکٹ کا آغاز کرتے اور سیکھتے ہیں انہوںنے دنیا ئے کرکٹ کو با انگشت دندان کردیا ہے ، یقیناً کھلاڑیوں نے بھی محنت کی ہے یہ بھی جیت کا جنون رکھتے ہیں لیکن یہ تو ہر ٹیم میں ہوتا ہے پھر وہ راز کیا ہے ؟آپ صرف چند باتوںپر غور کریں تو آپ کویہ راز سمجھ آجائے گاکہ جب فخر الزمان ابتدائی اوورزمیں آؤٹ ہوجاتاہے تو ری پلے میں نو بال قرار دی جاتی ہے ، محمد حفیظ کی بیٹنگ کے دوران بال وکٹ کو لگتی ہے لیکن بیلز اچھل کر بھی وکٹ پر ہی ٹک جاتی ہیں ورنہ یہ بیلز تو ہر وقت لڑھکنے کیلئے تیار رہتی ہیں ، نشانے باز بھارتی کھلاڑیوں کے رن آؤٹ کرنے کے کئی نشانے چوک جاتے ہیں ، ویرات کوہلی کا ایک بال پرکیچ ڈراپ ہوتا ہے تو اگلی ہی بال پر کیچ آؤٹ ہوجاتاہے ۔کہیں بارش نے ساتھ دیا ہے تو کہیں ہاتھوں میں آئےہوئےکیچ ڈراپ ہوتےرہے ہیں۔ آئیے قدرت کے اس خاص انعام کو اپنی محنت، اپنی ایمانداری ، اپنے شکر اور اس کی دی ہوئی صلاحیتوں کو ملک کے ہر شعبے میں بروئے کار لائیں اور اس ملک کو دنیا کی عظیم طاقت بنائیں ورنہ یہ رمضان، یہ نوافل و سجود اور دعائیں ہروقت میسر نہیں آتیں۔

 

.