| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
June 20, 2017 | 12:00 am
مسجد کے باہر سے اغوا ہونے والی 17 سالہ مسلمان لڑکی کی لاش برآمد،22سالہ اسپینش نژاد شخص گرفتار

Todays Print

مسجد کے باہر سے اغوا ہونے والی 17 سالہ مسلمان لڑکی کی لاش برآمد،22سالہ اسپینش نژاد شخص گرفتار

نیویارک (عظیم ایم میاں)ورجینیا میں مسجد کے باہر سے اغوا ہونے والی 17 سالہ مسلمان لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے، پولیس نے 22سالہ اسپینش نژاد شخص کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیاہے.

مقتولہ نبرہ حسین کے والد کا کہنا ہےکہ ان کی بیٹی کو مسلمان ہونے پر قتل کیا گیا ہے،دوسری جانب مسلم کمیونٹی میں خوف و ہراس اور غم و غصہ کی فضا پائی جاتی ہے، ریاست ورجینیا کے گورنر ٹیری مکالف اور حلقے کی منتخب خاتون رکن کانگریس باربرا کوسٹک نے مسلم کمیونٹی اور مقتولہ نبرہ حسنین کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس کیس کی مکمل تحقیقات اور اس کے ذمے داروں کو قانون کے تحت سخت سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ریاست ورجینیا کے فیئر فیکس کائونٹی میں واقع مشہور اسلامی مرکز ’’آدم سنٹر‘‘ کے قریب مسلم لڑکیوں کاایک گروپ سحری کیلئے قریبی اسٹور سے کھانا خرید کر اسلامک سینٹر کی طرف پیدل ہی جارہی تھیں کہ ان کے قریب علی الصبح 3؍ بجے کے قریب ایک کار آکر رکی، کار میں سوار نوجوان نے ان مسلم لڑکیوں پر آواز کسی اور بدتمیزی کی اور پھر ایک نوجوان بیس بال بیٹ لیکر کار سے باہر آیا اور لڑکیوں کے گروپ پر حملہ کردیا، یہ لڑکیاں گھبرا کر وہاں سے بکھر کر بھاگ نکلیں اور جب واپس اکٹھی ہوئیں تو ان کی ایک ساتھی کم تھی، اندازہ لگایا گیاہے کہ حملہ آور نوجوان کے بیس بال بیٹ کے حملہ سے نبرہ حسنین زخمی ہونے سے بھاگ نہ سکی جسے حملہ آور اپنی کار میں اغوا کرکے لے گئے،پولیس کو مدد کیلئے طلب کرکے اطلاع دی گئی تقریباً بارہ گھنٹے کی تلاش کے بعد پولیس نے ایک قریبی تالاب سے نبرہ حسنین کی لاش تلاش کرلی اور 22؍ سالہ نوجوان ڈارون ٹوریز کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

اتوار کو علی الصبح سحری ختم ہونے سے قبل اغوا اور پھر قتل ہونے والی 17؍ سالہ لڑکی نبرہ حسنین کی لاش کی میڈیکل شناخت اور موت کا سبب بتانے والی میڈیکل ایگزامنر کی رپورٹ کا انتظار ہے تاہم مقامی مسلم کمیونٹی اور ریاستی گورنر، کانگریس مین اوردیگر حکام اس واقعہ کی شدید مذمت کررہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گواہی کیلئے قتل کی واردات میں استعمال ہونےو الے بیس بال بیٹ اور دیگر اشیاء بھی برآمد کرلی ہیں تاہم پولیس ابھی تک اس واردات کو ’’نفرت کا جرم‘‘ (Hate Crime) قرار دینے سے گریز کررہی ہے۔

ریاست ورجینیا کے لیفٹیننٹ گورنر رالف نورتھم نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مقامی پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ تفصیلی اور فوری تحقیقات کرکے نتائج سامنے لائے تاکہ ہمارے مسلمان شہری اور ریاست کے تمام شہریوںکو کوئی اطمینان بخش جواب مل سکے۔ ورجینیا کے اٹارنی جنرل مارک ہیرنگ نے بھی اسے علاقے کی پوری کمیوٹنی پر حملہ قرار دیتےہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیار اور احترام کونفرت پر غالب لانا ضروری ہے۔

ادھر نبرہ حسنین کی والدہ نے کہا ہے کہ میری بیٹی اپنے لباس اور مسلمان ہونے کیو جہ سے قتل کی گئی ہے، متعلقہ اسلامی مرکز کے ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ یہ مسلمان لڑکیاں مسجد میں عبادات کے دوران وفقہ کرکے سحری کے لئے اشیاء خرید کر اسلامی مرکز آرہی تھیں تو ان پر علی الصبح (3.30 مقامی وقت)پر حملہ کیا گیا، اطلاع ملتے ہی اور نبرہ کی عدم موجودگی کی اطلاع صبح 4؍ بجے پولیس کو دی گئی تھی مسلمان کمیونٹی میں عید کی خوشیاں مدہم ہوگئی ہیں۔