| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
طلعت حسین
June 30, 2017 | 12:00 am
گو نواز گو

Go Nawaz Go

چلے جائویہاں سے، بلاتاخیر، کوئی کھوج چھوڑے بغیر، یہاں سے جائو۔ اپنا سامان باندھو، جلدی کرو، نکلو یہاں سے۔ یہ ملک اب آپ کو سیاسی اقتدار پر دیکھنے کا متحمل نہیں ۔۔۔ بہت وقت گزار لیا آپ نے منصب پر۔
مانا کہ آپ کی پارٹی پنجاب میں مقامی حکومتوں اور دارالحکومت میں اکثریت رکھتی ہے ، اسے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے ، یہ سب سے بڑے صوبے میں واضح اکثریت رکھتی ہے، صدر ِ مملکت آپ کے اپنے ہیں،سینیٹ کے سوا آپ کی جماعت تمام ہائوس کمیٹیوں کو کنٹرول کرتی ہے ۔ چنانچہ اگلے مارچ میں آپ ایوان ِ بالا میں بھی واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے قانون سازی کے عمل میں اپوزیشن کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں۔
یہ چیز پاکستان کے لئے بہت بُری ہے ۔ کسی کو حاصل سیاسی اجارہ داری کی کوئی حد ہونی چاہیے ۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ حدود سے باہر ہورہے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے طاقت کا یہ ارتکاز ووٹوں کے ذریعے حاصل کیا ہے ۔ اصل اہمیت حتمی نتائج کو حاصل ہے ، جو دکھائی یہ دیتے ہیں کہ آپ سینیٹ کو کنٹرول کرتے ہوئے آئین کی ہر چیز تبدیل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آجائیں گے ۔
جب آپ یہ حتمی طاقت حاصل کرلیں گے تو کون جانتا ہے کہ آپ کی پلاننگ کیا ہو ؟ آپ کے دماغ میں کیا کیا منصوبے گردش کررہے ہوں ؟ کس کو پتہ طاقت کا آخری مورچہ فتح کرکے آپ کیا کھیل کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہوں؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دل و دماغ میں ایسا کوئی منفی منصوبہ نہ ہو لیکن ہم خطرہ مول نہیں لے سکتے ۔
موجودہ معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے ، اورمقامی حکومتوں کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات بلاتردد کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی جماعت اگلے عام انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ موجودہ سیاسی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے لیکن اسے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کا مطلب ہوا کہ اگلے پانچ سال تک بھی مقامی حکومتیں، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور ایوان ِ صدر سمیت سیاسی طاقت کے تمام دریچے آپ کے کنٹرول میں ہوں گے ۔ یہ سوچ کر دل لرز جاتا ہے ، روح کو ہول پڑنے لگتے ہیں۔
تسلیم، آئین کسی جماعت کے تسلسل کے ساتھ الیکشن جیتنے کی راہ میں حارج نہیں۔ نہ ہی کسی ایک شخص کے بار بار وزیر ِاعظم بننے پر کوئی پابندی ہے ۔ لیکن یہ جمہوریت کی تھیوری ہے ، اور ہم یہاں کسی تھیوری وغیرہ کی بکھیڑ میں نہیں پڑتے ۔ ایک ہی شخص کو وزیر ِاعظم ہائوس میں ، اور ایک ہی خاندان کو اتنی دیر سے اقتدار پر دیکھ دیکھ کر آنکھیں تھک گئی ہیں۔ یہ ناگوار منظر بصارت پر گراں گزرتا ہے ۔ ایک ہی مدت ِ اقتدار کافی ہے ، اور یہاں آپ وزیر ِاعظم ہائوس میں تیسری باری لیتے ہوئے ۔ خدا کی پناہ ! آپ ان دنوں معاملات کو یکجا کریں تو سمجھ جائیں گے کہ ہم کیوں کہہ رہے ہیں کہ بس بہت ہوگیا۔ اب چلو یہاں سے ۔
اور پھر دیگر احباب کو بھی وزیر ِاعظم ہائوس کو رونق بخشنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ عمران خان یہاں آنے کا حق رکھتے ہیں۔ کیوں نہیں؟ آخریہ ہائوس شجاعت حسین، ظفر اﷲ جمالی، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف کی میزبانی کرچکا تو عمران خان میں کیا خرابی ہے؟ وہ تو یہاں آنے کی اہلیت سے ’’مالا مال ‘‘ ہیں۔ اُن کی پہلی کوالیفکیشن یہ ہے کہ وہ عمران خان ہیں۔ دوسری ، اُن کا اپنا کہنا ہے کہ وہ وزیر ِاعظم ہائوس میں فائز ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ تیسری یہ کہ وہ کم و بیش دو دہائیوں سے سیاسی راہوں کے مسافر ہیں۔ چوتھی یہ کہ اب اُن کے توشہ خانے میں ضروری لوازمات کی کمی نہیں رہی ۔ اُن کی صفوں میں فردوس عاشق عوان، بابرا عوان اور ممکنہ طور پر شیخ رشید کی صورت نیا خون شامل ہوچکا ہے ۔ قوم کو مزید کیا چاہیے ؟ بہت سے دیگر احباب بھی اُن کے ہم سفر ہوچکے ہیں، کچھ تیار بیٹھے ہیں۔ خصوصی داخلہ پاسز پر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے یہ افراد اور بہت سے دیگر کے ساتھ مل کر مستقبل کی حکومت سازی کے لئے موزوں ترین ٹولہ دکھائی دیتے ہیں۔ تو اب آپ قوم کا قیمتی وقت ضائع نہ کریںاور اپنی راہ ناپیں۔
ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی انتخابات میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے ،اور اس کے نتیجے میں کمزور سی کولیشن گورنمنٹ قائم کرنی پڑے ۔ اور پھر پنجاب میں تو ایک طاقت ور جماعت کی حکومت کی بجائے ایسا ہی لاغر نظام سود مند ثابت ہوگا۔ کولیشن حکومتوں سے حاصل مفاد کے کیا کہنے ! اُنہیں ’’ہمہ صفاتی ‘‘حکومتوں کی صورت ڈھالا جاسکتا ہے ۔ ایسی حکومتوں میں قوم کے نابغہ روزگار شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اور پھر آپ کو وزیر ِخارجہ مقرر کرنے کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑتی ۔ چونکہ ایسی حکومتیں کمزور، چنانچہ لچک دار ہوتی ہیں، اس لئے اُن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ ہمارے جیسے ملک ، جسے تمام محاذوں پر انواع و اقسام کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے اورجہاںسیاسی مبادیات سے ہٹ کر بھی بہت سے کام سرانجام دینا پڑتے ہیں، وہاں گھٹنے ٹیکنے والے ہی معتبر ٹھہرتے ہیں۔ وہاں لچک دار رویے ہی قابل ِ قبول ہوتے ہیں۔
پاک چین اقتصادی راہداری ایک تزویراتی منصوبہ ہے ۔ چینی دوست نہیں چاہتے کہ ہر چیز قاعدے قانون اور جائزے کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ جائے ۔ منصوبے کو باقاعدہ طریق ِ کار کے ماتحت کرنے میں بہت سے خطرات لاحق ہیں۔ سعودی الائنس میں شمولیت پاکستان کے طویل المدت مفادات(جنہیں عوام سے مخفی رکھنا ہی بہتر ہے )کے لئے ضروری ہے ۔ اس کے لئے وہ ہم سے کچھ مطالبا ت بھی کرسکتے ہیں۔ اور پھر جب بادشاہ سلامت کا فرمان جاری ہو پھر ہمارے سامنے فیصلہ سازی کے کتنے امکانات باقی رہ جاتے ہیں؟ آپ شاید ان ارفع منصوبوں کی حساسیت سے ناواقف ہیں۔ یہی آپ کی ناکامی ہے ۔ آپ کے منظر عام سے ہٹتے ہی ان اہم امور کی انجام دہی کے لئے بننے والی تزویراتی تصویر واضح ہو جائے گی۔
آپ کی روانگی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاون ثابت ہوگی ۔ فی الحال ہم آپ کی رخصت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے درمیان تعلق کی وضاحت نہیں کرسکتے ، لیکن ہمارا دل کہتا ہے کہ آپ کی غیر موجودگی اس محاذ پر اچھا اثر ڈالے گی۔ اور پھر معیشت بھی بہتر ہوجائے گی، ترقیاتی منصوبوں میں گویا جان سی پڑ جائے گی، ہم اپنے واجب الادا قرضے بیک جنبش ِقلم واپس کردیں گے ، اور اپنی سرحدوں کو افغانستان، بھارت، واشنگٹن اور اب ایران کی طرف سے ملنے والی پیہم دھمکیوں سے محفوظ کرلیں گے ۔ ایک مرتبہ پھر ہم اپنی قومی نجات اور آپ کی روانگی کے درمیان تعلق کی وضاحت نہیں کرسکتے ، لیکن عمومی طور پر آپ کو ایک برا شگون سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے یہ تمام مسائل آپ کی وجہ سے ہی ہیں۔
آپ کے ہٹتے ہی ہماری پالیسیاں بے عیب ہو جائیں گی ۔ ہر چیز ہمارے کنٹرول میں آجائے گی۔ اپنی طویل پرچھائیاںبھی اپنے ساتھ ہی لے جانا۔ اگرچہ آپ کی کابینہ قومی اہمیت کے معاملات میں مطلق مداخلت نہیں کرتی لیکن آپ کے اس طویل سائے کی موجودگی ہمارے لئے سوہان ِروح ہے ۔ اس کا سائز کم ہونا چاہیے، بلکہ اسے مکمل طور پر غائب ہی ہوجانا چاہیے۔
اور پھر آپ بدعنوان بھی ہیں۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ جنرل مشرف آپ کو بدعنوانی کے الزامات میں سز ا نہ دے سکا، یا مشکوک مالیاتی معاملات کی پاداش میں نیب (جس کی قیادت شروع میں جنرل امجد کے خوفناک ہاتھوں میں تھی) بھی آپ کی گردن نہ ناپ سکا۔ یہ بالکل بودی دلیل ہے کہ آپ کا ذاتی نام سمندر پارکمپنیاں رکھنے والی پاناما فہرست میں شامل نہیں۔
عمومی طور پر یقین کیا جاتا ہے کہ آپ بدعنوان اور بددیانت ہیں۔ یہ کہنا ہے آصف زرداری کا ۔ اور پھر پرویز الٰہی اور ان جیسے دیگر افراد کا بھی یہی موقف ہے ۔ کچھ میڈیا اینکرزبھی آپ کو بدعنوان سمجھتے ہیں۔ کچھ جج صاحبان کو آپ کے بیانات میں تضاد دکھائی دیا ہے ۔ جے آئی ٹی نے آپ کی حکومت پر احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے ۔
جج صاحبان نے آپ کی حکومت کے افسران کے بارے میں سخت بیانات دئیے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ اپوزیشن اپنی ہر پریس کانفرنس میں آپ کو بدعنوان قرار دیتی ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ آپ بدعنوان ہیں۔ چنانچہ آپ کی اس ثابت شدہ بدعنوانی کو دیکھتے ہوئے قانونی طریق ِ کار، شفاف تحقیقات، ثبوت کی فراہمی اور شہادت وغیرہ کا چکر غیر اہم ہوجاتا ہے ۔ اور پھر ثابت کرنے کا یہاں مسئلہ ہی نہیں۔ اصل کیس یہ ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ بدعنوان ہیں، اور اگر آپ ہمارے اس یقین کو تبدیل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر لازمی طور پر بدعنوان ہیں۔ یہ بات اتنی ہی واضح ہے جتناسورج کا مشرق سے طلوع ہونا۔
آخر آپ کو سمجھ کیوں نہیں آرہی؟ آپ نوشتہ ٔ دیوار پڑھنے سے قاصر کیوں ہیں؟آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ آپ ہمارے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ ہم آپ کو یہاں نہیں دیکھنا چاہتے ۔ آپ کے سوا ہر کسی کو سمجھ آرہی ہے کہ 2013 ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے لے کر پاناما لیکس تک کی تمام کارروائی کا مقصد اور ہدف کیا ہے ؟ عجیب بات ہے ، آپ اتنے کج فہم واقع ہوئے ہیں؟جب تمام دنیا جانتی ہے کہ یہاں آپ کا سفر ختم ہوتا ہے تو پھر آپ عدالتی کارروائی اور الزامات کے ثبوت کی توہین برداشت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟کیا اس طریق ِ کار کا ایک ایک قدم آپ کے لئے واضح نشانیاں نہیں رکھتا ؟یہ کور چشمی کب تلک ؟اور چونکہ آپ اتنا بھی فہم نہیں رکھتے ، اس لئے آپ کے پاس اس اہم منصب پر فائر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔
بہرحال آپ نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، نہ اپنی تاریخ سے اور نہ ملک کی تاریخ سے ۔ آپ نہیں جانتے کہ جب سویلین حکومتوں کو چلتا کیا جاتا ہے تو عظیم واقعات پیش آتے ہیں۔ 1950 ء کی دہائی کا سویلین سرکس ختم ہوتے ہی ملک عظمت کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکانے سے پاک سرزمین رشک ِخورشید بن گئی ۔ آپ کو اور بے نظیر بھٹو کو ملک سے نکالا گیا تو کامیابی اس سرزمین کا مقدر بن گئی ۔ اب جب آپ رخصت ہوں گے تو تاریخ خود کو دہرائے گی اور یہ دھرتی گلابوں کی خوشبو سے مہک اٹھے گی۔
چنانچہ عزت اسی میں ہے کہ آرام سے چلےجائیں۔ استعفیٰ دے کر راہ سے ہٹ جائیں۔ فی الحال ہم نہیں جانتے کہ آپ کی قومی اسمبلی میں اکثریت ، یا پنجاب حکومت ، یا مقامی حکومتوں پر آپ کے کنٹرول کا کیا کیا جائے ، یا قبل از وقت انتخابات میں کیا ہوگا؟ آپ کو ہٹانے کے بعد بھی یہ معروضات اپنی جگہ پر موجود رہیں گے ۔ لیکن اس پیچیدگی سے بعد میں نمٹ لیں گے ۔ یہی پیچیدگی آپ کے انکار کے ساتھ بھی وابستہ ہے حالانکہ آپ کی رخصت پتھر پر لکیر ہے۔ ہم آپ کی مزاحمت کو توڑنے پر آگئے تو ہمارے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہم ان کاموں کے ’’ایک سو ایک ‘‘طریقے جانتے ہیں۔ فی الحال ہم چاہتے ہیں کہ آپ خود ہی چلے جائیں۔ چنانچہ گو نواز گو۔

 

.