| |
Home Page
جمعہ 04 ذیقعدہ 1438ھ 28 جولائی 2017ء
الطاف حسن قریشی
June 30, 2017 | 12:00 am
سوگوار عید کے سنجیدہ سوالات

Sogawar Eid K Sanjida Sawalaat

غیر معمولی خوشی اور غم کے ہی موقع پر اصل قومی کردار سامنے آتا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دے کر عالمی چیمپئنز ٹرافی جیتی، تو پاکستانی عوام خوشی سے جھوم اُٹھے، جبکہ بھارتی عوام و خواص نے عجیب و غریب کردار کا مظاہرہ کیا۔ ایک طرف لوگوں نے اپنی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا اور دوسری طرف جن بھارتی باشندوں نے پاکستانی ٹیم کی اچھی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کیا، اُن کے خلاف بغاوت کے مقدمات بنائے گئے۔ تنگ نظری جو بھارت کے قومی کردار کا طرۂ امتیاز ہے، اس کا بدترین مظاہرہ ہوا۔ ایک دو روز بعد ہی بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو جسے پاکستان کی فوجی عدالت نے سزائے موت دی ہے، نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے رحم کی اپیل کی۔ بھارت کے جاسوسی نظام کا گہرا اِدراک رکھنے والے پاکستانی ماہرین کا خیال تھا کہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھارت کی طرف سے تخریب کاری کا خطرہ پیدا ہو چلا ہے، چنانچہ دوسرے ہی روز کوئٹہ، کراچی اور پارا چنار میں دھماکے ہوئے جن میں پولیس اہلکار نشانہ پر تھے۔ پارا چنار میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی جہاں ستر کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں اہلِ تشیع کی اکثریت تھی۔ اس وقت وزیراعظم نوازشریف عمرہ کرنے کے بعد میڈیکل چیک اپ کے لیے لندن پہنچے تھے۔ سول انتظامیہ اور فوجی قیادت نے زخموں پر مرہم رکھنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی اور یہ عزم پوری قوت سے دہرایا گیا کہ ہم دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کر کے ہی دم لیں گے اور قومی سلامتی کا پورا پورا تحفظ کریں گے۔
ابھی یہ زخم تازہ تھے کہ عید سے ایک روز پہلے احمد پور شرقیہ کے قریب صبح پونے چھ بجے آئل ٹینکر اُلٹنے کا حادثہ پیش آیا۔ کوئی پینتالیس منٹ بعد پچاس ہزار لٹر کھیتوں اور سڑکوں پر پھیلے ہوئے پٹرول میں آگ بھڑک اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے 165افراد زندہ جل کر راکھ ہو گئے، جبکہ دو سو سے زائد 80فی صد جھلس گئے۔ یہ لوگ قریبی دیہات سے پٹرول بالٹیوں اور برتنوں میں جمع کرنے آئے تھے۔ ہائی ویز پر چلتی گاڑیاں بھی ٹینکیاں پٹرول سے بھرنے کے لیے رُک گئی تھیں اور موٹر سائیکلیں بڑی تعداد میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگی تھیں۔ پولیس اور ٹینکرکے ڈرائیور نے لوگوں سے دور چلے جانے کی بار بار اپیل کی، مگر دیہاتیوں نے سنی ان سنی کر دی اور مالِ مفت سمیٹنے میں مصروف رہے۔ یہ شغل جاری تھا کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا، سینکڑوں لوگ آسماں سے چھوتے ہوئے شعلوں کی زد میں آئے اور جل کر کوئلہ ہو گئے۔ اس کی جو ویڈیو کلپ سامنے آئی، اسے دیکھنے کی کسی میں بھی تاب نہ تھی، تب لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے بڑی شدت اور کرب سے اندازہ لگایا کہ جہنم کا عذاب کیسا ہو گا۔ جائے وقوع پر سول انتظامیہ، پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسر پہنچ گئے۔ جھلس جانے والوں کو مختلف ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر حرکت میں آ گئے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اپنا ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں کے لیے روانہ کر دیا۔ قریبی گاؤں سے بھی رضاکار پہنچ گئے اور غم زدہ رشتے داروں کو دلاسہ دلاتے اور ہر قسم کی امداد فراہم کرتے رہے۔
اس قومی حادثے کے حوالے سے اسی وقت سے طرح طرح کے سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ اس بلائے ناگہانی سے ہماری بہت ساری کمزوریاں اُبھر کر سامنے آئی ہیں اور کچھ تعصبات بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ زیادہ تر دو بنیادی تصورات کے گرد تجزیے اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ جائے حادثہ پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ غربت کی وجہ سے کشاں کشاں آئے تھے، کیونکہ جنوبی پنجاب شدید محرومیوں کی زمین ہے جہاں غربت، بے روزگاری اور بدامنی کا راج ہے۔ دوسرا یہ کہ جنوبی پنجاب میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پورے علاقے میں صرف نشتر ہسپتال ملتان میں برن یونٹ ہے اور وہ بھی پوری طرح فعال نہیں۔ اگر بہاولپور اسپتال میں برن یونٹ ہوتا، تو خاصی تعداد میں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ بعض سیاسی رہنماؤں نے اس حوالے سے الزام عائد کیا کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اگر یہی دلخراش واقعہ تختِ لاہور کے قریب پیش آتا، تو پوری صوبائی اور وفاقی حکومت حرکت میں آ جاتی اور آگ کے متاثرین کو بہترین سہولتیں فراہم کی جاتیں۔ ان جذبات میں گہرا کرب پوشیدہ ہے جو قومی قیادت سے انتہائی سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے، مگر اس قیامت خیز حادثے کے ساتھ بہت بڑے بڑے سوالات جڑے ہوئے ہیں جن کے جواب ہمیں قومی نقطۂ نگاہ سے تلاش کرنا ہوں گے۔ اس واقعے کا تعلق محض ایک علاقے تک محدود کر دینے سے ہم غلط نتائج اخذ کر سکتے ہیں جبکہ معاملات کی تہہ تک پہنچنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی ہم دیمک زدہ جڑ کی خبر گیری کے بجائے شاخوں اور پتوں پر تمام تر توجہ صرف کرتے آئے ہیں، جبکہ درخت شادابی اور توانائی سے محروم ہوتا گیا۔
ہمیں یہ حقیقت مان لینی چاہئے کہ زمین اور کھیتوں میں بکھرا ہوا پٹرول بالٹیوں میں جمع کرنے کی خواہش میں غربت کا ایک عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ شعور اور تربیت کے فقدان کا ہے۔ اس طرح کے واقعات میں ہمارا قومی مزاج اسی انداز سے آشکار ہوتا آیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ حادثہ گوجرانوالہ کے قریب پیش آیا ہوتا، تو وہاں بھی لوگ اسی طرح دوڑے دوڑے آتے اور بے عقلی اور حرص کا مظاہرہ کرتے۔ ہمارے گھروں، ہمارے تعلیمی اداروں اور ہماری تربیت گاہوں میں بچوں کو حادثات سے نبرد آزما ہونے کی سرے سے کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ کوئی قدرتی آفت نازل ہو جائے، تو بھگدڑ مچ جاتی ہے اور لوگ کچلے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے اندر ایک منظم قوم اور ایک منظم معاشرے کی خصوصیات فروغ نہیں پا سکی ہیں، چنانچہ ہمیں اپنی ساری توجہ اس ایک نکتے پر مرتکز کرنی چاہئے۔ طبی سہولتوں کا معاملہ بھی صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں۔ آپ جسے شمالی اور وسطی پنجاب کہتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہاں شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، سراسر مبالغے پر مبنی ہے۔ اس پورے علاقے میں برن یونٹ صرف کھاریاں، لاہور اور واہ کینٹ اسپتال میں قائم ہیں جن کی حالت غیر تسلی بخش ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر لازم آتا ہے کہ وہ تعلیم و تربیت اور صحت کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کریں۔ عوام کی گرتی ہوئی صحت اور حادثات کی بھرمار اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پورے ملک میں صحت کے جو بنیادی یونٹس کام کر رہے ہیں، ان میں جدید لیبارٹریاں فراہم کی جائیں اور فوری طور پر ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر اسپتال میں مکمل برن یونٹس کے قیام کو اوّلیت دی جائے۔
ان ضروری امور کے علاوہ ہماری حکومتوں کو سڑک کی حفاظت اور ٹریفک معاملات میں انقلابی تصورات شامل کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت ِ عملی وضع کرنی چاہئے۔ ہمارے ملک میں ڈرائیونگ سکھانے کے معیاری ادارے موجود ہی نہیں اور ڈرائیونگ لائسنس سفارش یا رشوت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریفک حادثات میں لقمۂ اجل بن جانے والوں کی تعداد دہشت
گردی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے زیادہ کم نہیں ہے۔ طے شدہ قواعد کے مطابق ٹائر تبدیل کر دیے جائیں، تو وہ راستے میں برسٹ نہیں ہوتے۔ اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ جو ٹینکر پچاس ہزار لٹر پٹرول لے کر چلتا ہے، اس کی پوری طرح چیکنگ ہوئی ہے یا نہیں۔ اسی کا نام بیڈ گورننس ہے جس کا افسوس ناک تماشا ہم پاناما جے آئی ٹی کی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز میں دیکھ رہے ہیں۔ مینڈیٹ سے تجاوز نے سپریم کورٹ کے فاضل عمل درآمد بنچ پر سوالات اُٹھا دیے ہیں جو ایک تشویش ناک صورتِ حال ہے۔ ہمیں سوگوار عید سے سبق سیکھتے ہوئے ہر سطح پر دوراندیشی اور فہم و فراست سے کام لیتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنانا ہوں گے۔

 

.