| |
Home Page
پیر 04 محرم الحرام 1439ھ 25 ستمبر 2017ء
محمد فاروق چوہان
June 30, 2017 | 12:00 am
خلیجی بحران،بہترحکمت عملی!

Khalije Burhan Bhetar Hikmat E Almi

خلیجی ممالک کے بحران میں پاکستان نے غیر جانبدار رہ کر دونوں دوست برادر اسلامی ملکوں سعودی عرب اور قطر کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کا ایک اچھا اور دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ عرب ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے یہ ایک بہترین حکمت عملی ہے کیونکہ اگر پاکستان نے کسی بھی ایک ملک کی جانب یکطرفہ جھکائو کیا تو یہ مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عرب ممالک کے تعلقات آخر کون خراب کرنا چاہتا ہے؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض میں امریکہ اور مسلم ملکوں کی کانفرنس میں امیر قطر بھی موجود تھے لیکن امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے فوری بعد دونوں عرب ملکوں کے تعلقات اچانک کشیدہ ہوگئے اور مڈل ایسٹ کے کئی ملکوں نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور قطر دونوں ہی پاکستان کے قریبی اور قابل اعتماد دوست ہیں اور ہر مشکل وقت میں ان مسلمان ملکوں نے پاکستان کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے دونوں برادر مسلمان ملکوں کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم نواز شریف نے اس حساس معاملے پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ساتھ سعودی عرب اور قطر کا ہنگامی دورہ بھی کیا ہے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے اپنے اس دورے میں دونوں برادر ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید بگاڑنے کی بجائے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کریں اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو دور کریں۔ ترکی اور کویت نے بھی سعودی عرب اور قطر تعلقات کی بحالی کے لئے اپنی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان، ترکی اور کویت کی کاوشوں کے نتیجے میں برف کب پگھلتی ہے؟ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان، ترکی اور کویت کے مفاہمتی کردار سے موجودہ خلیجی بحران ختم ہوجائے گا۔ اگرچہ امریکہ اور یورپی ممالک سعودی عرب اور قطر کو قریب آتے دیکھنا نہیں چاہتے اور ان کی خواہش ہے کہ شام، عراق، لیبیا اور یمن کے بعد اب قطر کو بھی میدان جنگ بنا دیا جائے مگر لگتا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اب اپنے نئے پلان میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ واقفان حال کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر کے ساتھ بدترین بحران ختم کرنے کے لئے اپنے13مطالبات پیش کردیئے ہیں۔ ان مطالبات میں ایران کے ساتھ تعلقات کم، ترک فوجی اڈے اور الجزیرہ ٹی وی چینل بند کرنا بھی شامل ہے۔ عرب اتحادی ممالک کی طرف سے کئے گئے ان 13مطالبات کے لئے قطر کو 10دن کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ قطر کو مطالبات کی یہ فہرست کویت نے فراہم کی ہے۔ کویت، پاکستان اور ترکی کی بھرپور حمایت کے ساتھ فریقین میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے مگر دوسری طرف قطر حکومت نے اپنے اوپر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے۔قطر کے وزیرخارجہ عبدالرحمان بن محمد الثانی نے فرانسیسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تمام عرب ممالک جان لیں کہ ہم اپنے عوام اور ملک کے دفاع کا انتظام اور اختیار رکھتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ بحران کی بنیادی وجہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کا خراب ہونا ہے۔ اس وقت یمن، شام اور عراق میں آگ و خون کا کھیل جاری ہے۔ سامراجی طاقتیں مسلمان ملکوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرکے اپنے مذموم اور ناپاک عزائم کا حصول چاہتی ہیں۔ موجودہ خلیجی بحران بھی اسی صورت ٹھیک ہوسکتا ہے کہ جب سعودی عرب اور ایران دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے اپنا کردار کریں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی سعودی عرب اور ایران کے تعلقات معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اب بھی پاکستان کو ترکی اور دیگر اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور ایران کو ڈائیلاگ کی ٹیبل پر لانا ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ شیعہ، سنی کی لڑائی کروا کر مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ شام، یمن، عراق میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ اب قطر میں بھی حالات خراب کئے جارہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور عسکریت کو مسلم ملکوں میں آخر کیوں پھیلایا گیا؟ اور امریکہ اور یورپ میں ایسی صورتحال کیوں نہیں نظر آرہی؟ اس کا جواب یہ ہے اسلامی ممالک کو کمزور کرنے کے لئے یہ گھنائونی سازش تیار کی گئی ہے۔ افغانستان، عراق، شام، پاکستان اور یمن میں لاکھوں افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ان اسلامی ملکوں کی معیشت بھی تباہ ہوچکی ہے۔ پاکستان میں تو ابھی تک بیرونی دہشت گردی کایہ سلسلہ نہیں رک سکا۔ چند روز قبل جمعتہ الوداع کے موقع پر بھی پارہ چنار ،کوئٹہ اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں 62افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں 11پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کی بھاری قیمت پاکستان کو ادا کرنا پڑی ہے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کا اتنا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جتنا پاکستان کو اب تک برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے بتدریج پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہورہی تھی مگر ملک دشمن بیرونی عناصر کو پاکستان میں امن قائم ہوتا اچھا نہیں لگ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ عید الفطر سے پہلے پارہ چنار اور کوئٹہ میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ کروایا گیا ہے۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کو ان واقعات کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ماضی کی طرح دہشت گردی کا نیا سلسلہ یہاں دوبارہ نہ شروع ہوجائے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو بھی ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افغانستان میں بھی طالبان کو کمزور کرکے داعش کے قدموں کو جمانے کا گیم پلان تیار کیا گیا ہے۔ افغان حکومت کے طالبان سے مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دیا جارہا۔ حکومت پاکستان کو خطے میں امن کے لئے افغان حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو یقینی بنانا چاہئے۔ حزب اسلامی افغانستان کے امیر اور سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار بھی اس سلسلے میں اپنا مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمت یار ہی واحد ایک ایسی شخصیت ہے کہ جو افغانستان میں امن کے لئے طالبان اور افغان حکام کے درمیان کوئی سمجھوتہ کراسکتے ہیں۔ حکمت یار نے افغان حکومت کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے بچی کھچی امریکی فوج کی وہاں سے واپسی ضروری ہے۔ بصورت دیگر امن مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ روس، چین اور پاکستان جنوبی ایشیا کی ترقی کے لئے افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں مگر امریکہ اور بھارت کو پاک چائنہ اکنامک کاریڈور منصوبہ برداشت نہیں ہورہا۔ مشرق وسطی میں بھی اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے عالمی استعماری قوتیں مسلمانوں کو باہم لڑا رہی ہیں۔ مغرب نے پہلے افغانستان میں القاعدہ کو جنم دیا۔ اب افغانستان اور مڈل ایسٹ میں امریکہ اور یورپی ممالک داعش کی سرپرستی کررہے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے تو کچھ عرصہ قبل الزام لگایا تھا کہ امریکہ اور یورپی ممالک شام اور عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے سستا تیل خریدتے ہیں اور انہیں اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ اور اُس کے حواری یورپی ملکوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ انہوں نے جو دہشت گردی کی آگ مسلمان ملکوں میں لگائی تھی اُس کے شعلے آج برطانیہ، بلجیم، فرانس اور دیگر ملکوں میں بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر اس آگ پر قابونہ پایا گیا تو یہ عالمی امن کے لئے انتہائی تباہ کن ہوگا۔ مسلمان ملکوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی بھی مغرب کی ناروا پالیسیوں کی وجہ سے دن بدن بڑھ رہی ہے۔ اگر امریکہ اور یورپی ممالک اسلامی دنیا کے بارے میں اپنے رویئے کو تبدیل کرلیں تو دنیا میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

 

.