| |
Home Page
جمعہ 04 ذیقعدہ 1438ھ 28 جولائی 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
خصوصی عمل درآمدبنچ کے پاس آزمانے کیلئے کچھ اختیارات اور چوائسز واضح

Todays Print

خصوصی عمل درآمدبنچ کے پاس آزمانے کیلئے کچھ اختیارات اور چوائسز واضح

اسلام آباد(رپورٹ:طارق بٹ) تین رکنی خصوصی عملدرآمد بنچ کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا قطعی اختیار حاصل ہےاورآزمانے کیلئے کچھ اختیارات واضح اور صاف ظاہر ہیں20اپریل کا عدالتی حکم نامہ پڑھنے سے خصوصی بنچ کو حاصل تمام انتخابات(چوائسز) واضح ہو جاتے ہیں۔

ایک بدترین منظر یہ ہو سکتا ہے کہ بنچ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قراردیدے اور شاید احتساب عدالت کو ریفرنس بھیجنے یا نہ بھیجنے کافیصلہ کرے۔ اس طرح کا فیصلہ اپوزیشن اورخصوصاً تحریک انصاف کیلئے بڑی طمانیت کا باعث ہوگا۔

جو مسلم لیگ (ن) کو اپنے تمام تر حربے آزمانے کے باوجود سیاسی میدان میں نیچا دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ یہ قانون کاطے شدہ اور ناقابل تردید اصول ہے کہ کسی بھی شخص کو عدالت سے سزا سخت اورناقابل تردید حقائق، ثبوت اور شہادتوں کی بنیاد پر ملتی ہے۔ اگر رتی برابر بھی شبہ ہو تو قتل جیسے مقدمات میں تک شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خصوصی بنچ جے آئی ٹی کی سفارشات غیر معتبر قرار دے کر ردی کی ٹوکری کی نذر کر دے۔

دیگرالفاظ میں بنچ وزیراعظم کو نااہل قرار دے اور نہ ہی معاملہ احتساب عدالت کے سپرد کرے۔ یا مزید تحقیقات کیلئےکسی اورادارے کے حوالے کرے۔ تیسرے یہ کہ بنچ وزیراعظم کو نااہل قراردے اور نہ ہی کلین چٹ دے لیکن وہ ریفرنس احتساب عدالت کو بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ تب یہ قانونی جنگ اپنے انجام تک پہنچنے کیلئے طویل وقت لے گی۔

یہ فیصلہ مدعا علیہان کیلئے تو باعث اطمینان لیکن اپوزیشن کیلئے حوصلہ شکن ہو گا۔ بنچ نے یہ واضح کردیا کہ جےآئی ٹی کی سفارشات خفیہ رکھی جائیں گی۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ مدعا علیہ  سے بھی اس کو چھپا یا جائے گا۔ لیکن ملزم اس کی نقل فراہم کرنے کا مطالبہ کر سکتاہے تاکہ اس میں خامیاں نکال یا پکڑ کر اپنادفاع کرسکے۔ حکم نامے میں ایک اور نکتے کے تحت وزیراعظم یاجرم میں گٹھ جوڑ کے کسی بھی ملزم کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاناممکن ہے۔

جس سے جے آئی ٹی سفارشات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ابھی تک بنچ نے بظاہر جے آئی ٹی کی پیش کردہ تین رپورٹس کوسچ مانا۔ مختلف شخصیات کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات نے بنچ کو متاثر نہیں کیا کہ وہ انہیں کوئی ریلیف فراہم کرے۔