| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
جمشید دستی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا،رانا ثنا ءاللہ

Todays Print

جمشید دستی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا،رانا ثنا ءاللہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ"میں گفتگو کرتے ہوئےوزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے میزبان محمد جنید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمشید دستی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے،جمشید دستی نے پچھلے کچھ برسوں سے ایک عادت بنا لی ہے کہ کوئی اسپتال ہو، نہر کا دفتر ہو یا تھانہ ہو یہ وہاں 15,20لوگوں کو ساتھ لے جا کر اپنے مرضی کا کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو بے عز ت کرتے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ جمشید دستی کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق درج ہوا ہے اور اب عدالت جو فیصلہ کرے گی حکومت اسے قبول کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کے جیسے ہی ہمیں جمشید دستی کے اوپر تشدد سے متعلق معلوم ہوا ہم نے اسی وقت میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ان کا معائنہ کروایااس سے یہ پتا چلا کہ ان کے اوپر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی جیل کو مکمل ہدایت کی گئی کہ وہ ان کو قانون کے مطابق مناسب جگہ پر رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جمشید دستی کو کسی قسم کے سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جار ہی ہے۔ سینئر تجز یہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھاپاراچنار میں مظاہرین پرامن ہیں ۔جیو کے ڈائر یکٹر نیوز رانا جواد نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی زیادہ توجہ حدیبیہ پیپر کیس پر ہے۔

میزبان محمد جنید نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی تیزی سے اپنا کام مکمل کررہی ہے، دو جولائی سے پانچ جولائی تک چار دنوں میں چارا ہم پیشیاں ہوں گی، جمعرات کو بھی جے آئی ٹی کے سامنے اہم پیشی ہوئی، پرویز مشرف کے دور میں قومی احتساب بیورو کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد نے بھی جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا،ذرائع کے مطابق سابق چیئرمین نیب نے حدیبیہ ریفرنس سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد کا بیان اہم ہے کیونکہ ان ہی کے دور میں حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس تیار کیا گیا اور اسحاق ڈار کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محمد جنید کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے اب تک پانچ افراد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں، اب جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو پانچ جولائی کو طلب کرلیا ہے جبکہ متعلقہ دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت بھی کی ہے، اس سے پہلے دو جولائی کو وزیراعظم کے کزن طارق شفیع، تین جولائی کو حسن نواز اور چار جولائی کو حسین نواز پیش ہوں گے۔ جیسے جیسے شریف خاندان کی پیشیاں ہوں رہی ہیں حکمراں جماعت کے اہم رہنماؤں کی زبان میں تلخی بھی آتی جا رہی ہے اور الزام تراشیوں میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔

اہم حکومتی ثخصیات کی جانب سے جے آئی ٹی پر الزام تراشیاں کی گئیں لیکن نواز شریف خاموش رہے پر کچھ دن سعودی عر ب میں گزارنے کے بعد جب وزیر اعظم لندن پہنچے تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کڑی تنقید کی۔ پروگرام میں میزبان محمد جنید سے بات کرتے ہوئے ترجمان وزیر اعظم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی سے نا صرف کچھ بین الاقوامی لوگ بلکہ کچھ پاکستانی بھی مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی ترقی سے ناخوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے سے چین کو جو مغرب کے ساتھ جڑنے کا موقع ملے گا اس سے کچھ بین الاقوامی طاقتیں جو چین سے مقابلہ کرنا چاہتی ہیں وہ نا خوش ہیں جبکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی سے بھی کچھ لوگ خوش نہیں۔مصدق ملک نے کہا کہ ایک طریقہ کار اگر آئین اور قانون کی مطابق چلتا ہے اور اگر کوئی شخص اس کے اوپر کوئی انگلی نہ اٹھا سکتا تو کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہتی۔ پاکستان میں پہلے بھی کئی مرتبہ اس طرح کے کھیل کھیلے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ماورائے آئین اور ماورائے قانون شکوک و شبہات پیدا کیے۔ انہوں نے کہا کے ان شکوک و شبہات کو لے کر ہم عدالت کے سامنے بھی گئے۔جیو کے ڈائر یکٹر نیوز رانا جواد نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین نیب جنرل امجد کی جے آئی ٹی میں پیشی کے حوالے سے کہا کہ جے آئی ٹی جس طرح کے مخصوص لوگوں کو بلا رہی ہے اس سے یہ اندازاہ ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کی زیادہ توجہ حدیبیہ پیپر کیس پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر کیس کے حوالے سے جنرل امجد کی پیشی انتہائی اہم ہے۔