| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
ٹرمپ حکومت کی پاکستان سےمتعلق پالیسی پرنظرثانی سےدباؤبڑھےگا،بیرسٹرظفر

Todays Print

ٹرمپ حکومت کی پاکستان سےمتعلق پالیسی پرنظرثانی سےدباؤبڑھےگا،بیرسٹرظفر

کراچی(ٹی وی رپورٹ)وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیوکی رحم کی اپیل قبول کرنا یا نہ کرنا آرمی چیف کی اپنی صوابدید ہے، اس حوالے سے فیصلہ کرنے کیلئے آرمی چیف پر وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے،ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کررہی ہے جس کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔

وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب اور تجزیہ کار مشرف زیدی بھی شریک تھے۔امجد شعیب نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو معافی دینے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے، امریکا سے تھپکی لینے کیلئے قومی مفادات کی قربانی نہیں دی جاسکتی ہے، جنرل پرویز مشرف ایک ڈکٹیٹر تھا اس کے غلط فیصلوں کو نقصان ہوا،حکومت سعودی فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرلے تو جنرل راحیل شریف واپس آجائیں گے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ امریکی خوشنودی کے بجائے اپنے مفادات کے مطابق پالیسی بنانا ہوگی،آمر کی حکومت نے نو سال تک امریکا کو سب کچھ دیئے رکھا۔میزبان حامد میر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل آئین اور قانون کی بالادستی ہے، پاکستان کی ریاست اور ریاستی اداروں کو جو کچھ بھی کرنا ہے آئین اور قانون کے اندر رہ کر کرنا ہے، اگر آئین اور قانون کے اندر رہ کر ہم کام نہیں کریں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ آرمی چیف کو ملٹری نظام کے تحت دی جانے والی سزاؤں کو معاف کرنے کا اختیار ہوتا ہے، یہ ایسا ہی اختیار ہے جو آرٹیکل 45 میں صدر پاکستان کو حاصل ہے،کلبھوشن یادیوجیسے مجرموں کو آرمی چیف اور صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کرنے کی اجازت ہے جسے قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے، کلبھوشن یادیو کی رحم کی اپیل پر ایک سے دو ہفتے میں فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن آرمی چیف پر فیصلہ کرنے کیلئے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے،وہ چاہیں تو ایک ہفتے میں فیصلہ کردیں اور چاہیں تو ایک سال تک نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کررہی ہے جس کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھے گا، امریکا حقانی نیٹ ورک اور حافظ محمد سعید کے حوالے سے بھی پاکستان پر دباؤ بڑھائے گا لیکن کلبھوشن کے معاملہ میں نہیں پڑے گا۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان پالیسی سے نقصان زیادہ ہوا ہے، خارجہ پالیسی کسی ایک ادارے کو نہیں بنانا چاہئے، امریکا کے ساتھ اختلافات کے باوجود اس کے ساتھ انگیجمنٹ رکھنا پڑے گی۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک سوال پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ یہ وہ قومی گناہ ہے جو ہم نے کیا ہے، یہ ہماری افغان پالیسی کا نتیجہ ہے جس کی ہم بات کررہے ہیں، کوئی بھی آدمی ہو چاہے کلبھوشن یادیو کیوں نہ ہو اسے کٹہرے میں لانا چاہئے، اس کے خلاف شہادتیں پیش کر کے اسے سزائے موت دینی چاہئے، اس راستے کا نقصان زیادہ ہوگا۔

امجد شعیب نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی آرمی چیف کو کی گئی رحم کی اپیل پر فیصلے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے، فوج کے اندر سنجیدہ کیسوں میں رحم کی اپیل منظور نہیں ہوتی اور سزا برقرار رہتی ہے، کلبھوشن دہشتگردی کے اتنے ہولناک واقعات میں ملوث رہا ہے کہ اسے معافی دینے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی ہمارے خطے سے متعلق پالیسیوں میں تضاد پایا جاتا ہے، پاکستان کا امریکا پر انحصار اب کافی کم ہوگیا ہے، حقانیوں کی زیادہ تر فنڈنگ دبئی سے ہوتی ہے جہاں ان کے بڑے بڑے کاروبار ہیں لیکن امریکا دبئی سے نہیں پوچھتا ہے، ملا اختر منصور دو ماہ ایران میں گزار کر آیا اس کے پاسپورٹ پر دبئی کے تیرہ وزٹ ہیں لیکن اسے پاکستان میں مار کر ہمیں الزام دیا گیا، پاکستان نے امریکیوں کو انفارمیشن دے کر انس حقانی کو قطر میں پکڑوایا، سینٹ کام کے کمانڈر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان حقانیوں سے متعلق بھی ہماری مدد کررہے ہیں۔

امجد شعیب کا کہنا تھا کہ امریکا سے تھپکی لینے کیلئے قومی مفادات کی قربانی نہیں دی جاسکتی ہے، پاکستان مزید ڈومور سے انکار کرتے ہوئے امریکا کے سامنے کھڑا ہوجائے تو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑے گا، افغانستان میں امریکی فوجیوں کو لائف لائن پاکستان سے ہی ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف ایک ڈکٹیٹر تھا اس کے غلط فیصلوں کو نقصان ہوا، اس وقت جمہوریت ہے ہمیں فیصلوں کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال کرنا چاہئے، حکومت سعودی فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرلے تو جنرل راحیل شریف واپس آجائیں گے، حکومت اگر راحیل شریف کو سعودی عرب نہیں بھیجنا چاہتی تو این او سی نہیں دیتی، سعودی وزیردفاع نے وزیراعظم نواز شریف سے راحیل شریف کیلئے درخواست کی تھی، وزیراعظم اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے اعزاز ہوگاپھر انہوں نے کہا کہ میں راحیل شریف کے پاس جی ایچ کیو جارہا ہوں، وزیراعظم نے راحیل شریف کے پاس جاکر کہا کہ مجھ سے یہ درخواست کی گئی ہے اور میں نے انہیں یہ کہا ہے اس لئے آپ ناں نہیں کریں، جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے چھ ماہ پہلے یہ کمٹمنٹ ہوئی تھی۔

مشرف زیدی نے کہا کہ کلبھوشن کی پھانسی روکنے کیلئے اگر ڈونلڈ ٹرمپ فون کردیتا ہے تو وزیراعظم کیلئے بڑا مسئلہ ہوجائے گا، پاکستان کے پاس ٹھوس اور مثبت خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان کا موقف ان جگہوں تک نہیں پہنچایا جارہا جہاں تک پہنچایا جانا چاہئے، اگر ہماری کوئی خارجہ پالیسی ہوتی تو اس پر ٹرمپ حکومت سے بات کی جارہی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنی افغان پالیسی کا خود پتا نہیں ہے، ہمیں امریکی خوشنودی کے بجائے اپنے مفادات کے مطابق پالیسی بنانا ہوگی،افغان صدر بھارت جاکر نریندر مودی کے ساتھ ہمیں گالیاں دیتا ہے،پاکستان کی سویلین و عسکری قیادت امریکا کے ساتھ وہ پوزیشن نہیں لینا چاہتی جو لوگ توقع کرتے ہیں، فوجی حکومت نے نو سال تک امریکا کو سب کچھ دیئے رکھا، افغان صدر اشرف غنی مجبور ہو کر انڈیا کے ساتھ ملا ہے۔