| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
جے آئی ٹی، جنرل امجد کا بیان ریکارڈ، مریم نواز کو لندن فلیٹس، بیرون ملک کاروبار کی دستاویزات لانے کی ہدایت

Todays Print

جے آئی ٹی، جنرل امجد کا بیان ریکارڈ، مریم نواز کو لندن فلیٹس، بیرون ملک کاروبار کی دستاویزات لانے کی ہدایت

اسلام آباد (نمائندہ جنگ/نیوز ایجنسیاں) پاناما کیس کی تفتیش کرنیوالی جے آئی  ٹی کو جنرل (ر) امجد نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا،جبکہ جے آئی ٹی میں دو جولائی سے وزیر اعظم نواز شریف کے اہل خانہ کی پیشیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع کو 2، حسن 3، حسین 4 جبکہ مریم نواز 5 جولائی کو پیش ہونگی۔

جے آئی ٹی نے مریم نواز کو پیشی پرلندن فلیٹس، بیرون ملک دیگر کاروبار کی تفصیلات اور دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی تفتیش کرنیوالی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں جمعرات کو 51واں اجلاس واجد ضیاء کی سربراہی میں ہواجس نیب کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید محمد امجد  پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا، وہ میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ہی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سے چلے گئے، لیفٹیننٹ جنرل (ر)  سید امجد نے حدیبیہ پیپرزملز کی تحقیقات کی تھیں وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیب کے چیئرمین تھے،جے آئی ٹی نے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز صفدر کو پانچ جولائی کو طلب کیا ہے جبکہ  حسن نواز 3جولائی جبکہ حسین نواز 4 جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے، جے آئی ٹی پاناما عملدر آمد کیس میں سپریم کورٹ کو اب تک تین رپورٹس پیش کر چکی ہے جبکہ حتمی تفتیشی رپورٹ 10 جولائی کو پیش کی جائے گی،ذرائع کے مطابق ایس ای سی پی ہیڈکوارٹر میں ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے جمعرات کو بھی ایس ای سی پی حکام سے اپنی تحقیقات جاری رکھیں اور ریکارڈ کا جائز ہ لیا ،جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی ریکارڈ پیش نہ کرنے یا ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے کا الزام لگایا تھا جس کو ایس ای سی پی حکام نے خلاف حقیقت قرار دیا تھا ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم جلد ہی اپنی رپورٹ جے آئی ٹی میں پیش کرے گی، صباح نیوز کے مطابق  ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس پوچھ گچھ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد امجد نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق ان کے دور میں تحقیقات سے متعلق سوالوں کے جواب دیئے۔ اس موقع پر انہوں نے جے آئی ٹی کو اس معاملے کے حوالے سے دستاویزی شواہد سے بھی آگاہ کیا۔