| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
گوادر میں بحری اڈا بنانے کے بارے میں امریکی رپورٹ درست نہیں، چینی محکمہ دفاع

Todays Print

بیجنگ (رائٹرز) چین کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں چین کا بحری اڈہ بنانے کے بارے میں امریکی رپورٹ درست نہیں ، چین کی جانب سے پاکستان میں ملٹری بیس کے قیام کی باتیں اندازے کے علاوہ کچھ نہیں ، ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہوسکتا ہے جہاں مستقبل میں چین ممکنہ طور پر اپنی ملٹری بیس قائم کرسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق چین نے پاکستان میں فوجی اڈے کے قیام کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دے کر مسترد کردیا اور کہا ہے کہ ان رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں اس حوالے سے جب گز شتہ روز چینی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل وو شیان سے نیوز بریفنگ کے دوران یہ پوچھا گیا کہ کیا چین پاکستان کے پورٹ سٹی گوادر میں بحری اڈہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ باتیں محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جا ئے۔ واضح رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ چین ممکنہ طور پر مستقبل میں پاکستان کے اندر اپنا فوجی اڈہ قائم کرسکتا ہے۔ پنٹاگون کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ افریقی ملک جبوتی میں فوجی اڈے کے قیام کے بعد چین دیگر ممالک میں بھی اپنے اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔یاد رہے کہ جب چین نے جبوتی میں اپنا فوجی اڈہ قائم کیا تھا تو بھارت نے اس پر تشویش کا اظہار کیا تھا تاہم چین ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کا خواہاں ہے البتہ حالیہ برسوں میں چین اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر رقم خرچ کررہا ہے۔