| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
خاتون آفیسرکی تعیناتی تک جے آئی ٹی مریم نواز کو طلب کرکے ان سےتفتیش نہیں کرسکتی،سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل

Todays Print

لاہور(خبرنگارخصوصی)سابق صدر جنرل ر پرویز مشرف دور حکومت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جب تک وفاقی وزارت داخلہ جوڈیشل اکیڈمی کو سب جیل قرار دے کر کسی خاتون آفیسر کو تعینات نہیں کرتی تب تک جے آئی ٹی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز  شریف کو طلب کرکے ان سے تفتیش نہیں کر سکتی،اپنے ایک بیان میں سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ  مریم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے روبرو طلبی قانون کے مطابق درست نہیں  کیونکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167(5) کے تحت  اگر کوئی خاتون قتل یا ڈکیتی کے مقدمہ میں ملوث نہ ہو تو اس کی تفتیش کے لیے اسے تھانہ میں نہیں رکھا جاسکتا اور اس سے تفتیش جیل میں ہو سکتی ہے اور دوران تفتیش ایک جیل آفیسر اور ایک خاتون آفیسر کی موجودگی ضروری ہے  انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے نہ تو جوڈیشل کمپلیکس کو سب جیل قرار دیا اور نہ ہی اس قانونی تقاضے کو یقینی بنایا کہ ان سے پوچھ گیچھ کے دوران  خاتون آفیسر کی موجودگی کو یقینی بنایا  قانونی طور پر مریم نواز شریف پوچھ گچھ  کے دوران اپنے وکیل ،شوہر یا کسی رشتہ دار کو ساتھ رکھ سکتی ہیں ۔اگر انھیں اس کی اجازت نہ دی گئی تو ان کی طلبی اور تفتیش کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔