| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
مسلم ہینڈز نے شامی تارکین وطن کیلئے امدادی سامان کے 20 کنٹینرز روانہ کردیئے

Todays Print

ناٹنگھم (آصف محمود براہٹلوی) شامی تارکین وطن کے لیے مسلم ہینڈز انٹر نیشنل کی جانب سے کھانے، پینے کی اشیا جن میں چاول، آٹا، ٹن فوڈ پر مشتمل تقریباً500ٹن خوراک کے 20 کنٹینرز روانہ کردئیے گئے۔ آدھا ملین پونڈ کھانے، پینے کی اشیا صرف ایک ہفتہ میں برطانیہ کے 15مختلف شہروں سے اکٹھی ہوئی ہیں۔ رمضان اور عید کے موقع پر برطانیہ میں آباد مختلف کمیونٹیز سے مسلم ہینڈز نے جو انیشیئٹولیا لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔ تقریب کا باقاعدہ افتتاح تلاوت کلام پاک سے ہوا،اس موقع پر کونسلرز،رضاکاروں سمیت خواتین حضرات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مقامی و انٹر نیشنل میڈیا کی موجودگی میں کنٹینرز کی روانگی کا فیتہ کاٹ کر افتتاح ہوا۔ تقریب میں چیئرمین مسلم ہینڈز سید لخت حسنین شاہ،علامہ قمرالزمان عظمی،لیڈی میئرس حلیمہ مالیٹا برائون، ڈاکٹر مشرف، امام عاصم اور دیگر نے شرکت کی۔ پُروقار تقریب کھلے گرائونڈ میں منعقد ہوئی جس میں برطانیہ بھر سے چیدہ چیدہ شخصیات، کونسلرز، مساجد کمیٹی کے ممبران، شامی مہاجر جو چند ماہ قبل برطانیہ آئے تھے،شریک ہوئے۔ سید لخت حسنین شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کے20کنٹینرز کے اندر500ٹن خوراک تقریباً پانچ لاکھ پونڈ مالیت کی ہے۔ سید لخت حسنین شاہ نے کہا کہ اس وقت مسلم ہینڈز کو گرائونڈ پر کام کرتے ہوئے تقریباً25برس ہوگئے۔ مسلم ہینڈز دنیا کے دو سو ممالک میں اپنا نیٹ ورک رکھتی ہے۔ ایمرجنسی صورتحال، سونامی، سیلاب اور جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس وقت تین ملین شامی مہاجرین پڑوسی ممالک میں کھلے آسمان تلے شیلٹرز، ٹینٹس میں بے یارو مددگار عالمی مدد کے منتظر ہیں اور تقریباً پچاس لاکھ افراد اپنے ملک شام سے اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔ انہیں زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت ہے، برطانیہ کے عوام نے اس پروجیکٹ میں دل کھول کر مدد کی اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ علامہ قمرالزمان عظمی نے کہا کہ یہ جذبہ خالصتاً انسانیت کی خدمت کا ہے، لوگوں نے عید اور رمضان میں اپنی شاپنگ کے دوران شامی مہاجرین کے لیے بھی خریداری کی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی صرف 15 مساجد سے 20کینٹینرز بھرے ہیں، جب برطانیہ بھر کی مساجد اکٹھے ہوکر حصہ لیں گی تو سب سے بڑا غذائی کانوائے روانہ ہوگا۔ امام عاصم نے کہا کہ اس پروجیکٹ سے مسلم کمیونٹی کے اندر اتحاد و یکجہتی بھی پیدا ہوئی ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ڈاکٹر مشرف حسین نے کہا کہ یہ جذبہ ہمیں ایک دوسرے کے مزید قریب کرتا ہے۔ مسلم کمیونٹی نے جس قدر شامی مہاجرین کی بھوک مٹانے کے لیے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، ہمیں اس قدر اتحاد کی ضرورت ہے کہ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بھی اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انتظامی ذمہ داران کاکہنا تھا کہ یہ کارواں دو دن میں برطانیہ سے ترکی پہنچے گا اور دو دن بعد مسلم ہینڈز کے رضاکار شام اور ترکی کے بارڈرز پر جائیں گے اور اپنی مدد آپ کے تحت امداد تقسیم کریں گے۔ عوام کاردعمل دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عوام صرف کال کے منتظر ہوتے ہیں اور جواب میں چند دنوں کے اندر کنٹینرز بھر جاتے ہیں۔ آخر میں علامہ قمرالزمان عظمی نے دعا کرائی اور کنٹینرز روانہ کردئیے گئے۔