| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے دوررس نتائج نکلیں گے، مزمل مختار

Todays Print

لندن (جنگ نیوز) معروف قانون دان مزمل مختار نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق اور بچوں کی برطانوی شہریت کے حوالے سے حالیہ دو فیصلوں کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان فیصلوں کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ ’’جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل مختار نے کہا کہ انسانی حقوق کے کیس کی صورت میں ہوم آفس کی طرف سے کیس مسترد ہونے کی صورت میں اپنے ملک جاکر اپیل کرنے کے طریقہ کار کو سپریم کورٹ نے غیر موثر قرار دیا اور کہا ہے کہ ایسے کیسوں میں بہتر اور موثر اپیل کا حق برطانیہ میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دوسرے کیس میں سپریم کورٹ نے بھارتی فیملی کے کیس میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ ایسے بچے جو تین دسمبر2004ء یا اس کے بعد پیدا ہوئے ہیں اور ان کے والدین کا پاسپورٹ برطانوی نہیںاور بچے کے پاس والدین کے متعلقہ ملک کا پاسپورٹ بھی نہیں ہے اور بچے کی عمر پانچ برس یا اس سے زائد ہے تو وہ برطانوی شہریت حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ اعلیٰ عدالت نے یہ فیصلہ ایک بھارتی فیملی کے کیس میں دیا ہے لیکن اس کے اثرات بہت وسیع ہوں گے اور اس کا اطلاق دوسرے ممالک کے امیگرنٹس پر بھی ہونے کا امکان ہے۔