| |
Home Page
بدھ 28 ذوالحج 1438ھ 20 ستمبر 2017ء
ادارتی نوٹ
July 14, 2017 | 12:00 am
ملازم بچوں پر تشدد

Mulazim Bachon Par Tashaddud

گھریلو ملازم بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام میں متعلقہ ادارے بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔ایبٹ آباد میں ایک آٹھ سالہ غریب بچے کا گدھا بااثر شخص کے کھیت میں گھس گیا جس پر کھیت کا مالک مشتعل ہو گیا اور بچے کو گدھے سے باندھ کر کئی کلو میٹر تک گھسیٹا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ لوگ دیکھتے رہے لیکن کسی نے اس ظلم کو روکنے کی جرأت نہ کی پولیس بھی حسب معمول موقع پر نہ پہنچی۔ ایک روز قبل لاہورمیں خاتون ایم پی اے کی بیٹی کے مبینہ تشدد سے بارہ سالہ گھریلو ملازم ہلاک ہو گیا بچے اختر کی دس سالہ بہن عطیہ بھی اسی گھر میں ملازمہ ہے پولیس کے مطابق دونوں بہن بھائی کے جسموں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ایم پی اےرو پوش ہو گئی جبکہ اس کی بیٹی نے ضمانت کرالی یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ آئے روز بچوں پر طرح طرح کے تشدد کی خبریںسامنے آتی ہیں۔ لیکن ان کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات نہیں کئےجاتے ان واقعات میں زیادہ تر بااثر لوگ ملوث ہوتے ہیں ۔ بھٹوں پر بچوں کی مشقت کے خلاف قانون موجود ہے اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جاتا۔ اکثر بھٹے دور دراز مقامات پر واقع ہیں جہاں ہونے والے ظلم و تشدد کے واقعات کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ غریب لوگ معاشی حالات سے مجبور ہو کر امیر اور اثرورسوخ رکھنے والے لوگوں اور بھٹہ مالکان کے پاس اپنے بچے ’’بیچ‘‘ دیتےہیں انسانیت کی سوچ سے عاری یہ خریدار اس قدر نہایت سنگدل ہیں اور پولیس کی زبان بندی بھی ان کیلئےکوئی مشکل نہیں ہے۔ پکڑے بھی جائیں تو صاف بچ جاتے ہیں کیونکہ غریب والدین کو ڈرادھمکا کر صلح نامے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ مقدمہ چلے بھی تو فیصلے میں سالہا سال گزر جاتے ہیں اس لئے ایسے کیسوں کی جلد اور سرسری سماعت کیلئے قانون سازی کی جانی چاہئے تا کہ مجرموں کو قرارواقعی سزا ملے اور انصاف میں تاخیر نہ ہو۔