| |
Home Page
پیر یکم ربیع الاوّل 1439ھ 20 نومبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
خواتین کرکٹ میں آپریشن کی تیاری، کوچ اور کپتان میں ہم آہنگی نہیں تھی، صبیح اظہر کی برطرفی یقینی

Todays Print

کراچی(عبدالماجد بھٹی،اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں بدترین اور تباہ کن کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم کے کوچ صبیح اظہر کو ان کی ذمے داریوں سے برطرف کردیا جائے گا۔پی سی بی چیئر مین شہریار خان کا دعوی ہے کہ کوچ صبیح ااظہر اور کپتان ثنا ء میر کے درمیا ن، ہم آہنگی( انڈر اسٹینڈنگ) نہیں تھی۔بورڈ خواتین ٹیم کی شرم ناک کارکردگی کے بعد اعلی سطحی تحقیقات نہیں کرائے گا۔بلکہ طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ذریعے خواتین کرکٹ ٹیم کو دنیا کی دیگر ٹیموں کے برابر لایا جائے گا۔ہمیں اندازہ تھا کہ ٹیم دیگر ٹیموں کے ہم پلہ نہیں ہے۔

کارکردگی توقعات کے مطابق ہے۔واضع رہے کہ صبیح اظہر اس سے قبل پاکستان انڈر19ٹیم کے کوچ تھے ۔پاکستان انڈر نائیٹین ٹیم نے بابر اعظم کی قیادت میں آٹھویں پوزیشن پر فنش کیا تھا۔اتوار کو لندن سے نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ میں شکست کے بعد پوری ٹیم انتظامیہ کو فارغ نہیں کریں گے لیکن کوچ صبیحاظہرکو یقینی طور تبدیل کریں گے۔ملک میں خواتین پلیئرز کی کمی ہے۔ٹیم کو بہتر بنانے کے لئے طویل منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ورلڈ کپ کے لیے خواتین ٹیم کو خاصی تیاری کرائی گئی تھی لیکن ٹیم کی کارکردگی سے وہ بہت زیادہ مایوس ہوئے ہیں۔ صبیح اظہر کو آخری لمحات میں کوچ بنائے جانے کا فیصلہ کامیاب نہیں رہا اور انہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ کھلاڑی بھی ان سے خوش نہیں۔کبیر خان اچھے کوچ تھے لیکن انہوں نے اپنی والدہ کی بیماری کی وجہ سے آخری لمحات میں کوچنگ کرنے سے معذرت کر لی۔ اگر پاکستان میں خواتین کرکٹ کا معیار بلند کرنا ہے تو اس کے لیے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اگر خواتین کرکٹ میں کسی کی اجارہ داری ہے تو اسے ضرور ختم کریں گے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ وہ چاہیں گے کہ نیا ٹیلنٹ سامنے آئے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب بلوچستان اور گلگت جیسی جگہوں سے بھی کھلاڑی ٹیم میں آئی ہیں جس سے نوجوان اور نئی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی لیکن معاشرتی مسائل بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے۔انگلینڈ میں جاری خواتین کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کوتمام سات گروپ میچوں میں شکست ہوئی ہے۔

شہر یار خان نے کہا کہ میں انگلینڈ میں بیٹھ کر ٹورنامنٹ کو فالو کرتا رہا اور ایک میچ بھی دیکھنے گیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹ کو بہتر بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔پاکستان کی بولنگ بہتر ہے لیکن فیلڈنگ اور بیٹنگ میں ہمیں بہت کام کرنا ہے۔بسمہ معروف کا ان فٹ ہونا ٹیم کے لئے بڑا دھچکہ ہے۔ہمیں اقدامات کرکے ٹیم کو اوپر لانا ہوگا۔گذشتہ سال انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم بری طرح ناکام ہوئی تھی ایک سال میں ٹیم مزید نیچے آگئی۔