| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
گلیوں اور سڑکوں پر 2 تا 3 فت پانی جمع، مون سون بارشوں سے نمٹنے کے واسا کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

Todays Print

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) مون سون بارشوں نے سرکاری مشینری اور اداروں کی قلعی کھول دی، حیدرآباد ریلوے اسٹیشن برساتی پانی میں ڈوب گیا، نکاسی آب کے لئے نصب موٹرز ناکارہ ہونے کا انکشاف جبکہ لاکھوں روپے کےنمائشی جنریٹرز رکھ کر اعلیٰ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے، ٹھنڈی سڑک، آٹو بھان روڈ سمیت رہائشی اور کمرشل علاقوں میں 3 روز سے 3 فٹ تک بارش کا پانی جمع، ادارہ ترقیات حیدرآباد کا ذیلی شعبہ واسا ہنگامی پلان پر عملدرآمد کرنےمیں ناکام، شہر کے متعدد علاقوں سے تاحال نکاسی آب کےانتظامات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، دوسری جانب نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے گلی، محلوں اور چوراہوں پر جمع شدہ پانی اور کچرے کے ڈھیر میں بدبو پھیلنےسےشہریوں میں امراض پھوٹنے کے امکانات پیدا ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ گزشتہ جمعہ سے جاری ہے۔

ضلع انتظامیہ کی جانب سے ادارہ ترقیات حیدرآباد کے ذیلی شعبے واسا اور دیگر متعلقہ اداروں سے مون سون بارشوں کا پانی نکالنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ اس ضمن میں واسا کی جانب سے کانٹیجنسیپلان بھی تیار کیا گیا تھا، ضلعی انتظامیہ اور واسا کی جانب سے متعدد بار مون سون بارشوں کے دوران نکاسی آب کے لئے برساتی نالوں کی صفائی اور دیگر اقدامات اٹھانے کے دعوے اس وقت جھوٹے ثابت ہوگئے جب جمعہ کے روز سے مون سون کی پہلی بوند شہر حیدرآباد میں پڑی۔ حیدرآباد کے گلی،محلوں،کمرشل اور رہائشی ایریاز میں جگہ جگہ برسات کا پانی جمع ہے لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

جمعہ کے روز موسلادھار اور گزشتہ روز پڑنے والی بارش کا پانی ریلوے اسٹیشن میں جمع ہوگیا، جس کے بعد ایکسے ڈیڑھ فٹ پانی سے گزرنا شہریوں اور مسافروں کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے، مگر انتظامیہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب باچا خان چوک،قدم گاہ روڈ،آٹو بھان روڈ،قاسم آباد کے مصطفی ٹاؤن فیز ون،گلشن بختاور،لطیف آباد 7‘8‘ 12‘ 2 اور شہر کے دیگر علاقوں میں 3 فٹ تک پانی جمع ہے۔ مذکورہ علاقوں میں جمع بارش کے پانی میں بدبو پھیلنا شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں امراض پیدا ہونے کے امکاناتہیں۔ ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق واسا کے پاس نکاسی آب کی آدھی سے زائد مشینری ناکارہ ہے جبکہ گدو چوک،لطیف آباد 7 و دیگر متعدد مقامات پر لاکھوں روپے کے جنریٹرز موجود ہونے کے باوجود پانی کی نکا سی کے لئے استعمال نھیں کئے گئے اور افرادی قوت بھی کم ہے جس کی وجہ سے شہری عذاب میں مبتلا ہیں دوسری جانب قاسم آباد اور لطیف آباد تحصیل کے بیشتر مقامات پر گٹروں پر ڈھکن نہیں اور برساتی پانی میں ڈوبے ہونے کے باعث ایک درجن سے زائد حادثات ہوچکے ہیں، گندا پانی سڑکوں اور علاقوں میں جمع شدہ برساتی پانی سے مل گیا ہے۔ جنگکی جانب سے رابطہ کرنے پرریلوے اسٹیشن کے ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پکا قلعہ کا پانی ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں جمع ہوگیا ہے،نکاسی آب کے لئے حبیب ہوٹل کے پاس موٹر نصب ہے جو بند پڑی ہے جبکہ نکاسی آب کے لئے متعلقہ اداروں سے رجوع کیا گیا مگر تاحال کسی قسم کی پیشرفت نہیں ہوئی۔