سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے انجام کا آغاز آج سے، فریقین کی اپنی اپنی امیدیں
| |
Home Page
ہفتہ 27 شوال المکرم 1438ھ 22 جولائی 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے انجام کا آغاز آج سے، فریقین کی اپنی اپنی امیدیں

Todays Print

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے انجام کا آغاز آج سے، فریقین کی اپنی اپنی امیدیں

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ سیل) پاناما کا ہنگامہ فائنل رائونڈ میں داخل ہوگیا، جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں پہلی سماعت آج ہوگی.

اس حوالے سے فریقین کی اپنی اپنی امیدیں برقرار ہیں، ن لیگ قانونی لڑائی اوراتحادی ساتھ نبھانے کے لئے تیار ہیں ، جبکہ اپوزیشن نے بھی وزیراعظم کی رخصتی کی امیدیں باندھ لی ہے، جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ (آج)پیر کو جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت کریگا، اس حوالے سے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں، شریف فیملی کے وکلاء نے جے آئی ٹی رپورٹ کو چیلنج کرنیکی درخواست تیار کرلی ہے اور ان کی جانب سے کارروائی سے پہلے اس پر فیصلہ کی استدعا کی جائیگی، جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے اس صورتحال میں ساری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں، اس اہم کیس کی سماعت کے موقع پر اور عدالت عظمیٰ اور ریڈ زون کیلئے سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے،ریڈ زون سیل کر دی جائیگی، جہاں غیرمتعلقہ افراد کا داخلہ بند رہیگا ، صرف وکلا اور میڈیا کے نمائندے داخل ہو سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ آج صبح ساڑھے 9 بجے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت کریگا اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان اور تحریک انصا ف کے سربراہ عمران خان سمیت فریقین کے وکلاء کو نوٹس جاری کر دیئے تھے ۔

نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے اس صورتحال میں ساری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں۔ خواجہ حارث کی سربراہی میں شریف خاندان کے وکلا کی ٹیم نے جے آئی ٹی رپورٹ کو چیلنج کرنے کیلئے درخواست کا مسودہ تیار کر کے دائر کرنے کی منظوری حاصل کر لی ٗ سپریم کورٹ سے استدعا کی جائے گی کہ کوئی بھی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اس درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کی طرف سے جے آئی ٹی کو رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی استدعا کی جائیگی تیار کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کوبدنام کرنے کیلئے جھوٹی اور غیرمصدقہ دستاویزات کا سہارا لیکر ایسی رپورٹ تیار کی، اس کا واحد مقصد عوام کو حکمران خاندان سے بدظن کرنا اور سیاسی نقصان پہنچانا ہے، رپورٹ میں موجود مواد اور دستاویزات جے آئی ٹی کی تشکیل سے پہلے اکٹھی کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق درخواست میں جے آئی ٹی ارکان کی جانبداری کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا کہ گواہوں پر بیانات تبدیل کرنے کیلئے دبائوڈالا گیا اور لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی ٗعدالت عظمیٰ کو گمراہ کیا گیا اورجے آئی ٹی جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے وضع کردہ سوالات سے ہٹ کر حدیبیہ پیپر ملز اورچوہدری شوگر ملز کے معاملے میں پڑ گئی حالانکہ یہ معاملات پہلے سے کسی نہ کسی شکل میں مختلف فورمز پرنمٹائے جاچکے ہیں، عدالت سے رپورٹ مسترد کرنے اور عدالت کو گمراہ کرنے پر جے آئی ٹی کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی جائیگی۔ پاناما کیس کے حوالے سے فریقین کی اپنی اپنی امیدیں ہیں لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں سیاسی چالیں اپنی جگہ لیکن فیصلہ سیاسی اکھاڑے کی بجائے اب سپریم کورٹ میں ہی ہو گا۔

دریں اثنا سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ اور ریڈ زون کیلئے غیر معمولی سیکورٹی انتظامات کئے جائینگے ٗ ایس ایس پی سیکورٹی جمیل ہاشمی کے مطابق پیر کو ریڈ زون سیل کر دیا جائے گا اورغیرمتعلقہ افراد کا داخلہ بند ہوگا تاہم وکلا اور میڈیا کے نمائندے داخل ہو سکیں گے، ریڈ زون کے داخلی راستوں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔