| |
Home Page
جمعرات 29 ذوالحج 1438ھ 21 ستمبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
شریف خاندان کی قانونی ٹیم رپورٹ میں تضادات کا مدعا اُٹھائے گی

Todays Print

شریف خاندان کی قانونی ٹیم رپورٹ میں تضادات کا مدعا اُٹھائے گی

اسلام آباد(نورآفتاب/طارق بٹ)شریف خاندان کی جانب سے مقرر کردہ قانونی ٹیم عدالت عظمیٰ میں پاناما مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو چیلنج کرنے کے لیے پٹیشن فائل کرے گی۔

ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ شریف خاندا ن کی قانونی ٹیم نےجے آئی ٹی رپورٹ کو نامکمل، متعصب، ہتک آمیزٹھہراتے ہوئے پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم رپورٹ میں موجود تضادات کا مدعا ہی نہیں اٹھائے گی بلکہ وہ اس میں موجود شریف خاندان کے خلاف متعصب آراء اور قیاس آرائی، ممکنات اور تجزیات پر مبنی آرا کی بھی نشاندہی کرے گی۔، تاہم اس کا آغازپیر کے روز(آج)ہوتانظر نہیں آرہاجو کہ بہت سے لوگوں کی جانب سے متوقع فوری فیصلے کے بعد ہوگا۔آج کے دن کو اس فیصلہ کن روز کا آغاز کہا جارہا ہےجس میں پاناما کیس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جامع رپورٹ سے متعلق کارروائی کا آغاز ہوگا۔تاہم اس کے روز آخر ہونے کی توقع نہیں ہے۔

شریف خاندان کے وکلاءفی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ طویل جے آئی ٹی رپورٹ میں لگائے گئے ہرالزام کا جواب دے سکیں ۔اگر جے آئی ٹی اپنی رپورٹ کی تیاری میں 60روز لے سکتی ہے، جب کہ اس نے اس سے قبل ہی اس حوالے سے کام شروع کردیا تھا تو وکلاء دفاع کو9والیمز پر مبنی رپورٹس کا جواب دینے کے لیے اس سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔

دسواں والیم جو کہ باہمی قانونی معاونت سے متعلق ہےاسے خفیہ رکھا گیا ہےکیوں کہ کچھ بیرون ممالک کو جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔جواب دہندگان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر خاصے اعتراضات اٹھائے ہیں، جس میں شریف خاندان کے کچھ ارکان کے خلاف غیرموزوں زبان سے ان کے بیانات میں تراش خراش تک شامل ہے، جس میں ان کے بیانات کے مخصوص حصے ہی رپورٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں ۔ریکارڈ کی گئی گواہیوں کو لفظ بہ لفظ رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، جس سے من پسند رپورٹ بنانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یہ قانونی ٹیم جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود 4نکات کو بھی چیلنج کرے گی ۔ان میں مریم نواز کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں نیلسن اور نیسکول نامی کمپنیوںکی ملکیت کی تصدیق،میان نواز شریف کی چیئرمین شپ میں آف شور کمپنی ایف زیٹ ای کیپیٹل(متحدہ عرب امارات)کی تصدیق، عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے فرضی خرید و فروخت معاہدات کی تصدیق  اور فرضی ، تحریف شدہ ٹرسٹ ڈیکلیئریشن کی تصدیق شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق، شریف خاندان کی قانونی ٹیم کی سربراہی سینئر وکیل خواجہ حارث کررہے ہیں، تاہم دو معروف وکلاء شاہد حامد اور مخدوم علی خان  ملک سے باہر ہونے کے سبب اس ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔جب کہ سلمان اکرم راجا بھی آئندہ چند روز میں بیرون ملک جانے کے سبب دستیاب نہیں ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹیشن میں اس بات کی نشاندہی کی جائے گی کہ رپورٹ میں مریم نواز کو نیلسن اور نیسکول نامی آف شور کمپنیوں کا حقیقی مالک ٹھہرایا گیا ہے، جب کہ دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ان جائدادوںسے متعلق ملکیت کی موجودہ حیثیت کی تصدیق یا اسے چیک ریکارڈ یا شواہد کی غیر موجودگی میں نہیں کی جاسکتی۔ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ قانونی ٹیم ایرول جارج اور سامبا فنانشل گروپ کے خطوط کو بھی چیلنج کرے گی ، جس کی بنیاد پر جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ مریم صفدر نے جے آئی ٹی کے پاس جعلی ، فرضی دستاویزات جمع کرائے ہیں۔عدالت عظمیٰ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی جائے گی کہ جے آئی ٹی ، بی وی آئی فنانشل سروس کمیشن سے نیلسن اور نیسکول نامی آف شور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق معلومات لینے میں ناکام ہوگئی او ر اس نے کمپنی کی جانب سے ’’اپنے صارفین کی معلومات جانیں ‘‘پر اکتفا کیا، جس میں ان کمپنیوں سے متعلق باقاعدہ معلومات کی کمی تھی۔

جہاں تک نواز شریف کی ایف زیٹ ای کیپیٹل (متحدہ عرب امارات)نامی کمپنی کی ملکیت کا تعلق ہےتو قانونی ٹیم یہ موقف اختیار کرے گی کہ کمپنی کی ملکیت شیئر ہولڈنگ سرٹیفکیٹس سے ثابت ہوتی ہےاور کمپنی کی چیئرمین شپ کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ وہ شخص اس کمپنی کا مالک ہے۔

ذرائع کے مطابق عدالت عظمیٰ میں یہ اعتراض بھی اٹھایا جائے گا کہ تحقیقاتی ٹیم نے معاہدے کے مستند ہونے سے متعلق اہلی اسٹیل ملز سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔یہ معاہدہ شریف خاندان کے ارکان اور اہلی اسٹیل ملز کے درمیان 1980میں ہوا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم اس مدعے کو بھی اٹھائے گی کہ مائیکرو سوفٹ کا ’’کیلیبری‘‘فونٹ 2006 میں استعمال کے لیے موجود تھا ، اس کے برعکس جے آئی ٹی کا موقف تھا کہ حسین نواز اور مریم نواز کی جانب سے دیے گئے ڈیکلیئریشن آف ٹرسٹ جعلی ہیں کیوں کہ اس میں جس کمپیوٹر فونٹ کا استعمال کیا گیا ہے وہ 2007سے قبل موجود نہیں تھا۔یہ حقیقت ہے کہ کیلیبری فونٹ2004کے بعد سے ڈائون لوڈکیا جاسکتا تھا، تاہم اسے مائیکروسوفٹ آپریٹننگ سسٹم کا حصہ 2007میں بنایا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم ، جے آئی ٹی کی گلف اسٹیل ملز سے متعلق نتائج کو بھی چیلنج کرے گی۔

یہ اندراج کیا جاسکتا ہےکہ بے نامی ملکیت کی نامزدگی(18سالہ یتیم اور غیرملکی شہری)اپنے اور اپنے قریبی گھروالوںکو پروسیکیوشن سے دور رکھنےکے لیے کی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ میں یہ بات بھی ثابت ہوجائے گی کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اہلی اسٹیل ملزکی اسکریپ مشینری کی دبئی سے جدہ منتقلی سے متعلق جو بات کی گئی ہے اس میں اس حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ شریف خاندان کے ارکان نے جو دستاویزات جمع کرائی ہیںوہ اس مشینری کی شارجہ سے جدہ منتقلی سے متعلق ہیں۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں وزیر اعظم نواز شریف کو لندن کے 63-Aفلیٹس میںرہائش کے طور پر  ʼخصوصی استعمال کے سبب مالک قرار دیا گیا ہے، قانونی ٹیم یہ نکتہ اٹھائے گی کہ یہ بات بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے کی گئی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پٹیشن میں شریف خاندان کی کردار کشی کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا کیوں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ان کے لیے بہت سے غیر موزوں الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔

ادھرشریف خاندان بھی مختلف طریقہ کار پر غور کررہا ہے، جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو نیا بینچ تشکیل دینے کی درخواست کرنا بھی شامل ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون کے تحت اعلیٰ جج کی ضرورت ہوگی جو اس درخواست پر فیصلہ کرے گا۔یہ چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ نیا بینچ تشکیل دیں۔

آئینی ماہرین کے مطابق، موجودہ تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل خان کررہے ہیںوہ بھی اس معاملے کو چیف جسٹس کے پاس لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے بھجوا سکتے ہیں یا پھر کیس کو دوسرے کسی پینل میں بھی بھجوا سکتے ہیں۔ان تمام حقائق سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہےکیوں کہ شریف خاندان کے وکلا ء نے ابھی عوامی سطح پر اس بات کا اظہارنہیں کیا ہے۔

وہ اب تک مختلف قانونی حوالوں سے اپنا لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔آئینی اور قانونی حلقو ں میں اس بات پر کوئی نااتفاقی نہیں ہے کہ جے آئی ٹی کے اخذ کردہ نتائج صرف ایک رپورٹ ہے ، جیسا کہ پولیس ، ایف آئی اے یا نیب کی تفتیشی ٹیم کوئی رپورٹ بناتی ہے۔جس کا دارومدار عدالتی کارروائی کے ذریعے ان کی جانچ پڑتال پر ہوتا ہے ، جو آئین و قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔آئے روز مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کو عدالتیں غلط ، ناقص اور تعصب پر مبنی ہونے کی بنیاد پر مسترد کرتی رہتی ہیں۔

یہاں تک کہ بڑے پیمانے پر قتل کے ملزمان کو بھی عدالت عظمیٰ نے ناقص تحقیقات اور عدلیہ کے مختلف فورمز سے دیے جانے والے ناقص فیصلوں کی وجہ سے رہا کیا ہے۔تاہم اس کے باوجود کچھ لوگ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کو آسمانی صحیفے کی طرح سمجھ رہے ہیںجیسا کہ اس کے چھ ارکان غلطیوں سے مبرا ہوں، جب کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ متعدد فائونڈیشنزجس کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیںوہ غلط اور گمراہ کن ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کے حوالے سے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا اور اس نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر عاصم حسین نے 469ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔اس رپورٹ کے ساتھ کیا ہوا ، اس حوالے سے رائے دینے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ملزم کو تمام کیسز میں جو ان کے خلاف رجسٹرڈہوئے ضمانت دے دی گئی۔

پی پی پی نے ڈاکٹر عاصم سے ہر موقع پر اپنائیت کا اظہار کیا۔زرداری اور پیپلز پارٹی کی دیگر اعلیٰ قیادت نے اسپتال جسے سب۔جیل قرار دیا گیا تھا وہاں وقتاً فوقتاًآتے جاتےرہے۔تاہم کسی بھی سیاسی جماعت نے پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ سے جے آئی ٹی کے اخذ کردہ نتائج کی بنیاد پر مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا۔ تاہم اب یہ مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیںکہ وزیر اعظم نواز شریف پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر مستعفی ہوں۔یہ ایک انوکھی جے آئی ٹی تھی جسے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت عظمیٰ نے تشکیل دیا تھا۔

قانونی ماہرین کا ایک گروہ اس کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندگان کو اس جے آئی ٹی میں کیوں شامل کیا گیا جب کہ آئی بی کے کسی فرد کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔یہ پہلی جے آئی ٹی تھی جسےخصوصی بینچ کی جانب سے بے پناہ اختیارات دیے گئے ، یہاں تک کہ برطانوی لاء فرم جو کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کی ملکیت  ہے،کی مدد لینے کے لیے لازمی اصولوں کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ جے آئی ٹی کے اخذ کردہ نتائج کا عدالت عظمیٰ میں دفاع کون کرے گا، جب کہ 60روز گزرجانے کے بعد جے آئی ٹی ختم ہوچکی ہے۔تاہم یہ کہا جارہا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان سے متعدد نکات واضح کرنے کے لیے سوالات کیے جاسکتے ہیں، جس کے لیے ان کا کمرہ عدالت میں ہونا ضروری ہے۔

البتہ وہ وکیل نہیں ہیں اور عدالت عظمیٰ یہ کردار ادا نہیں کرسکتی ۔جب کہ پٹیشنرز خاص طور پر پی ٹی آئی جے آئی ٹی رپورٹ کا دفاع کرے گی کیوں کہ اتنے عرصے سے جن الزامات کا دعویٰ کررہے تھے ، رپورٹ میں وہی باتیں کی گئی ہیں۔وہ ہر طرح سے جے آئی ٹی رپورٹ سے متفق ہیں جب کہ یہ رپورٹ انہوں نے تیار نہیں کی ہے۔