| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
سیاسی مخالفین کی سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہیں ، سعد رفیق

Todays Print

لاہور (نمائندہ جنگ)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاست میں جہاں ہم اپنے سیاسی مخالفین کی سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہیں وہاں قومی تعمیر و ترقی کیلئے بھی جان لڑا کر محنت کر رہے ہیں ، اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیئے پورا وقت صرف کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری کر دہ اپنے ایک خط میں انہوں  کہا کہ اسی ہفتے جہاں ای سی او کانفرنس میں ایران اور ترکی کے راستے یورپ تک ریل کے سفر کو یقینی بنانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے وہاں ہم  نے چینی ماہرین کے ساتھ سی پیک کے تحت کراچی سے پشاورتک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کی تفصیلات بھی طے کرلی ہیں جس کے تحت اس پورے ٹریک کو ڈبل کردیاجائے گا، مسافر بردار ٹرینوں کی سپیڈ کم ازکم 110 کلومیٹرفی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھادی جائیگی جبکہ مال بردارگاڑیوں کی رفتار120کلومیٹرفی گھنٹہ ہو جائیگی۔

ہماری چین کے نیشنل ریلوے ایڈمنسٹریشن کے وفدنے زینگ ہونگ بوکی سربراہی میں وفد کے ساتھ ملاقاتیں اسلام آباد اور لاہور میں ہوئی ہیں۔ ایم ایل ون پر جہاں اس وقت 32ٹرینیں چل رہی ہیں ان کی تعداداور گنجائش 171تک بڑھ جائے گی۔ ہم چینی دوستوں کی مدد سے 2655 کلومیٹرطویل ٹریک کو اپ گریڈ، 364کلومیٹر ٹریک کو اوور ہال اور 814کلو میٹر طویل ٹریک کو مکمل نیاتیارکیاجائے گا۔ اپ گریڈیشن کو 2مرحلوں میں مکمل کیاجائے گااور2700پل، 550خم اور11ٹنل بھی اپ گریڈہوں گے، فیز ون میں ملتان سے لاہور، پشاور سے راولپنڈی، کالووال سے پنڈورا، نواب شاہ سے روہڑی اور ریلوے والٹن اکیڈیمی بھی شامل ہے۔ ہمیں ریل کے حادثات پر بھی تشویش ہے اگرچہ اس مشکل کا سامنا انڈیا اور امریکہ کی جدید ترین ریلویز کو بھی ہے مگر وزارت دفاعی پیداوار کے ذیلی ادارے نیسکام سے سسٹم کی تیاری کے لئے کام شروع کرنے کے علاوہ  اپ گریڈیشن کے اس عظیم الشان اور تاریخ ساز منصوبے میں کمپیوٹرائزڈ انٹر لاکنگ سسٹم، آٹوبلاک سگنلگ، آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن، ایڈوانس روڈ وارننگ اور سنٹرلائزڈ ٹریفک کنٹرول کے جدید نظام بھی شامل ہیں۔

سی پیک کے تحت چینی ماہرین کراچی سے حیدرآبادتک موجودہ ٹریک کی اوورہالنگ کرتے ہوئے اس سیکشن میں سپیڈ 160کلومیٹرفی گھنٹہ کرنے کے علاوہ ایک متبادل ٹریک بھی بچھائیں گے اور جہاں سپیڈ 160 کلومیٹر ہو گی یا آبادی ہو گی وہاں ٹریک کی فینسنگ کرتے ہوئے اسے محفوظ اور آئسولیٹڈ بنا دیا جائیگا۔ ہمیں خوشی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان ریلویز میں انقلاب کی بنیادرکھی جارہی ہے اپنی آنے والے نسلوں کو ایک دم توڑتی نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تیزی سے منزل کی طرف دوڑتی ہوئی ریلوے دے کرجائیں گے،ہم اس سے پہلے ہی 18ارب سالانہ کمانے والی دم ٹوڑتی ریلوے کی آمدن 40ارب تک لے جا چکے ہیں جبکہ اس برس ٹارگٹ 55ارب ہے، بہت جلد چار برسوں میں آنے والی بہتری اور ترقی کی تفصیلات سے بھی قوم کو آگاہ کیا جائے گا ۔