| |
Home Page
جمعرات 03 ذیقعدہ 1438ھ 27 جولائی 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کا محاصرہ ختم کردیا، فلسطینیوں کا قبلہ اول کے باہر احتجاج

Todays Print

مقبوضہ بیت المقدس (اے ایف پی، جنگ نیوز) اسرائیلی فورسز نے دو روز بعد مسجد اقصیٰ کا محاصرہ ختم کردیا اور اسے کھول دیا ہے تاہم مسلمانوں نے قبلہ اول میں داخلے کے لئے کئے گئے نئے اقدامات کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے، نئے سیکورٹی اقدامات میں میٹل ڈیٹکٹرز اور کیمرے نصب کئے گئے ہیں، گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کو کھولے جانے کے بعد نمازیوں کی بڑی تعداد اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے قبلہ اول میں داخل ہوئی، اسرائیلی فورسز نے گزشتہ دنوں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر تین فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا جبکہ اس کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں دو اسرائیلی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مسجد اقصیٰ کو بند کردیا گیا تھا، گزشتہ روز مسجد اقصیٰ میں نماز ظہر کی اذان دی گئی تاہم نمازیوں کی بڑی تعداد نے احتجاجاً مسجد کے باہر جمع ہوکر نماز ادا کی، وہ نئے سیکورٹی اقدامات کیخلاف احتجاج کررہے تھے، پولیس کے مطابق 200 کے قریب نمازی مسجد میں داخل ہوئے، مسجد اقصیٰ کے منتظم اعلیٰ شیخ عمر قصوانی کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے نافذ کی گئیں ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں، ہم ان میٹل ڈیٹکٹرز سے ہوتے ہوئے مسجد میں داخل نہیں ہوں گے، ایک نمازی 52 سالہ وحیب لفطاوی نے بتایا کہ اس طرح کے میٹل ڈیٹکٹرز کو مساجد کے آگے نصب نہیں ہونا چاہئے، اسی لئے ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور اسٹیٹس کو برقرار رکھا جائے گا، بعد ازاں ایک جنازے کو مسجد میں داخل سے روک دیا گیا، دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیرس روانگی سے قبل نئے سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے ہی مسجد اقصیٰ کے داخلی راستے پر میٹل ڈیٹکٹرز نصب کئے جانے کی ہدایت کی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے باہر پولز پر سیکورٹی کیمرے بھی نصب کریں گے جس سے وہ وہاں کی مکمل نگرانی کرسیکں گے، دریں اثناء نیتن یاہو نے ہفتے کی رات گئے اردن کے شاہ عبداللہ دوئم سے ٹیلی فون پر بات کی تھی، یہ بات عمان سے جاری بیان میں بتائی گئی، شاہ عبداللہ دوئم نے حملے کی مذمت کی اور نیتن یاہو سے مسجد اقصیٰ کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کرنے پر زور دیا تھا، فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اسی طرح کا پیغام نیتن یاہو کو دیا تھا، دونوں رہنمائوں کے درمیان جمعے کو فون پر بات چیت ہوئی تھی۔