| |
Home Page
بدھ 03 ربیع الاوّل 1439ھ 22 نومبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
نور محمد ترہ کئی نے فرسودہ نظام کیخلاف آواز بلند کی ‘ مقررین

Todays Print City News

کوئٹہ (سٹی ڈیسک)پشتوزبان کے ادیبوں دانشوروں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے افغان ثور انقلاب کے بانی رہنماء مرحوم نور محمد ترہ کئی کو ان کی 100ویں یوم پیدائش پر بھرپور طریقے سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا شمار نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کے ان نمایاں سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوںنے بیسویں صدی میں اپنی صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کی بدولت اپنے نام کا لوہا منوایا انہوں نے نہ صرف سیاسی میدان بلکہ ادبی اور صحافتی پلیٹ فارم سے بھی نچلے اور پسے ہوئے طبقات کی آوازبلند کی جس کی بدولت وہ آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان خیالات کااظہار پروفیسر آغازاہد ،ملک عنایت کاسی ،ڈاکٹرضیاء ،پشتوادبی غورزنگ کے صدر ڈاکٹرمحمدصادق ژڑک ،جنرل سیکرٹری جعفر خان ودان ،پروگریسیو یوتھ الائنس کے بلاول بلوچ ،کریم پرہر،حسین آغا ایڈووکیٹ ودیگر نے مرحوم نورمحمدترکئی کے سو ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نور محمد ترکئی کی سوویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مرحوم کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14جولائی1917نور محمد ترہ کئی کا یوم پیدائش ہے آج ان کی سوویں سالگرہ منائی جارہی ہے اور اس سلسلے میں پوری دنیا میں ان چاہنے والے مختلف تقاریب کا اہتمام کررہے ہیں نور محمد ترکئی کا شمار بیسویں صدی کے اہم ترین عالمی سیاسی رہنمائوں میں ہوتا ہے انہوں نے افغانستان میں چلے آرہے فرسودہ نظام کے خلاف زمانہ طالبعلمی سے آواز اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا اور نہ صرف ادبی اور صحافتی پلیٹ فارم سے نچلے طبقات کی آواز بلند کی بلکہ خلق ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان کے پلیٹ فارم سے بھرپور سیاسی جدوجہد بھی کی اسی سیاسی جدوجہد کی بدولت افغانستان میں انقلاب کا ظہور ہوا جس کے بعد نور محمد ترکئی کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے افغانستان میں جدید علوم کے حصول ،فرسودہ روایات کی بیخ کنی ، زرعی و دیگر اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی وہ طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوںنے نہ صرف افغان عوام کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے ان کے حصول کی راہ ہموار کی بلکہ پوری دنیا کے محنت کشوں اور نچلے طبقات کے لئے وہ امید کی کرن ثابت ہوئے مگر بدقسمتی سے افغانستان کے داخلی حالات اور عالمی سازشوں کی وجہ سے نور محمد ترکئی کو منظرعام سے ہٹایاگیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پوری دنیا طبقاتی جدوجہد کی حامی ہوتی جارہی ہے اور یہ سب کچھ اس جدوجہد کی بدولت ممکن ہوا ہے جو نور محمد ترہ کئی جیسی شخصیات نے شروع کی۔