| |
Home Page
بدھ 03 ربیع الاوّل 1439ھ 22 نومبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
انتظامیہ کی لاپروائی اور بلیک مافیا کو کھلی چھوٹ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

Todays Print City News

راولپنڈی (اپنے رپورٹر سے) ضلعی انتظامیہ کی لاپرواہی اور بلیک مافیا کو کھلی چھوٹ دیئے جانے کے باعث اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیکٹ والے دودھ کی قیمتوں میں غیراعلانیہ طور پر بلاجواز اضافہ کر دیا گیا۔ صرف ایک پائو کے دودھ کے ڈبہ پر پانچ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایک پائو کا پیکٹ جو پہلے 30روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا‘ اب اسکی قیمت 35روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ایک کلو کا پیکٹ 20روپے تک مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے۔ حالیہ وفاقی بجٹ میں چائے کی پتی پر ٹیکسوں میں 10فیصد تک کمی کے باوجود اسکی ریٹیل قیمتوں میں بے انتہا اضافہ پر عوام حیران و پریشان ہیں۔ کچھ ہی عرصہ میں خشک دودھ اور برانڈڈ پیکٹوں میں فروخت ہونے والی پتی کی قیمت میں کم و بیش سو فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے‘ لیکن قیمتوں پر نظر رکھنے والا کوئی ادارہ اس کا نوٹس نہیں لے رہا۔ چند سالوں میں قیمتوں میں تین سو گنا اضافہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ گھی اور آئل کی قیمتوں میں بھی 20روپے کلو تک اضافہ ہو چکا ہے۔ آٹے کا بیس کلو کا تھیلا بھی بیس روپے تک بڑھا دیا گیا ہے اور اب مارکیٹ میں 800روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ پولٹری مافیا نے بھی انت مچا رکھی ہے‘ رمضان میں سو روپے کلو تک ملنے والی زندہ مرغی اب عید گزرنے کے بعد 145سے 155روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ چھوٹا گوشت اوپن مارکیٹ میں 800سے 850روپے کلو تک جا پہنچا ہے۔ بڑا گوشت پانچ سو روپے کلو تک بک رہا ہے لیکن کوئی نوٹس لینے کو تیار نہیں۔ پھل سبزیوں کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر من مانے وصول کئے جاتے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ دودھ کے ڈبوں سمیت تمام اشیاء پر قانون کے مطابق ریٹیل قیمت واضح طور پر لکھی ہونی چاہئے لیکن منہ مانگی قیمت پر فروخت کر کے راتوں رات ڈھیروں منافع کمانے کے شوقین حضرات قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت‘ کنزیومر کورٹ اور صارفین کے تحفظ کے دیگر اداروں کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے جس پر فوری ایکشن لیکر ایسی کمپنیوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے جو زیادہ منافع کے چکر میں ریٹیل قیمتوں کا اندراج نہ کر کے قانون کا کھلا مذاق اڑا رہی ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ پولٹری ایسوسی ایشن کے معاہدے اور ٹیکسوں میں رعایتوں کے باوجود پولٹری اور انڈوں کی قیمتیں پراسرار طور پر بڑھنا تشویش ناک ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔