| |
Home Page
پیر22 ربیع الاوّل 1439ھ 11 دسمبر2017ء
حسن نثار
August 12, 2017 | 12:00 am
نااہل یا ناقابل اعتبار

Na Ahal Ya Naqabil E Aitebar

یہ ریلی نہیں سیاسی جیلی ہے اور اگر استقبال تھا تو خاصا بدحال اور نڈھال قسم کا تھا حالانکہ جگہ جگہ خاص اسٹائل میں نوٹ بھی نچھاور کئے اور چلائے گئے۔ استقبال تھا امام خمینی کا کہ عوام نے مرسڈیز کندھوں پر اٹھا لی تھی اور انسانی کندھوں پر ہی تیرتی چلی گئی۔ مقامی مثال 1986میں بینظیر بھٹو کی لاہور آمد تھی۔ 31سال پہلے آبادی بھی بہت کم تھی لیکن پرانے ایئرپورٹ سے لے کر داتا دربار تک صحیح معنوں میں دیوانوں کا سمندر تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ یہاں تو کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے ’’تانگہ آگیا کچہریوں خالی تے سجناں نوں..... ‘‘قید تو خیر ابھی نہیں بولی، اس کے لئے چند ماہ انتظارکرناہوگا بشرطیکہ کوئی نئے ماڈل کا "NRO" نہ مل گیا لیکن یہ بھی طے ہے کہ NRO دینے والے تاریخ میں بدترین وِلنز کے طور پر یاد رکھےجائیں گے۔جھوٹ کی جھڑی لگی ہے۔ کہتے ہیں 20کروڑ عوام کو نااہل قرار دے دیا گیا یعنی حضرت تن تنہا 20کروڑ کے برابر ہیں، باقی ان کی پرچھائیاں ہیں۔ اول تو آبادی اب ماشا اللہ 22کروڑ کے قریب ہے۔ دوسری بات یہ کہ گزشتہ الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹر تقریباً 8کروڑ 42لاکھ تھے جن میں سے انہیں صرف تقریباً ڈیڑھ کروڑ ملے اور ان میں سے بھی تقریباً آٹھ، دس فیصد جعلی ہوں گے لیکن کلیم داغا جارہاہے 20کروڑ کا جو صریحاً دغابازی ہے۔یہ ریلی رولی نہیں، رونا دھونااور ریفرنسز سے فرار کی مجنونانہ قسم کی کوشش ہے جس میںبھونڈا پن بھی شامل ہے۔ ذرا غور فرمائیں، کہتے کیا ہیں۔’’نااہلی 20کروڑ عوام کی توہین ہے‘‘’’کھیل تماشے ہمیشہ کے لئے ختم کردیں گے‘‘’’70 سال سے عوام کی توہین ہو رہی ہے۔ میرا ایجنڈا آئین کی بالادستی ہے‘‘’’کرپشن نہیں کی مجھے کیوںنکالا؟‘‘یا ڈھٹائی تیرا آسرا!سپریم کورٹ کے فیصلہ کو کھیل تماشا قرار دینے والا آئین کی بالادستی کا دعویدار حالانکہ خود پیداوار بھی آئین شکن کی ہے۔ احتساب اور انصاف کو کھیل تماشا قرار دینے والے اس ’’قائد‘‘ کے بارے اعتزاز احسن نے خوب یاد دلایا کہ ’’سازش سازش‘‘ کا جاپ جپنے والے اس بھولے بھالے نے فوج ا ور کبھی عدلیہ کے ساتھ مل کر 6بارمختلف وزراء اعظم اور صدور کے خلاف سازش کی‘‘ کون ہے جو اعتزار احسن کی اس تاریخی اور ناقابل تردید یاددہانی کو چیلنج کرسکتا ہے؟ آپ نے تو اپنے محسن نہ بخشے کہ ضیاء الحق جیسا ان کا گورو تھا جس نے اپنےمحسن ذوالفقار علی بھٹو کوبے رحمی کے ساتھ تختہ دار تک پہنچایا اور لاش تک ورثا کے حوالے نہ کی۔ اتنے سفاک آدمی کا چیلا بھی ایسا ہی ہوسکتا تھا جس نے اپنےمحسن ضیاء الحق کے کپوت اعجاز الحق کو رولتے رُلاتے یہ بھی نہ سوچا کہ محسن کی یادگار ہے۔ ادھر اعجاز الحق بھی ایسی شے جس کی ریڑھ کی ہڈی شاید ربڑ کی بنی ہوئی ہے۔ بیچارے کی ساری سیاسی زندگی ’’جو دے اس کا بھلا اور جو نہ دے اس کی بھی خیر‘‘ کے سہارے گزری۔تکیہ کلام ہی بنا لیا ہے کہ ’’میں نے کرپشن نہیں کی‘‘ الامان الحفیظ۔ اول تو اقامہ بہت کافی، آمدنی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں گنا زیادہ اثاثوں کا ایک آدھ ٹٹا بھجا جواب بھی دے نہ سکے۔ خالو کو پہچاننے سے انکاری، قطری خط جیسے لطیفے، خاندان بھر کے بیانات، ننگے تضادات کے شہکار اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کام تو ابھی جاری ہے۔ ریفرنسز کا پوسٹ مارٹم ہو جائے تو پھر دیکھیں گے دیانت اور قیادت کس بھائو بکتی ہے۔ادھر چوہدری نثار علی خان نے اپنی مشہور زمانہ ’’کمر درد‘‘کو ڈس اون کرتےہوئے اصولوں پر کمر کس لی ہے۔ ان کا کہنا ہے:’’اداروں کو اپنے خلاف کرنے والا طرز ِ عمل اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ انتہا تک نہیں جانا چاہئے۔‘‘’’99 فیصد سینئر قیادت ریلی میں موجود نہیں۔ مجھے کیوں متنازع بنایا جارہا ہے؟‘‘’’ذوالفقار علی بھٹو انتہائی حد تک گئے انہیں نقصان ہوا‘‘چوہدری نثار کی ایک بات بھی ایسی نہیں جسے جھٹلایا جاسکے لیکن ایک فرق ہے۔ بھٹو جو کچھ کر رہا تھا خالصتاً سیاسی اور اصولی معاملہ تھا جبکہ انہیں اپنی بیشمار دولت اور قیادت کو بچانے کے لئے آخری حد تک جانے کی ضرورت ہے اور قیادت بھی کیسی جوسونے بلکہ پلاٹینم کے انڈے دیتی ہے۔تازہ خبر جو اخبار (جنگ نہیں) کے صفحہ ٔ اول پر شائع ہوئی ہے، ملاحظہ ہو ’’شریف خاندان کا 17ملین ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے چین بھجوانےکا انکشاف‘‘یہ نااہل ہی نہیں ناقابل اعتبار بھی ہیں۔ آصف زرداری سے رابطے ہو رہے ہیں، آگے سے خاموشی اور ’’ٹھنڈ پروگرام‘‘ ہے۔ پارٹی پہلے ہی بہت کچھ بھگت رہی ہے۔ ایک بار پھر ’’نااہل‘‘کے چکر میں آ کر پھر کسی ’’چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ جیسے بے معنی بدنام اور بے فیض ڈرامے کا حصہ بن گئی تو اس کا مردہ بھی رُل جائے گا کہ پیر پگاڑہ مرحوم تو بہت پہلے کہہ گئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کمزور ہوں تو پائوں پکڑتے ہیں اور اگرطاقت پکڑ جائیں تو گریبان پکڑتے ہیں۔ واقعی فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ نااہل زیادہ ہیں یا ناقابل اعتبار..... شاید لاہور میں ان کا کچھ بھرم رہ جائے۔