| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
سلیم صافی
August 12, 2017 | 12:00 am
میاں نوازشریف سے معذرت

Mian Nawaz Sharif Se Moazrat

میں طالب علم تھا جب پہلی مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زبانی نئے عمرانی معاہدے (New Social Contract) کالفظ سنا۔ اپنے محترم بھائی اور دوست ڈاکٹر محمد فاروق خان سے اس کے بارے میں استفسار کیا تو انہوںنے بڑی تفصیل کے ساتھ نئے معاہدہ عمرانی کا مطلب سمجھا دیا۔ میں تب سے اس تصور اور اس کی اہمیت کا قائل ہوگیا اور اسی لئے گزشتہ انیس سالہ صحافتی دور میں اس سے متعلق وقتاً فوقتاً لکھتااور بولتا رہا لیکن جس وقت محترمہ بے نظیربھٹو نے نئے سوشل کنٹریکٹ کا مطالبہ کیا تو میاں نوازشریف اور قاضی حسین احمد مرحوم ان کے خلاف یک زبان ہوکر پروپیگنڈا کرنے لگے کہ بے نظیر بھٹو کا نیا سوشل کنٹریکٹ ، امریکہ کے نئے ورلڈ آرڈر کا تسلسل ہے ۔ آج بیس سال بعد میاں صاحب بے نظیر بھٹو کے راستے پر آگئے اور اب وہ بھی نئے سوشل کنٹریکٹ کی بات کررہے ہیں ۔ گویا جس چیز کی ضرورت بے نظیر بھٹو نے بیس سال قبل محسوس کی تھی، میاں صاحب نے آج محسوس کردی مگر بعدازخرابی بسیار۔
بے نظیر بھٹو کہا کرتی تھیں کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل جنرل محمد ضیاءالحق کے ایما پر کیا گیا لیکن میاں محمد نوازشریف اور دائیں بازو کے دیگر قائدین اسے عدالت عظمیٰ کا مبنی بر میرٹ فیصلہ قرار دیتے رہے ۔ میاں صاحب اور ان کے ساتھی الزام لگاتے رہے کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے ساتھی توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ آج میاں نوازشریف اپنے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو سازش کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کہہ رہی ہیں کہ ایسا کہہ کرمیاں صاحب عدالت کی توہین کررہے ہیں ۔ گویا عدالتی فیصلوں کے بارے میں میاں صاحب پیپلز پارٹی کے موقف کے قائل ہوگئے لیکن بعدازخرابی بسیار۔
پاکستان میں کچھ عرصہ کے لئے سویلین بالادستی اگر قائم ہوئی تھی تو وہ ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کی تھی لیکن امریکہ اور جنرل ضیاء الحق نے مل کر ان کو راستے سے ہٹا دیا۔ میاں محمد نوازشریف نے سول بالادستی کو دفن کرنے والے اسی جنرل ضیاء الحق کے سائے تلے سیاست شروع کی اور جب بھی پیپلز پارٹی نے اس طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی تو میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف متحرک ہوجاتے ۔ بے نظیر بھٹو نے ریٹائرڈ جنرل شمس الرحمان کلو کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا تو میاں صاحب نے اسے ملکی سلامتی کے خلاف سازش سے تعبیر کیا۔اسی طرح آصف علی زرداری کے دور میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور پھر2مئی کے واقعہ کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت سویلین بالادستی کے لئے ہاتھ پیر مارنے لگی تو اسے دبائو میں لانے کے لئے میمو گیٹ کا معاملہ سامنے لایا گیا اور افسوس کہ میاں صاحب کالا کوٹ پہن کر اس میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں چلے گئے ۔ یوں پیپلز پارٹی کی حکومت عسکری اداروں کے قدموں میں بیٹھنے پر مجبور ہوئی ۔ پھر جب اسے مزید ٹھکانے لگانے کے لئے آصف علی زرداری اور سید یوسف رضاگیلانی کے خلاف عدلیہ کو استعما ل کیا گیا تو ایک بار پھر میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ہمنوا بن کر یوسف رضاگیلانی سے استعفے کا مطالبہ کرتے رہے ۔ آج میاں صاحب گیلانی کی رخصتی کو غلط قرار دے رہے ہیں اور سول بالادستی کی دہائی دینے لگے ہیں ۔ گویاان حوالوں سے بھی میاں صاحب پیپلز پارٹی کے راستے پر آگئے لیکن بعد ازخرابی ء بسیار ۔
وزیراعظم بننے کے بعد میاں نوازشریف نے برطانیہ کے دورے زیادہ کئے لیکن وزیراعظم ہائوس سے چند قدم کے فاصلے پر واقع پارلیمنٹ ہائوس کے کم کئے۔ گزشتہ پورے پارلیمانی سال میں وہ صرف دو دن کے لئے قومی اسمبلی میں تشریف لائے ۔ پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ ان سے التجائیں کرتے رہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت دیں لیکن میاں صاحب پارلیمنٹ کو رتی بھر اہمیت دینے کے روادار نہیں تھے ۔ آج میاں صاحب پارلیمنٹ کو اس قدر اہمیت دینا چاہتے ہیں جس قدر پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ دے رہے تھے ۔ وہ خورشید شاہ کے راستے پر آگئے لیکن بعدازخرابی بسیار۔
پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ دہائیاں دیتے رہے کہ پانامہ کا ایشو پارلیمنٹ کی ایک بااختیار کمیٹی بنا کر نمٹا دیا جائے لیکن کئی ماہ کی کوششوں کے باوجود حکومت اور اپوزیشن کا ٹی اوآرز پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ پی ٹی آئی کے لاک ڈائون سے تقریباً ایک ماہ قبل میاں صاحب اپنے مشیروں کے ساتھ مشورے کے نتیجے میں اس بات کے قائل ہوگئے تھے کہ پانامہ کے ایشو کو عدالت میں لے جانا چاہئے ۔ وہ پانامہ کے داغ کے ساتھ اگلے انتخابات میں جانا نہیں چاہتے تھے اور ان کے خوشامدی مشیروں نے ان کو قائل کیا تھا کہ اگلے انتخابات سے قبل عدالت سے پاک دامنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے ۔ لاک ڈائون کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کو بھی عدالت سے رجوع کرنے کا حکم صادر ہوا لیکن سیاسی جماعتوں میں واحد پیپلز پارٹی عدالت میں جانے کی مخالف تھی اور شاید اخبار نویسوں کی صف میںصرف یہ طالب علم ۔ آج میاں صاحب کو احساس ہوگیا کہ پیپلز پارٹی کا موقف درست تھا لیکن بعدازخرابیء بسیار۔
آج میاں صاحب عوام اور میڈیا سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ سول بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے ان کا ساتھ دیں ۔ وہ اس معاملے میںپیپلز پارٹی سے بھی تعاون کی استدعا کررہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ سول بالادستی کا ہی ہے تو پھر اس کے لئے میاں صاحب کا ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے عوام اور میڈیا پیپلز پارٹی کا ساتھ کیوں نہ دیں ۔
اسی طرح میاں صاحب اب لاکھ مطالبے کریں لیکن سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ان کا ساتھ کیوں دے ۔ یہ دعویٰ تو میاں صاحب نے گزشتہ انتخابات سے قبل بھی کیا تھالیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سویلین بالادستی کو یقینی بنانے کی بجائے خاندانی اور وسطی پنجاب کی بالادستی کو یقینی بنانے کی خاطر ہر موقع پر غیرسیاسی عناصر کے آگے سرنڈر کی پالیسی اپنائی ۔ دلوں کا حال اللہ جانتا ہے اور اگر ہم یقین بھی کرلیں کہ اب کی بار میاں صاحب اس جنگ میں سنجیدہ ہیں تو بھی سوال یہ ہے کہ سندھ کے عوام اس معاملے میں کیوں ان کا ساتھ دیں ۔ سندھ میں سویلین بالادستی کب سے ختم ہے اور اس کو ختم کرنے میں میاں صاحب دوسری جانب کھڑے رہے ۔ بلوچستان کے سیاسی عناصر ماتم کناں رہے لیکن میاں صاحب نے وہاں پر سویلین کی حکمرانی کو کبھی اپنی دلچسپی کا موضوع نہیں بنایا ۔ قبائلی عوام اور پختون تو گزشتہ چار سالوں میں بھی جمہوریت نہیں دیکھ سکے ہیں ۔ وہ سویلین بالادستی نامی چیز سے واقف ہی نہیں ۔ ہم جیسے لوگ التجائیں کرتے رہے کہ میاں صاحب وہاں کے پختونوں کو ان کے آئینی اورجمہوری حقوق دلوانے کی طرف توجہ دیں لیکن انہوںنے صرف وسطی پنجاب سے ہی اپنی دلچسپی کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رخصتی پر نہ بلوچستان میںکسی نے آنسو بہائے ، نہ سندھ میں کسی نے احتجاج کیا اور نہ خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان یا کشمیر میں ماتمی جلوس نکلے ۔ قبائلی علاقوں میں احتجاج تو کیا ہوتا میرا یقین ہے کہ میاں صاحب کو مظلوم قبائلیوں کی بددعائیں لگی ہیں اور ان کی زد میں کسی بھی وقت مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی بھی آسکتے ہیں ۔
میاں صاحب کو شاید خود بھی احساس ہے کہ دور اقتدار میں انہوںنے صرف وسطی پنجاب کو پاکستان سمجھا اور اسی لئے صرف اسی علاقے میں طاقت کا مظاہرہ ضروری سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ اینکرز کے ساتھ نشست میں ان کے تعاون کی اپیل کے جواب میں بصدادب و احترام عرض کیا کہ بڑوں کی اس لڑائی میں ہم جیسے چھوٹے لوگوں نے فریق نہیں بننا ہے ۔ کون بے ضمیر ہوگا جو جمہوریت اور آمریت کی لڑائی میں جمہوری قوتوں کا ساتھ نہیں دے گا لیکن میرے نزدیک یہ سول بالادستی کی نہیں بلکہ وسطی پنجاب اور دیگر بالادست طاقتوں کی آپس کی جنگ ہے ۔ گویا یہ دو ہاتھیوں کی جنگ ہے اور ہم جیسے لوگ اس میں حصہ دار بنیں گے تو مینڈکوں کی طرح کچلے جائیں گے ۔ وہ جانیں اور ان کے کام جانے ۔ہمارے نزدیک تو یہ مکافات عمل ہے ۔ جن قوتوں نے میاں نوازشریف کو بنایا تھا آج وہ ان کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں اور جن قوتوں کی خاطر میاں صاحب نے پیپلز پارٹی پر غداری کے فتوے لگائے تھے ، آج وہ ان قوتوں کے ہاتھوں اس انجام سے دوچار ہورہے ہیں ۔ مکافات عمل کے اسی اصول کے تحت میرا ایمان ہے کہ جس طرح آج میاں نوازشریف ، پیپلز پارٹی کے راستے پر آگئے ہیں ، اسی طرح عنقریب عمران خان ، میاں نوازشریف جیسے انجام سے دوچار ہوکر ان کے راستے پر آئیں گے ۔ جس طرح آج میاں صاحب، پیپلز پارٹی کی قیادت سے معافیاں مانگ رہے ہیں ، اسی طرح ایک دن عمران خان ، میاں نوازشریف سے معافیاں مانگیں گے ۔ تاہم میاں صاحب کی چونکہ ماں زندہ تھیں اس لئے ان کے خلاف مکافات عمل کا قانون کافی تاخیر سے متحرک ہوا لیکن انشاء اللہ عمران خان کے خلاف یہ بہت جلد متحرک ہوگا۔ یہ مکافات عمل بھی ملاحظہ کیجئے کہ جس شیخ رشید احمد سے میاں نوازشریف نے بے نظیر بھٹو کو گالیاں پڑوائی تھیں ، آج اسی شیخ رشید سے میاں نوازشریف کو گالیاں پڑوائی جارہی ہیں ۔ بہت جلد دنیا دیکھے گی کہ آج عمران خان جن لوگوں سے دوسروں کو گالیاں دلوارہے ہیں ، انہی لوگوں سے شیخ رشید احمد کی قیادت میں عمران خان کو گالیاں دلوائی جائیں گی۔