| |
Home Page
اتوار 27 ذیقعدہ 1438ھ 20 اگست 2017ء
طاہر سرور میر
August 12, 2017 | 12:00 am
ریلی ،ڈائیلاگ اور شہنشاہ ِجذبات

Rally Dialogue Aor Shahansha E Jazbaat

میاں صاحب کی نااہلی کے بعد میاں صاحب کی ریلی کا چرچاہے ۔اسلام آباد سے فیض آباد انٹر چینج تک ریلی کو شرف قبولیت نہ مل سکا لیکن جہلم تک پہنچتے ہوئے ریلی سلور اور گولڈن جوبلیاں منارہی تھی ۔جہلم میںمیاں صاحب نے جذباتی انداز میں خطاب کیا ۔ اس لمحے مجھے شباب کیرانوی کی فلموں والے اداکار محمد علی یاد آگئے جو ’’شہنشاہ ِجذبات ‘‘ کا فلمی ٹائٹل رکھتے تھے ۔وہ فلم’’ انصاف اور قانون‘‘ کے ایک سین میں جج صاحب کے فیصلے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے یوں سراپا احتجاج ہوئے تھے ’’جج صاحب مجھے میری زندگی کے 12سال واپس دو،مجھے میری جوانی لٹادو، مجھے میری آرزوئیں میری تمنائیں واپس کر و،آج میں دیکھتاہوں انصاف اور قانون میں کتنی طاقت ہے ‘‘۔میاں صاحب نے بھی انقلابی اسٹائل میں پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے 17 وزراء اعظم کی مدت عہدہ ختم ہونے سے پہلے ان کی حکومتوں کے تختہ الٹنے کے وقوعہ کویوں بیان کیا ’’ایسی کوئی عدالت ہے جو ڈکٹیٹروں کو سزادے ،آئین کو وہ توڑتے ہیں قانون کو وہ توڑتے ہیں ،پھر کمر درد کا بہانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں، آپ نے مجھے اسلام آباد بھیجاانہوں نے گھر بھیج دیا ،یہ میری نہیں عوام کی توہین ہے ‘‘۔شباب کیرانوی اور محمد علی کی مذکورہ فلم تو اپنے زمانے کی سپر ہٹ فلم تھی دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب کی فلم ہٹ ہوتی ہے یا اسے ہمیشہ کے لئے ڈبوں میں پیک کردیا جاتاہے۔ اس کے لئے حدیبیہ سمیت ان ریفرنسز کے فیصلے کاانتظار ہے جو میاں صاحب اور ان کے اہل خانہ کے خلاف قطار در قطار سماعت کے لئے منتظر ہیں۔
میاں صاحب کی نااہلی کے بعد سیاست اور صحافت کے میدان میں گڑے مردے اکھیڑ لئے گئے ہیں۔ تاریخی ملبے سے جہاں جمہوریت کا پنجر ناانصافی کے کفن میں لپٹا ہواملا ہے وہاں بچی کچھی ہڈیوں اور خاک کا بھی اگر ڈی این اے کرایاجائے تو آمریت کے جبر کا ٹیسٹ پازٹیو ہی آئے گا۔فیلڈ مارشل ایوب خان ،جنرل ضیاالحق اور جنرل آغا یحییٰ خان تواس جہان ِفانی سے سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت ہوگئے ۔آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا عظیم نعرہ سماعتی طور پر بڑا پُروقار لگتا ہے لیکن اس کے بھرم اورپندار کے لئے جنرل (ر) مشرف کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا تو کچھ کفارہ ادا ہوجاتا۔اگر ایسا ہوجاتاتو آج میاں نوازشریف یہ نہ کہہ سکتے کہ ایسی کوئی عدالت ہے جو آئین اور قانون کو توڑنے والوں کا احتساب کرے۔ حامد میر نے بیرسٹر اعتزاز احسن سے سوال کیاکہ نوازشریف کہتے ہیںکہ مشرف کمر درد کا بہانہ بنا کر بیرون ملک چلے گئے۔انہیں کوئی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی؟بیرسٹر نے جواب دیا کہ نواز حکومت کو چاہیے تھاکہ آرٹیکل 6کے تحت مشرف کے خلاف مقدمہ دائر کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیااور اب شور مچا رہے ہیں۔حامد میر نے مزید کہاکہ مشرف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیاہے کہ انکی بیرون ملک روانگی حکومت اور عدالتوں پر ایک خاص دبائو اور ڈیل کا نتیجہ ہے۔چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ یقینا ایسا ہوا ہوگا۔آئین ،قانون اور انصاف کی بات کریں تو نوازشریف اور مشرف کے حوالے سے اس امتیازی سلوک کی سچائی سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔مولانا فضل الر حمان نے اپنے تازہ انٹرویو میں وطن عزیز کی رام کہانی کو یوں عنوان دیا ’’بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی اشیر باد کے بغیر کوئی سیاستدان کرپشن نہیںکرسکتا‘‘۔ غیر جانبدار ی سے تبصرہ کیاجائے تو معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی اورلسانی جن بھوتوں سمیت دیسی ساختہ مقامی بل گیٹس اسی فارمولے کے تحت مینوفیکچر کئے گئے ہیں۔ سیاسی اور لسانی جن بھوتوں کی سرپرستی ختم ہوئی تو ان کی حیثیت ایک سیاسی لطیفہ سے زیادہ نہ رہی ۔یہ صحافتی بددیانتی ہے کیونکہ ہم چور کو برا کہتے ہیںلیکن اس کے سرپرست کے خلاف بات نہیں کرتے ۔
نجم سیٹھی کہاکرتے ہیںکہ نون لیگ سکون میں ہوتو گلے پڑتی ہے ،اگرمشکل میں ہوتو پائوں پڑتی ہے۔میاں صاحب کو چونکہ اب سیاسی مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے تو وہ میثاق جمہوریت اور گرینڈڈائیلاگ کی بات کررہے ہیں۔میاں صاحب سے سنگت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے زرداری صاحب سے رابطہ کیاہے لیکن اُدھر سے مثبت جواب نہیں ملا۔مشترکہ کاروباری دوست نے نوازشریف کو زرداری کا پیغام دیاہے کہ وہ یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کے مقدمہ کا مدعی بننے پر برسرعام معافی مانگیں۔اُدھر میاں صاحب نے گزشتہ دنوں جب چند اہم صحافیوں سے ملاقات کی تو اس نشست میں انہوں نے گیلانی کے معاملہ پر EXCUSEکرلیاتھا۔ایکسکیوز انگریزی کی ایسی نرم اصطلاح ہے جسے اردو میں اپنی غلطی ماننا کی بجائے معذرت سے لیاجاتاہے۔
لہٰذا میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کے ہیوی مینڈیٹ وزیر اعظم کی برطرفی کے معاملہ پر صرف چند صحافیوں کے سامنے EXCUSEکرنا ہی کافی جانا۔ موسیقار ماسٹر عبداللہ ایسی صورت حال میں کہاکرتے تھے کہ ’’تہاڈے بچے تے ساڈھے بلی دے بچے نیں‘‘مراد یہ ہوتی کہ (آپ کے بچوں کی بڑی اہمیت ہے اور ہمارے بچے بلی کے بلونگڑے کی طرح بے وقعت ہیں) پانامہ ،جے آئی ٹی اورپھر نااہلی کے معاملہ پر نون لیگ اور میاں صاحب کو بھٹو صاحب تواتر سے یاد آرہے ہیں۔میاں صاحب کی اس کیفیت پر میڈیا میں وہ کلپس ڈھونڈ کر نشر کئے جارہے ہیں جن میں نوازشریف ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کے سیاسی جانشین کے طور پر بھٹو جیسے عظیم جمہوری لیڈر کو سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔ نااہلی کے بعد میاں صاحب کو اپنی سیاسی بہن محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا میثاق ِجمہوریت بھی یاد آرہاہے۔نوازشریف آج کہہ رہے ہیں کہ عوام اپنے لیڈر کو منتخب کرتے ہیںاور غیر جمہوری طریقوں سے انہیں گھر بھیج دیاجاتاہے ۔حالانکہ خود ان پر الزام ہے کہ نوازشریف 6مختلف وزرااعظم کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔
کہاجارہاہے کہ نوازشریف وزارت عظمیٰ کے سیاسی بوجھ سے آزاد ہوکر اور بھی زیادہ موثر اور طاقتور ہوگئے ہیں۔ذاتی طور پر اس سرکاری تجزئیے سے اختلاف کرتے ہوئے یاد دلائوں گاکہ پچھلی بار جب جنرل مشرف نے میاں صاحب کے ہیوی مینڈیٹ کے خلاف ’’بارہ اکتوبری ‘‘ فرمائی تھی تو دیکھو دیکھو کون آیا ،شیر آیا شیر آیا کا نعرہ گونجنے میں 10سال بیت گئے تھے۔ عدالت نے نواز شریف پر اقتدار اور سیاست کے میدان میں قدم رکھنے پر تاحیات پابندی عائد کی ہے میاں صاحب اس وقت الحمد للہ 67برس کے ہیں۔اگر وہ اسی طرح پاور شوسیریزکے تحت اپنے لئے عوامی تائید وحمایت کا کامیاب مظاہرہ کرتے رہتے ہیں تو ممکن ہے نوازشریف تاحیات پابندی کو 10سال کی سزامیں تبدیل کردیا جائے ۔اس یوٹوپین اور رومانوی تصور کے تحت بھی ان کی اگلی باری 77سال کی عمر میں آئے گی۔ادھر بلاول کہتے ہیں کہ 2018کپتان اوران کے دیگر انکلز کا آخری اور ان کاپہلاالیکشن ہوگا۔میاں صاحب کی ریلی کا اگلااسٹاپ گجرانوالہ ہے جوپہلوانوں کے ساتھ ساتھ مجھ نواتا کا بھی شہر ہے۔ بقول فراز’’ نشہ بڑھتاہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں‘‘۔ اسی مصداق گجرانوالہ میں سری پائیوں اور چڑوں جیسے کھابوں نے انقلابوں کو دوآتشہ کردیا ہوگا۔ گجرانوالہ کی روئیداد آئندہ بیان کروں گا۔