| |
Home Page
پیر2 ؍ جمادی الثانی 1439ھ 19؍ فروری 2018ء
مبشر علی زیدی
August 12, 2017 | 12:00 am
سلوک …

Sulook

بہو پہلے دن چیخی تو میں ہنس پڑی۔
پہلی بار کوسنے دئیے تو میں نے قہقہہ لگایا۔
رفتہ رفتہ اس کی زبان کھلتی گئی،
میں کِھلتی گئی۔
اس نے میرا باورچی خانے میں داخلہ بند کیا۔
میرا کمرا چھین کر سامان کوٹھڑی میں پھینکا۔
میرے بیٹے کے کان میرے خلاف بھرتی رہی۔
میں دیکھتی رہی، مسکراتی رہی۔
ایک دن بہو کا ضبط جواب دے گیا۔
کہنے لگی،
’’بڑھیا! تجھے میرے سلوک پر غصہ کیوں نہیں آتا؟‘‘
میں نے ہنستے ہنستے کہا،
’’بٹیا! جو سلوک آج تُو کر رہی ہے،
میں نے بھی یونہی کیا تھا۔
تیرے ساتھ بھی یہی ہوگا۔‘‘