| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
August 12, 2017 | 12:00 am
پاناما کیس میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا قصور، جمہوریت کو خطرہ ہے، نہ نواز شریف سے بات ہوگی، بلاول

Todays Print

پاناما کیس میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا قصور، جمہوریت کو خطرہ ہے، نہ نواز شریف سے بات ہوگی، بلاول

اسلام آباد، راولپنڈی(نمائندہ جنگ،جنگ نیوز، مانیٹرنگ سیل )چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ نواز شریف کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں،وہ بھٹو اور بینظیر کی مظلومیت کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں،اس وقت جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے نہ نواز شریف سے کوئی بات ہوگی، صرف نواز شریف کی ذات کو خطرہ ہے، پانامہ پیپرز میں اسٹیبلشمنٹ کا کیا قصور ہے،میاں صاحب حکومت میں میثاق جمہوریت بھول جاتے ہیں ، وہ غلط راہ اختیار کرکےہر شہر میں توہین عدالت کررہے ہیں۔

پارلیمنٹ میں عدلیہ اور فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے،2013میں پی پی کو الیکشن مہم کی اجازت نہیں دی گئی ،2018میں آصف زرداری کی حکومت ہوگی، سندھ میں احتساب کا قانون نیب سے زیادہ کامیاب ہوگا، خیبرپختونخوا نے احتساب کا بل پاس کیا ہےتو کیا سندھ کا حق نہیں ؟۔ بلاول ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےبلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا موقف ایک ہی ہے، کائرہ زور سے اور خورشید شاہ نرمی سے بات کر رہے ہیں، آرٹیکل 62، 63 پر رضا ربانی کا مؤقف ان کا ذاتی ہے۔

پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ نہیں جمہوریت کے ساتھ ہے، پاکستان میں سب سے پہلے پاناما کا معاملہ پیپلزپارٹی نے اٹھایا ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی مدد کی اور کبھی بھی مسلم لیگ (ن) کی مدد نہیں کی ، نہ تو نواز شریف کا کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی ان کی ذات کا جمہوریت سے کوئی تعلق ہے، وہ جب بھی حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے، حکومت میں رہتے ہوئے انہیں میثاق جمہوریت اور معاہدہ عمرانی یاد نہیں رہتی وہ صرف خود کو بچانا چاہتے ہیں، ہم کوئی آئینی تصادم نہیں چاہتے لیکن پارلیمنٹ میں عدلیہ اور فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے لیکن ہم (ن) لیگ جیسی سیاست نہیں کریں گے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف نے غلط راہ اختیار کی اور اپنے حق میں خود ہی ریلی نکال لی جس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہ اس ریلی میں حکومتی وسائل استعمال کررہے ہیں، لگتا ہے نوازشریف حکومت میں رہ کر بھی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ان کو ایسا کرنے نہیں دیں گے، ہم گالم گلوچ کی سیاست نہیں کریں گے ہم الیکشن کے لئے تیار ہیں، گزشتہ انتخابات میں صورتحال مختلف تھی ہمیں الیکشن مہم کی بھی اجازت نہیں دی گئی لیکن اب میں اور میرے والد میدان میں ہیں اور آئندہ حکومت آصف علی زرداری کی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں آئے روزلوگ لاپتہ ہو رہے ہیں جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورصوبائی حکومت سے سوال پوچھتا ہوں جب کہ سینیٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کو بھی کہا ہے کہ لاپتا افراد کا معاملہ اٹھائے۔سندھ میں نیب قوانین کے خاتمے سے متعلق بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ میں احتساب کا قانون بنے گا تونیب سے زیادہ کامیاب ہوگاجب خیبرپختونخوا نے احتساب کا بل پاس کیا ہےتو کیا سندھ کا حق نہیں ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے زرداری ہائوس اسلام آباد میں ’’مینارٹی ڈے‘‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں آکرایسی قانون سازی کرے گی جس میں سب کے لئے مساوی حقوق ہوں اور ایسے قوانین جو متنازعہ ہیں یا غلط ہیں ان کو بہتر بنائیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ انسانی برابری پر مبنی معاشرے کے لئے جدوجہد کی ہے جہاں ہر پاکستانی برابری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے اپنی پوری زندگی میں ہمیشہ برابری کے حقوق کے لئے جدوجہ جہد کی، ہماری پارٹی میں بہادر کارکن سلیمان اور شہباز بھٹی نے قربانی دی تاکہ برابری پر مبنی سوسائٹی قائم ہوسکے جہاں مسلم پاکستانی ہوں یا غیرمسلم پاکستانی حقوق برابر ہونے چاہئیں،ہر شہری اور سوسائٹی کو برابر مواقع ملنے چاہئیں۔