| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
August 12, 2017 | 12:00 am
پارلیمنٹ کے اندربھی گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں گے،طلال

Todays Print

پارلیمنٹ کے اندربھی گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں گے،طلال

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم بھی ہوسکتی ہے، اداروں کوآئین کے دائرے میں رکھنا ہے، نوازشریف چاہتے ہیں توہین ووٹ نہ ہو،نوازشریف کی منزل دوبارہ حکومت حاصل کرنا نہیں،حکومت اورعوامی طاقت تھی مگرعدالتی فیصلہ قبول کیا،لوگوں کا فیصلہ ہے کہ توہین مینڈیٹ بہت بڑا جرم ہے،قانون کی حکمرانی کے لیےعدالتی فیصلہ قبول کیا،پارلیمنٹ کے اندربھی گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں گے،گرینڈڈائیلاگ کے دونکات ہیں،نوازشریف گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کررہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار طلعت حسین نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیے میں کوئی نیا پن نظر نہیں آرہا ہے ، اس میں نیا پن صرف یہ ہے کہ نواز شریف یہ بات کررہے ہیں، پاکستان میں یہ بیانیہ بہت پرانا ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو یہی بات کرتے چلے آئے ہیں، نواز شریف نے پہلی دفعہ سڑک پر آکر اپنے ووٹر کے ساتھ یہ بات کی ہے کہ پاکستان میں بالادستی کس کی ہونی چاہئے، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نواز شریف نے قومی مکالمہ تبدیل کردیا ہے ، لاہور میں حمایت کے ساتھ نواز شریف پر سخت الفاظ میں تنقید بھی کی جارہی ہے۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف پر قانونی قدغن نہ ہو تو عوام انہیں وزیراعظم بناسکتے ہیں، کلثوم نواز بطور امیدوار لوگوں کی نمائندگی نہیں کرسکتیں کیونکہ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی ہے، سانحہ ماڈل ٹائون کی فائل طاہرا لقادری کے آنے پر دوبارہ کھل گئی ہے، نواز شریف کیلئے اشارے واضح ہیں کہ اگر آپ ہیٹ بڑھائیں گے تو ہیٹ آپ پر بھی آئے گی۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ ادارے اپنی حدود سے نکل کر کام کررہے ہیں، ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر کے دوسرے اداروں کے اختیار کو چیلنج کررہے ہیں، پارلیمنٹ کو شکایت ہے کہ اس کے اختیارات کمزور پڑگئے ہیں، اس میں نواز شریف اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ہیں، نواز شریف نے اپنے ساڑھے چار سالہ دوراقتدار میں پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تحریک پر گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کی مضبوط کیلئے حکومتی نمائندے، ملٹری، بیوروکریسی اور چیف جسٹس کو اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کیلئے سینیٹ میں دعوت دی جائے گی، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے مقابلے میں پارلیمنٹ کے اختیارات کمزور ہیں، سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہیں لے رہیں، وزیراعظم اور وزراء کی حاضریاں کم ہیں، زیادہ تر فیصلے پارلیمنٹ سے باہر ہورہے ہیں، پیپلز پارٹی کے سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ عدلیہ نے ہمیشہ جنرل ہیڈکوارٹرز کی حمایت کی ہے، عدلیہ کو پارلیمنٹ کے تابع ہونا چاہئے، جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آرٹیکل 62/63 ججز اور جرنیلوں پر بھی لاگو کیا جائے۔

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کا اداروں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ڈائیلاگ کی دعوت دینے کا فیصلہ اداروں کے درمیان تنائو کو کم کرنے کا سبب بنے گا، ادارے اپنے تحفظات کا اظہار کرسکیں گے، اگر کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے اختیار کو چیلنج کرے گا تو اسے روکنے کیلئے ڈائیلاگ کا راستہ سامنے ہوگا، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اس سے پہلے دو اگست کو بھی اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ ایگزیکٹو عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کرتی ہے، ایگزیکٹو ہی پارلیمان پر حملہ کرتی ہے، عدلیہ بھی پارلیمان اور ایگزیکٹو پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہے، اب وہ اس ڈائیلاگ کی بات کررہے ہیں، دیکھتے ہیں یہ ڈائیلاگ ہوتا ہے، مثبت سمت میں جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس ڈائیلاگ کی ضرورت ہے کہ کس طریقے سے پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ نواز شریف تو آئین کے آرٹیکل 62/1Fکے تحت نااہل ہوگئے لیکن ان کی نااہلی کے بعد ملکی سیاست میں آئینی ترمیم کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے، ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں آرٹیکل 62/63میں ترمیم چاہتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی تو پہلے ہی آئین کی اس شق کے خلاف ہے، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آئین کی ان شقوں کو ناقابل عمل قرار دیا تھا، وہ کہتے تھے کوئی پارلیمنٹرین اس سے نکل نہیں سکتا، دلچسپ بات یہ ہے کہ آرٹیکل 62/63میں ترمیم کی مخالف کوئی جماعت تھی تو وہ مسلم لیگ ن تھی ، لیکن اب نواز شریف کی نااہلی کے بعد ن لیگ بھی آرٹیکل 62/63میں ترمیم کی بات کررہی ہے، دوسری طرف  ماضی میں آرٹیکل 62/63 کیخلاف واضح رائے رکھنے والے عمران خان نے اب اس کی حمایت کر کے اپنے پچھلے موقف سے بالکل مختلف بات کردی ہے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پرگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ سفر کٹ رہا ہے رش بڑھ رہا ہے اور موقف واضح ہورہا ہے، نواز شریف عدالتی فیصلے پر عوامی ریفرنڈم کراتے دکھائی دے رہے ہیں ،مگر کیا اس کا انہیں کوئی فائدہ ہوگا، نواز شریف لاہور واپسی کے سفر میں جہاں جہاں رک رہ ہیں عوام سے خطاب کررہے ہیں، عوام سے رائے لے رہے ہیں کہ ان کے ساتھ ٹھیک ہوا یا غلط ہوا، عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے یا نہیں ، سفر کے تیسرے دن نواز شریف کا قافلہ جہلم سے گجرات اور پھر گوجرانوالہ پہنچا،جمعہ کو گوجرانوالہ میں قیام کے بعد صبح وہ لاہور جائیں گے۔

شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ جب نواز شریف لاہور جائیں گے تو کیا وہ پلان بتائیں گے جس کا وہ ذکر کرتے رہے ہیں،جمعے کو نواز شریف نے جو باتیں کیں اس میں واضح اشارے کررہے تھے، انہوں نے بار بار عوام سے سوالات کیے اور جوابات لیے، نواز شریف نے عوام سے پوچھا کہ کیا وہ ان کا ساتھ دیں گے یا نہیں اور عوام سے ساتھ چلنے کے وعدے بھی کیے اور ساتھ ہی ایک ایجنڈا دینے کی بات بھی کی، نواز شریف نے ہر جگہ عوام کے سامنے عدالتی فیصلے پر تبصر ہ بھی کیا، بار بار اسے عوام کے ووٹوں کی توہین قرار دیا، اپوزیشن اسے عدالتی توہین قرار دے رہی ہے لیکن اس کے باوجود نواز شریف نے جمعے کو بھی یہی کیا، نواز شریف بار بار یہ کہتے رہے کہ انہیں کرپشن کے الزام میں نہیں صرف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا، نواز شریف اس کے ساتھ ہی عدالتی فیصلے پر کھلی تنقید کررہے ہیں۔

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب یہ بات ہورہی ہے کہ نواز شریف دوبارہ وزیراعظم نہیں بنناچاہتے مگر نواز شریف نے پھر عوام سے کہا کہ وہ انہیں دوبارہ وزیراعظم بنادیں گے۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ابھی تک اپنا آئندہ کا لائحہ عمل واضح نہیں کیا ہے، کیا ہفتے کو لاہور میں وہ بتائیں گے کہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں، نواز شریف نے یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ وہ کسی نئے سماجی عمرانی معاہدہ پر غور کررہے ہیں اور گرینڈ الائنس کی بھی بات کی، پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے نواز شریف کو صاف جواب دیدیا ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے آج واضح کردیا کہ وہ اب نواز شریف کا ساتھ نہیں دیں گے، سابق وزیراعظم کے سفر کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا، لالہ موسیٰ کے قریب مبینہ طورپر کارواں میں شامل ایلیٹ فورس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، نواز شریف نے گجرات میں اس کا ذکر تک نہ کیا مگر پھر گوجرانوالہ میں اپنی تقریر میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس سے پہلے خواجہ سعد رفیق نے بچے کی موت کو اپنی تحریک کا پہلا شہید قرار دیا، کیپٹن صفدر نے بھی اسی قسم کی بات کی جو اپنے اندر غیرحساس بات ہے، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچے کی موت قافلے میں شامل گاڑی سے نہیں ہوئی کیونکہ گاڑیوں کی رفتار بہت کم تھی، غیرذمہ دارانہ بیانات کے بعد نواز شریف نے افسوس کا اظہار ضرور کیا، امید کرتے ہیں اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہوگی۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ پاکستان کی سیاست ریلیوں، مظاہروں اور جلسے جلوسوں کے دور سے گزر رہی ہے، نواز شریف ریلی کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور جارہے ہیں تو شیخ رشید نے تیرہ اگست کو راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا ہوا ہے جس سے عمران خان بھی خطاب کریں گے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹائون کے معاملہ پر محاذ گرما دیا ہے، طاہر القادری نے سولہ اگست کو لاہور کے مال روڈ پر خواتین کے دھرنے کا اعلان کردیا ہے، طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین کے انصاف کیلئے تین سال سے بات کررہے ہیں، انہوں نے لانگ مارچ کیا، دھرنا دیا، مظاہرے کیے لیکن معاملہ حل نہ ہوسکا، وہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں، پاکستان میں جب ماحول گرم ہوتا ہے تو اسے مزید گرمانے بھی آجاتے ہیں، ہر مرتبہ احتجاج شروع کرتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں، اس بار بھی طاہر القادری نے وطن واپسی پر سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے مرحلہ وار تحریک کا اعلان کیا تھا ،آج انہوں نے مرحلہ وار دھرنوں کا آغاز کردیا ہے جس کو لیڈ وہ خود نہیں بلکہ شہداء کی خواتین کررہی ہیں ہوں گی۔

طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹائون پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کی بھی بات کرتے رہے ہیں، آج بھی طاہر القادری نے ایک بار پھر اس مطالبہ کو دہرایا اور عدالت سے درخواست کی کہ رپورٹ منظرعام پر لائی جائے۔وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ نواز شریف سسٹم کی اصلاح کرنے جارہے ہیں، سابق وزیراعظم نے گرینڈ ڈائیلاگ کی جو بات کی یہ اس کا پہلا مرحلہ ہے، گرینڈ ڈائیلاگ کے دو بنیادی نکات رول آف دی لاء اور عوام کی بالادستی ہوں گے، گرینڈ ڈائیلاگ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ ہوگا۔

پارلیمنٹ کے باہر گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز ہوچکا ہے، عموماً لیڈر تقریر کرتے ہیں لیکن نواز شریف مکالمہ کرتے ہیں، نواز شریف سوال کرتے ہیں لوگ جواب دیتے ہیں، لوگ سوال کرتے ہیں نواز شریف جواب دیتے ہیں۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے قانون کی حکمرانی کیلئے عدالتی فیصلے پر عمل کیا لیکن اسے تسلیم نہیں کیا، عدالتی فیصلہ پاکستانی عوام نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے، جو پارٹیاں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنیں گی وہ نظر نہیں آئیں گی، لوگوں نے فیصلہ دیدیا ہے کہ توہین عوام سب سے بڑا جرم ہے، کسی ادارے کی توہین اتنا بڑا جرم نہیں جتنا بڑا جرم توہین مینڈیٹ، توہین ووٹ اور توہین عوام ہے، عوام کی حمایت جانچنے کیلئے ہمارا معیار صرف جلسے جلوس نہیں ہے، عوام کا فیصلہ بیلیٹ سے آتا ہے اور ہمیشہ بیلیٹ سے شیر نکلا ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف نہ ہوتے تو عدلیہ بحالی تحریک منزل تک نہ پہنچتی، نواز شریف کو تحریکوں کو نتائج میں تبدیل کرنا آتا ہے، ان کے پیچھے اتنے لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ نتائج کو کوئی نہیں روک سکتا، عوام نے سوموٹو لے لیا ہے، اس سے پہلے کہ عوام کوئی فیصلہ سنائے عدالت کو سوموٹو لے لینا چاہئے، کون کیا کردار ادا کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں، عدلیہ بحال کرنا عوام کا غلط فیصلہ نہیں تھا تو اب جبکہ عوام نواز شریف کیخلاف فیصلہ نہیں مان رہے تو کیسے غلط ہوگئے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت اور عوامی طاقت ہمارے پاس تھی لیکن عدالتی فیصلہ قبول کیا، اداروں کو مضبوط مگر آئینی دائرے کے اندر ہونا چاہئے، عوام ہوں یا قانونی ماہرین کسی نے نواز شریف کیخلاف فیصلے کو نہیں سراہا ہے، عدالتی فیصلوں پر بحث ہوسکتی ہے اور ہونی چاہئے، ہم اداروں پر حملہ آور نہیں ہونا چاہتے بلکہ ان کی اصلاح کرناچاہتے ہیں، اداروں کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف اب بحال ہونے جیسی چھوٹی بات پر اتنی بڑی تحریک نہیں چلائیں گے، نواز شریف کیلئے وزیراعظم بننا اب بہت چھوٹی سی منزل ہے، نواز شریف کی منزل دوبارہ حکومت حاصل کرنا نہیں توہین ووٹ، توہین عوام اور توہین مینڈیٹ روکنا ہے، ا ب یہ ہرصورت ہونا ہے کیونکہ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی خواہش وزارت عظمیٰ رکھنا نہیں ہے، نواز شریف کے وزیراعظم بننے سے تو وزارت عظمیٰ کو چار چاند لگتے ہیں، نواز شریف عہدوں کے مرہون منت نہیں عہدے ان کے مرہون منت ہیں، تین سو سینیٹرز اور ایم این ایز اور ساڑھے تین سو ایم پی ایز نواز شریف کے نام پر جیت کر آتے ہیں یہ سب ان کے گھر کے لوگ نہیں ہیں، ن لیگ اور عوام کا فیصلہ ہوتا ہے کہ ہر صورت نواز شریف کو لیڈ کرنا پڑتا ہے، نواز شریف وزیراعظم بننے کیلئے یہ سب نہیں کررہے ہیں، آمریت کا ساتھ دینے والوں کو لوگوں نے باہر پھینک دیا تھا، عوام انہیں اسمبلی میں بھیجے گی جو عوام کے ووٹ کی عزت کرواسکیں۔

اسمبلیوں میں جانے کے بعد قانون سازی اور آئین سازی ہوسکتی ہے، ہمیں ہر صورت اس ملک کو ٹھیک کرنا اور اداروں کو آئین کے دائرے میں رکھنا ہے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف جلسوں سے فارغ ہو کر فوری طور پر ہلاک ہونے والے بچے کے گھر جائیں گے، جس کی غفلت سے یہ حادثہ ہوا اسے پکڑا جائے گا، وزیراعظم نواز شریف لوگوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالتے ہیں، نواز شریف امن اور پیار کی سیاست کرتے ہیں اسی لئے عہدے سے اتر گئے ہیں، اگر انہیں لڑنا ہوتا تو لڑنے کے اور طریقے تھے، نواز شریف پیار، امن اور بات چیت سے ملک کا نظام ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، جو نہیں سن رہے وہ سن لیں عوام رکنے والے نہیں ہیں، تین دن سے قافلے کے ساتھ ہوں اتنا جوش و جذبہ پہلے کبھی نہیں دیکھا، لوگ بضد ہیں کہ ان کے ووٹ کی عزت ہونی چاہئے۔