| |
Home Page
منگل 26 محرم الحرام 1439ھ 17 اکتوبر 2017ء
August 12, 2017 | 12:00 am
قومی احتساب بیورو کا سندھ میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

Todays Print

قومی احتساب بیورو کا سندھ میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

اسلام آباد (انصار عباسی) صوبائی حکومت کی تازہ  ترین قانون سازی اور ساتھ ہی ادارے کو کام سے روکنے کی انتظامی کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

نیب کے ایک سینئر ترجمان نے رابطہ کرنے پر دی نیوز کو بتایا کہ نیب کسی بھی صوبائی قانون کا ماتحت نہیں اور اسی لیے سندھ میں نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نیب کو صوبے میں کارروائیوں سے روکنے کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ، سندھ حکومت نے جمعرات کو نیب کے صوبائی دفاتر سے سندھ پولیس کے اہلکاروں کو واپس بلانے کے اقدامات شروع کر دیئے۔ نیب ترجمان نے واضح کیا کہ نیب وفاق کے ماتحت ادارہ ہے اور اس لیے اس کی اتھارٹی اور اختیارات کسی صوبائی قانون کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیے جا سکتے۔

اگرچہ نیب نے صوبائی حکومت کے متنازع اقدامات کو چیلنج کرنے سے گریز کیا ہے لیکن ادارہ بغور اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئے صوبائی قانون کیخلاف دائر کی جانے والی درخواست پر عدلیہ کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتی ہے۔ قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999ء کو سندھ میں منسوخ کرنے کیلئے گزشتہ ماہ دو مرتبہ قانون منظور کیا گیا، یہ قانون جمعرات کو صوبائی اسمبلی کا ایکٹ بن گیا جس سے صوبائی معاملات میں نیب کا کردار ختم ہوجائے گا۔ سندھ ریپیل ایکٹ 2017ء کی منظوری اور اس کے ایکٹ آف پراونشل اسمبلی بننے کے بعد، نیب کے پاس سندھ میں کام کرنے والے صرف وفاقی اداروں کیخلاف کارروائی کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچا۔ نیب آرڈیننس 1999ء کو صوبے میں منسوخ کرنے کیلئے سندھ کی صوبائی اسمبلی دو مرتبہ قانون منظور کرنا پڑا کیونکہ گورنر سندھ نے اس پر دستخط نہیں کیے، جس سے صوبائی اسمبلی کو بل پر نظرثانی کرنا پڑی۔

متنازع قانون کی منظوری کے بعد، سندھ حکومت نے نیب سندھ کو ہدایت دی کہ وہ سندھ حکومت کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام کیسز صوبے کے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو منتقل کر دے۔ تاہم، نیب کا ایسی فائلیں منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تاوقتیکہ عدلیہ سندھ حکومت کے حق میں فیصلہ سنا دے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں، جنہوں نے پیپلز پارٹی حکومت کے اس متنازع قانون کی مخالفت کی تھی، نے عدالت میں نیب آرڈیننس کی منسوخی کے اقدام کو چیلنج کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کی جانے والی زبردست کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہے۔