| |
Home Page
جمعہ 29 محرم الحرام 1439ھ 20 اکتوبر 2017ء
August 12, 2017 | 12:00 am
نواز شریف کی باتوں سے عدلیہ یا پارلیمنٹ میں ٹکراؤ نظر نہیں آرہا،بزنجو

Todays Print

نواز شریف کی باتوں سے عدلیہ یا پارلیمنٹ میں ٹکراؤ نظر نہیں آرہا،بزنجو

کراچی(جنگ نیوز)وفاقی وزیر اور نیشنل پارٹی کے صدر میرحاصل بزنجونے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے تصادم ہواور سسٹم کو لپیٹ دیا جائے، مجھے اس وقت تصادم کی کوئی صورتحال نظر نہیں آرہی، نواز شریف عوام سے ملتے ہوئے لاہور جارہے ہیں تو اس میں تصادم کی کوئی بات نہیں ہے،نواز شریف کی باتوں سے عدلیہ یا پارلیمنٹ میں ٹکراؤ نظر نہیں آرہا، یہاں کوئی ایسا بڑا ٹکراؤ نہیں جس سے سسٹم ڈی ریل ہوجائے،اگر عمران خان کو نااہل کردیا جائے تو وہ بھی یہی کچھ کرے گا،  عدلیہ کی تاریخ بھی کوئی بہت اچھی نہیں ہے، ججوں کے فیصلے کو اچھا کہیں یا برا ہمیں ماننا پڑے گا، نواز شریف عوام کے پاس جائیں گے تو انہیں یہی بولنا پڑے گا کہ میں ٹھیک تھا مگر مجھے زبردستی نکال دیا گیا۔

میر حاصل بزنجو نے کہا کہ جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا فیصلہ ن لیگ کا تھا، ن لیگ نے اتحادی جماعتوں سے ریلی میں شرکت کرنے کیلئے نہیں کہا تھا، مسلم لیگ ن کی ریلی میں ہماری شرکت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

نواز شریف وہی کررہے ہیں جو ایک سیاسی لیڈر کرسکتا ہے،  نواز شریف کو اپنی پارٹی اور ووٹ بینک بچانا ہے تو انہیں عوام میں جانا ہی تھا، نواز شریف نے کوئی بے ایمانی نہیں کی ہے۔میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ ہماری عدلیہ کی تاریخ بھی کوئی بہت اچھی نہیں ہے، عدلیہ میں ڈوگر ،نسیم حسن شاہ اور سجاد علی شاہ بھی جج بھی رہ چکے ہیں، عدلیہ کا فیصلہ وقت اور حالات کریں گے، ایسا نہیں ہوتا کہ عدلیہ فیصلہ دے اور سب خاموش رہیں، عدلیہ کے فیصلوں پر اعتراض ،اختلاف اور حمایت بھی کی جاسکتی ہے، اگر عدالت کا فیصلہ کمزور گراؤنڈ پر ہوگا توا س پر تنقید ہوگی، پاناما کیس میں عدالتی فیصلے پر وکلاء برادری تقسیم ہے، کچھ فیصلے کی حمایت میں تو کچھ مخالفت میں بات کررہے ہیں۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر ریلیاں نہیں نکالی گئیں کیونکہ وہ پارٹی لیڈر نہیں تھے۔

نواز شریف پارٹی لیڈر ہیں جنہیں وزیراعظم کی حیثیت سے نااہل کیا گیا ہے، نواز شریف پیچھے ہٹ گئے تو مسلم لیگ کو سلام کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62/63کو آئین سے فوری طور پر نکال دینا چاہئے، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کرتے وقت آرٹیکل 62/63 کو آئین سے نکالنے کی سفارش کی تھی ، مذہبی جماعتوں نے اسے اسلام کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اتفاق نہیں کیا۔میر حاصل بزنجو نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار میں رہنے والے تمام لیڈرز فوجی نرسریوں سے ہی آئے ہیں، کچھ لیڈرز آتے تو وہیں سے ہیں لیکن پراسس سے گزر کر تبدیل ہوجاتے ہیں، آپ سیاست کررہے ہیں تو سزا ہونا ایک نارمل بات ہے۔

میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا چوہدری نثار کھل کر بات کرتے ہیں ان پر شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، چوہدری نثار نے کابینہ میں اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کردیا تھا، جی ٹی روڈ مارچ پر چوہدری نثار اور شہباز شریف دونوں متفق نہیں تھے لیکن جب نواز شریف نے فیصلہ کیا تو دونوں کو ماننا پڑا، نواز شریف کی بات چوہدری نثار من و عن تسلیم کرتے ہیں جب چوہدری نثار کھڑے ہوجاتے ہیں تو نواز شریف کو بھی ان کی بات ماننا پڑتی ہے، یہ سوچنا غلط ہے کہ چوہدری نثار نواز شریف کے خلاف علم اٹھائیں گے، نواز شریف کے ساتھیوں میں کوئی نیا فرد نہیں سب پرانے لوگ ہیں۔

میر حاصل بزنجو نے کہا کہ نواز شریف کے لاہور پہنچنے کے بعد معاملات اپنی ڈگر پر آجائیں گے، جیسے عمران خان جلسے کرتے ہیں اسی طرح نواز شریف بھی کریں گے اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو پارٹی جلسے کرے گی، نواز شریف عوام کے پاس نہیں جاتے تو ان کی سیاسی بقا مشکل ہوجاتی، یہ کہنا نواز شریف کا حق ہے کہ میں مجرم نہیں مجھے زبردستی مجرم بنایا گیا،میرے علم میں ایسی بات نہیں کہ نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ نے نکالا ہے۔