| |
Home Page
ہفتہ 26 ذیقعدہ 1438ھ 19 اگست 2017ء
August 12, 2017 | 12:00 am
آرٹیکل 63، 62 کو ختم کرنے کی کوششوں میں کسی قوت کا ساتھ نہیں دینگے، فضل الرحمٰن

Todays Print

آرٹیکل 63، 62 کو ختم کرنے کی کوششوں میں کسی قوت کا ساتھ نہیں دینگے، فضل الرحمٰن

اسلام آباد (نمائندہ جنگ،آئی این پی )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم حکومت کے اتحادی ضرور ہیں لیکن اپنی جماعت کا نظریاتی اور اسلامی تشخص ہماری اولین ترجیح ہے۔

آرٹیکل62 اور 63 کو ختم کرنے کی کوششوں میں کسی بھی قوت کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ آئین کی اس شق کو ختم کرنے کا مقصد ملک کو سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔  نیب کا ادارہ سیاستدانوں کی کردار کشی کیلئے بنایا گیا،میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرٹیکل 62اور 63ہر صورت برقرار رہنا چاہیے ۔ اس کو ختم کرنے سے بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔

ہمارا کام قانون کے غلط استعمال کا روکنا ہے نہ کہ قوانین کو ختم کرنا۔ آئین میں صادق اور امین کی تشریح کرنی ہوگی اور 62 اور 63کی ایک ایک شق کی مکمل تشریح ہونی چاہیے۔آرٹیکل 62 اور 63 کی تشریح کیلئے قانون سازی کی گئی تو ساتھ دیں گے، صادق و امین اور دینی علوم کا علم رکھنے والا کون ہے اس کی تعریف ہونی چاہیے، ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیے، ذوالفقار علی بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پر سیاسی گرفت کیلئے مختلف قوتیں کام کر رہی ہیں۔ 

62,63کے غلط استعمال کو روکنا ہو گا، عملدرآمد کے طریقہ کار کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکتا ہے، آرٹیکل6 بھی آئین کے آرٹیکل  62-63کی طرح ایک آمرانہ آرٹیکل ہے آخر اُس پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیب کا ادارہ سیاستدانوں کی کردار کشی کیلئے بنایا گیا ہے اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ختم کیا جانا چاہیئے۔ ہم نے 18ویں ترمیم کے موقع پر نیب قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوںنے مخالفت کی، اب یہی دونوں جماعتیں پھنسی ہوئی ہیں۔

ملک میں جب جب جمہوریت کا قتل ہوا ان پر ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے مشابہ کرنا چاہیے، سیاستدانوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن پر مستقبل میں ندامت کا سامنا کرنا پڑے ،کسی کو حکومت سے نکالنے کیلئے کم از کم سیاسی جماعتوں کو مٹھائیاں تقسیم نہیں کرنی چاہیے، پاکستان کی سیاسی گرفت کیلئے کرپشن پرانا ایجنڈا ہے۔

سیاستدانوں کو اسی ایجنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خود جال بنتے ہیں، گھات لگا کر جال پھیلاتے ہیں گھیر کر شکار اس جال میں پھنسا کر پکڑ لیتے ہیں، سیاستدانوں پر کرپشن کا الزام یکطرفہ ہے، وہی تو کرپشن کا راستہ دکھاتے ہیں،نواز شریف اور آصف زرداری کے دمیان رابطوں کیلئے ممکنہ کردار کے بارے میں سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ابھی تو آصف زرداری کا ہمارے قریب ہونے کا مسئلہ بن گیا ہے وہ پاس آئیں گے تو بات کر سکیں گے۔