| |
Home Page
ہفتہ 26 ذیقعدہ 1438ھ 19 اگست 2017ء
یاسر پیر زادہ
August 13, 2017 | 12:00 am
پتھر کا شہر

Pathar Ka Shaher

ویانا سے بوداپیسٹ کے پونے تین گھنٹے کے سفر میں جب مکرمی اجمل شاہ دین چار کیلے، دو سیب، ایک چپس اور ایک مونگ پھلی کا پیکٹ کھانے کے بعد دوکپ چائے پی چکے تو فرمانے لگے کہ بوداپیسٹ میں کوئی اچھا سا ترک ریستوران ڈھونڈ کرکھانا کھایا جائے گا۔ اگلا ارشاد یہ ہوا کہ میں نے بوداپیسٹ میں ہونے والے فلم فیسٹیول، میلوں، ٹھیلوں، آرٹ کی نمائش، میوزک کنسرٹ، سرکس، اوپرا ہائوس کی پرفارمنس اور دریا میں چلنےوالے جہاز کی سیر کا پروگرام بنایا ہے۔ ہنگری کے نمائندہ صحافیوں سے ملاقات بھی کرنی ہے اور یونیورسٹی کا چکر بھی لگانا ہے سو براہ مہربانی آپ رنگ میں بھنگ مت ڈالئے گا۔ یہ اوربات ہے کہ موصوف اگلے روز گیارہ بجے تک سوتے رہے اور اٹھنے کے ڈیڑھ گھنٹےبعد تک پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کرنے اور حسب ِ توفیق غیرجمہوری تجزیہ نگاروں پر تبریٰ فرمانےکےبعد کہنے لگے ’’آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے!‘‘لہجے کی حیرانی دیدنی تھی۔
ٹرین بوداپیسٹ میں داخل ہوئی تو اسٹیشن کی بوسیدہ دیواروں اور اکھڑے ہوئے پینٹ کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ مشرقی یورپ کے اوقات اب بھی تلخ ہیں۔ باہر ٹیکسی کے انتظار میں آدھ گھنٹہ کھڑا ہونا پڑا تو اس خیال کو مزید تقویت ملی۔ یوں لگا جیسے یورپ کےامیر شہروں کے مقابلے میں بوداپیسٹ کی حیثیت اس بہو کی سی ہے جسے جہیز نہ لانے کی وجہ سے ہر وقت سہما سہما رہنا پڑتا ہے۔ یہ خیال جلد ہی غلط ثابت ہو گیا۔ ہوٹل میں چیک اِن کرنے کے بعد ریسپشنسٹ سے جب شہر کے چیدہ چیدہ مقاما ت کی سیر کےبار ےمیں دریافت کیا تو اس خوش پوش بی بی نے مختلف پمفلٹ پر مشتمل ایک کتاب سی ہمارے ہاتھ میں تھما دی۔ ایکسپریشن اس کے چہر ےپر اس قسم کے تھے کہ دو دن میں کیا خاک دیکھ پائو گے! بوداپیسٹ کانام سن کر خیال آتا ہے کہ شاید یہاں مہاتما بدھ کی کوئی باقیات یا قدیم کھنڈرات ہوں گے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ مہاتما بدھ صرف پاکستانی میڈیا میںہی پائے جاتے ہیں۔ یہ شہر دو حصوں میں تقسیم ہے، بوداشہر کا وہ حصہ ہے جو پہاڑ پرواقع ہے اورپیسٹ اس حصے کوکہتے ہیں جو میدانی ہے۔ دونوں کے بیچوں دریائے ڈینیوب بہتاہے اور ویانا کےبرعکس یہاں ڈینیوب اپنے جوبن پر ہے۔ شہر کے یہ دونوں حصے آٹھ شاندار پلوں کی مدد سے آپس میں ملےہوئے ہیں جن میں مشہور ِ زمانہ "Chain Bridge" لبرٹی برج، مارگریٹ برج اورالزبتھ برج شامل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں نازی فوجوں کی بمباری سے یہ آٹھوں پل تباہ ہو گئے تھے، بعد میں انہیں دوبارہ تعمیر کیاگیا۔ پلوں کے علاوہ دریا کنارے جوہوٹل اورکیفے تھے انہیں بھی تباہ کردیاگیا تھا۔ 80کی دہائی میںیہ ساری عمارتیں اورپل دوبارہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئے اور اب اپنے جوبن پردکھائی دیتے ہیں۔ بودا اور پیسٹ دونوں اطراف میں زرد رنگ کی ٹرام چلتی ہے۔ پیسٹ سائیڈ کی ٹرام کا روٹ N2 کہلاتا ہے جسے نیشنل جیوگرافک نے دنیا کا دوسرا بہترین Scenic Route قرار دیاہے۔ آپ اس ٹرام کے پہلے اسٹیشن سے بیٹھیں تو یہ آپ کو دریاکے ساتھ ساتھ پورے شہر کا نظارہ کرواتی ہے۔یہ ایک ناقابل فراموش سفر ہے۔ کیا دلکش منظر ہےیہاں سے دریاکا، پہاڑ کا، شہر کا، سڑک پر چلتی ہوئی گاڑیوںکا، عمارتوں کا۔ دریا کے ساتھ بجروں کی قطاریں لگی ہیں۔سیاحوں سے بھری کشتیاں چل رہی، یہ پہاڑ کی چوٹی پر جو عورت کا مجسمہ ہے اسے لبرٹی اسٹیچو کہتے ہیں۔ یہ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں سے آزادی کی یادگارکے طور پر تعمیر کیا گیا۔ مجسمے کے بلند ہاتھ آزادی کی علامت ہیں۔پہاڑ کی چوٹی پر یہ مجسمہ دورسے نظر آتاہے۔ ہم اس چوٹی تک گئے یہاں سے پورا شہر آپ کے قدموں میںدکھائی دیتا ہے۔ بوداپیسٹ کی تاریخ چونکہ دو ہزار سال کی ہے سواس شہر کے پاس ایک شاندار ثقافتی ورثہ ہے۔ ڈینیوب کے دونوں اطراف میں جابجاتاریخی عمارتیں ہیں جن کاشمار کرنا مشکل ہے۔ ہر عمارت کی اپنی تاریخ اور شان وشوکت ہے۔ ان میں گرجاگھر ہیں، میوزیم ہیں، محلات ہیں۔ مجسمہ آزادی کی چوٹی سے اتر کرذرا پرے بوداپیسٹ کا شاہی محل ہے جو کسی زمانے میں ہنگری کے بادشاہوںکی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی۔ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیاگیاہے۔ یہ ایک شاندار عمارت ہے لیکن اگر آپ نے بوداپیسٹ کی درجنوں تاریخی عمارتوں اور گرجا گھروں میں سے کسی ایک کی سیر کا انتخاب کرنا ہو تو میرا انتخاب پارلیمنٹ بلڈنگ ہوگی۔یہ یورپ کی دوسری بڑی پارلیمنٹ بلڈنگ ہے۔ اس سے زیادہ خوبصورت اور پرشکوہ پارلیمنٹ شاید ہی کسی اور ملک کے پاس ہو۔ اس کی تعمیر میں ہزاروں لوگوں نے 17سال تک کام کیا۔ اس عمارت کی بنیادیں دریا کے نیچے بیس میٹر تک ہیں جس کی وجہ سے یہ دریا کےاوپر کھڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہر سال اس کی مرمت ہوتی ہے اور پتھرتبدیل کئے جاتے ہیں۔ اس میں 700کمرے ہیں۔ وزیراعظم کادفتر اور قومی اسمبلی بھی اس میں واقع ہے۔ اس کا آرکیٹکچر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ عمارت کے مینار نیزوں کی طرز پر نوکیلے اور گہرے رنگ کے ہیں جبکہ باقی عمارت سفیدی مائل ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس پر بھی ایک بم پھینکا گیا مگر وہ پھٹا نہیں۔ ہنگری والوں کا کہنا ہے کہ اس بلڈنگ کو خدا نےبچا لیا۔ پارلیمنٹ کی عمارت بلاشبہ ایک شاہکار تھی مگر ہنگری کی جمہوریت قابل رشک نہیں۔ میڈیا کی آزادی نام نہاد ہے۔ حکومت اپنے مخالف اخبارات اور ٹی وی چینلز برداشت نہیں کرتی۔
اگلے روز ہم نے ایک گائیڈڈ ٹور لیا۔ ہماری ٹور گائیڈ 70 سال کی ایک ہنگیرین مائی تھی۔ اپنے بارے میں جس کا کہنا تھا کہ وہ پچاس سال کی ہے۔ باقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس ہے۔ اس کے ساتھ اتنی ہی عمر کا ایک بابا ڈرائیور تھاجس کے بارے میں مائی نےدعویٰ کیا کہ ایسا بہترین ڈرائیورپورے ہند سندھ میں نہیں ملےگا۔ یہ کہہ کر جونہی اس نےٹور شروع کیا تو سامنے والے ٹرک سےہمارا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔ اس کے بعدایک اور جگہ موڑ کاٹتے ہوئے موصوف بس ڈرائیور سے الجھ پڑے اور پھر ایک رش بھری سڑک پر غلط انداز میں ریورس کرتے ہوئے کار سے ٹکراتے ہوئے بال بال بچے۔ پورے ٹور کے دوران مائی مسلسل بابے کو راستہ سمجھاتی رہی۔ کہیں سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ ٹور کروانا بابے کا روز کا کام ہے۔ تاہم بزرگوں کی اس جوڑی نے خیر خیرت سے ہمیں پورے بوداپیسٹ کی سیر کروائی اور تاریخ کا سبق علیحدہ سے پڑھایا۔ یورپ کے ان ملکوں کی تاریخ ملتی جلتی ہے۔ پہلے یہ جرمن نازی کے قبضے میں رہے جس دوران انہوں نے بے انتہا ظلم سہا۔ پھر جب سوویت یونین نے دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کو شکست دے کر ان کی جان چھڑائی تو پھر سوویت کمیونزم نے ان کےگرد شکنجہ کس لیا۔ کئی دہائیوں تک ہنگری اپنی آزادی کی جدوجہد کرتا رہا۔ 1956میں بوداپیسٹ میں اسٹالن کا مجسمہ یہاں کے لوگوں نے گرا کر اپنے پیروں تلے پامال کیا۔ لاکھوں لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ روسی اپنےگھر واپس جائیں۔ بالآخر جب سوویت یونین کو افغانستان میں شکست ہوئی تو مشرقی یورپ کے باقی ملکوں کی طرح ہنگری کی جان بھی چھوٹ گئی اور کمیونزم سے آزادی ملی۔ ایسی حقیقی آزادی پانے کے لئے کچھ بت ہمیں بھی اپنے ملک میںگرانا ہوں گے، پر نہ جانے وہ دن کب آئے گا۔
ٹرین اب بوداپیسٹ کا پلیٹ فارم چھوڑ کر دھیرے دھیرے اسٹیشن سے باہر نکل آئی۔ یہ سات گھنٹے کا سفر ہے۔ ہم نے مشرقی یورپ کے شہروں اور دیہات سے گزر کر پراگ پہنچنا تھا۔ مشرقی یورپ کے بڑے شہر ڈرائنگ روم کی طرح ہیں۔ مہنگے مہنگے شوپیس سے سجے سجائے، روشنیوں سے جگمگاتے، آرائش سے بھرپور مگر جونہی آپ ان بڑے شہروں سے باہرنکلتے ہیں تو وہ کرّوفر اور شان و شوکت معدوم ہوتی چلی جاتی ہے جو دارالحکومتوں کاخاصہ ہے۔ بوداپیسٹ ایسی ہی کرّوفر والاشہر ہے۔ ڈینیوب کے اطراف میں بسا ہوا یہ شہر جب رات کو انگڑائی لیتا ہے تو روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے ۔ دریا کےدونوں کناروں پرلگے بلب اور تاریخی عمارتوں سے پھوٹتی ہوئی روشنیاں ایک ایسا سحر طاری کردیتی ہیں کہ آپ گھنٹوں بھی یہ نظارہ کرتے رہیں تو بور نہیں ہوسکتے اور صبح جب اس شہر پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے سینکڑوں برس پرانی ان عمارتوں کے مکین دوبارہ زندہ ہو کر یہاں آباد ہوگئے ہیں۔بوداپیسٹ میں ایک جادو ہے۔ یہاں آنے والے سیاح جب واپس جانےکا قصد کرتے ہیں تو پتھر کے ہوجا تےہیں۔ میں بھی پتھر کا ہوگیا ہوں۔