| |
Home Page
منگل 26 محرم الحرام 1439ھ 17 اکتوبر 2017ء
عباس مہکری
August 13, 2017 | 12:00 am
اداروں کے درمیان ڈائیلاگ

Idaron Ke Darmian Dialogue

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اداروں کو تصادم سے بچانے اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے پارلیمنٹ ، فوج اور عدلیہ کے درمیان ڈائیلاگ شروع کیا جائے ۔ اس امر کی تجویز اگلے روز چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران دی اور سینیٹرز نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا ۔ آج کل پاکستان کے منتخب ایوانوں میں پاناما کیس اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بحث ہو رہی ہے اور معروضی انداز میں پاکستانی سیاست کے ان پہلوؤں پر کھل کر باتیں ہو رہی ہیں ، جن پر پہلے کبھی اشاروں ، کنایوں میں بات کرنے کا رواج تھا ۔ یہ امر خوش آئند ہے ۔
اب وقت آگیا ہے کہ حقائق کا ادراک کیا جائے اور پاکستان کو ان بحرانوں سے نکالا جائے ،جو طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان کھینچا تانی اور اداروں کے ٹکراؤ کی وجہ سے پاکستان کو مسلسل اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی سیاست میں فوج کی براہ راست اور بالواسطہ مداخلت ہوتی ہے اور یہ تیسری دنیا کے اکثر ملکوں کی سیاست کا خاصا ہے ۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی عدلیہ نے فوجی حکمرانوں کے اقتدار پر قبضوں کو نہ صرف اپنے فیصلوں سے جائز قرار دیا ہے بلکہ عدلیہ کے بعض دیگر فیصلوں سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دھارے کا رخ تبدیل ہو گیا ۔ ہمیں یہ بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ فوج اور عدلیہ کے ساتھ معاملات طے کرنے اور اپنے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے دانش مندانہ حکمت عملی وضع نہیں کی ۔ کسی قسم کا ڈائیلاگ شروع کرنے سے قبل فریقین کو اپنے اپنے کردار کا ادراک اور اعتراف ہونا چاہئے ۔
گزشتہ صدی میں ایشیا ، افریقا اور لاطینی امریکہ میں آزاد ہونے والی زیادہ تر نو آبادیاتی انہی مسائل سے دوچار رہی ہیں ، جو پاکستان کو درپیش ہیں ۔ فوج ، عدلیہ اور سیاسی قوتوں کے مابین ٹکراؤ کی حالت رہی ہے ۔ اگرچہ ان نو آزاد ریاستوں میں سے کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں ، جنہوں نے ابتدا میں ہی جمہوری اداروں کو مضبوط کر دیا اور آج ان کا شمار ترقی یافتہ ریاستوں میں ہوتا ہے لیکن اکثر ریاستیں ایسی ہیں ، جہاں جمہوریت پنپ نہیں سکی ہے ۔ پاکستان ان میں سے ایک ہے ۔ اس طرح کی ہر ریاست میں اداروں کے مابین ٹکراؤ کے اسباب مختلف ہیں لیکن عدم استحکام کی ’’ حرکیات ‘‘ (Dynamics ) ایک ہے ۔ پاکستان میں چھ اسباب ایسے ہیں ، جو صرف پاکستان کا خاصا ہیں ۔ اس خطے میں برصغیر کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی اور پاکستان ایک ریاست کے طور پر وجود میں آیا ، جس کو ایک ایسا ’’ قومی سوال ‘‘ درپیش تھا ، جو کسی دوسری نو آزادریاست کا سوال نہیں تھا ۔ پاکستانیوں کی قومی شناخت کا تعین کرنے کے لئے ان کی تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی شناخت سے انکار کیا گیا اور حقیقی شناخت کو قومی شناخت کے منافی قرار دیا گیا ۔ پاکستان کی جو نئی حقیقی مقتدرہ بننی ، وہ پاکستان کو ایک وفاقی ریاست تسلیم نہیں کرتی تھی اور اسے ایک وحدانی ریاست بنانے کے لئے کوشاں رہی ۔ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ملکوں میں بھی سیاسی جماعتیں اور سیاسی ادارے کمزور ہونے کی وجہ سے فوج اور عدلیہ کے ادارے زیادہ طاقتور رہے لیکن وہاں کی غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ اپنے ملک اور عوام کی تاریخی شناخت سے منکر نہیں تھے اور نہ ہی نظام حکومت کے بارے میں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس قدر اختلاف تھا ، جس قدر پاکستان میں ہے ۔ ڈائیلاگ اگر شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلا ایجنڈا یہی ہونا چاہئے کہ پاکستان کا قومی سوال کیسے حل کیا جائے اور پاکستان کو حقیقی وفاقی ریاست کیسے بنایا جائے ۔ ان بنیادی باتوں کے طے ہونے کے بعد فوج ، عدلیہ اور پارلیمنٹ دیگر معاملات پر بات کر ے اور یہ طے کرے کہ فریقین کے دائرہ ہائے کار کیا ہیں ۔
اس طرح کے مذاکرات میں سب سے کمزور فریق پارلیمنٹ ہے ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورت حال کے ذمہ دار میاں محمد نواز شریف ہیں ۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 میں ترمیم نہیں کرنے دی ۔ وزیر اعظم محدوم یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرنے کے عدالتی فیصلے کی حمایت کی اور میاں نواز شریف ہی ہیں ، جنہوں نے پیپلز پارٹی کی تین حکومتوں کے خلاف ایجنسیوں سے مل کر کام کیا ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی یہ بات بالکل کسی حد تک درست ہے لیکن میاں محمد نواز شریف سے پہلے یہ کام دیگر سیاست دانوں نے بھی کیا اور اب بھی ایسے سیاست دان ہیں ، جو یہ کام کر رہے ہیں ۔ اس وقت سیاست دانوں کی اکثریت وہ ہے ، جن کے بارے میں شیخ رشید کہتے ہیں کہ جی ایچ کیو کی نرسری کی پیداوار ہیں ۔ سب سے پہلے ان تمام سیاست دانوں کو اپنا کردار اور اپنی سیاست کا جوہر تبدیل کرنا ہو گا ، اس کے بعد وہ مذاکرات میں مضبوط فریق کے طور پر بیٹھ سکتے ہیں ۔
پاناما کیس اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بارے میں سیاست دانوں کو اس بات پر متفق ہونا ہو گا کہ یہ فیصلہ کیا ہے ؟ پاناما کیس سے پہلے ، پاناما کیس کی سماعت کے دوران اور پاناما کیس کے فیصلے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لینا ہو گا ۔ سیاست دان پارلیمنٹ کے ذریعہ مذاکرات میں فریق ہوں گے ۔ پارلیمنٹ ایک بالادست ادارہ ہے ۔ مذاکرات میں جانے سے پہلے ارکان پارلیمنٹ کو ایسی سیاست سے توبہ کرنی چاہئے ، جس کا تذکرہ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کیا ہے ۔ جب بھی کسی فوجی آمر نے اقتدار پر قبضہ کیا ہے ، اس کے لئے سیاسی جواز سیاست دانوں نے پیدا کیا ہے اور اسے سیاسی ماحول فراہم کیا ہے ۔ مولوی تمیز الدین کیس سے پاناما کیس تک عدالت کو ’’ مقبول ‘‘ فیصلے کرنے کے لئے بھی سیاست دانوں نے راہ ہموار کی ہے ۔
اب اگر پہلی دفعہ سیاست دانوں کی طرف سے یہ بات کی جا رہی ہے کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے تو اپنی اس بات کو منوانے کے لئے فوج اور عدلیہ کو سیاسی ماحول فراہم کرنے والے سیاست دانوں کو اپنا کردار تبدیل کرنا ہو گا ۔ انہیں بھی اقتدار حاصل کرنے کے لئے آئین اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنا ہو گی ۔ میاں رضا ربانی کی یہ تجویز قابل ستائش ہے کہ اداروں کے مابین ڈائیلاگ ہو ۔ اگر یہ تجویز مان لی جائے تو پاکستان دنیا کی ایک عظیم ریاست بن سکتا ہے ۔ ورنہ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی نئی صف بندی کے عمل میں پاکستان میں مزید خطرناک بحرانوں کے تمام اسباب موجو دہیں ۔