| |
Home Page
جمعرات 28 محرم الحرام 1439ھ 19 اکتوبر 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
August 13, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rahguzar

تو بھی مظلوم ہے میں بھی مظلوم ہوں
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے:مظلوم کا ساتھ دو گے؟جو ہوا اللہ دیکھ رہا ہے انہوں نے کاغذوں میں نکالا آپ پھر وزیراعظم بنا دیں گے، پیغام کا انتظار کریں۔ عوام مظلوم نواز شریف مظلوم ، سارا پاکستان مظلوم پھر ظالم کون ہے؟ اس مظلوموں کی بستی میں ظالم کوئی ایسا مظلوم ہے کہ ہجوم مظلوماں میں لاکھ ڈھونڈو ملتا نہیں، پاکستان کی سرزمین اب خود ایسا انصاف کرے گی کہ ہر مظلوم کی تشفی ہو جائے گی بس نواز شریف اور سرزمین وطن کے پیغام کا انتظار کریں، اسلام آباد والوں نے بقول سابق وزیراعظم جب انہیں نکالا تو دو ہی راستے تھے ایک موٹر وے، دوسرا جی ٹی روڈ، موٹر وے پر بڑی ویرانی ہوتی ہے گاڑیاں شوں کر کے گزرتی ہیں ٹھہرتی نہیں، اس پر سفر کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے، مگر جی ٹی روڈ ٹوٹی پھوٹی سہی بارونق رہتی ہے، رات بھر جاگتی ہے، اس لئے سابق وزیراعظم نے گھر جانے کے لئے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا، یہ ایک اچھا فیصلہ ثابت ہوا، مظلوموں نے مظلوم کا ساتھ دیا، دل بہلایا، کھانا کھلایا، بولنے اور بھڑاس نکالنے کا موقع دیا، لاہور پہنچنے تک یہی جی ٹی روڈ ہی سب کچھ نارمل کر دے گی، میڈیا بھی مظلوم وزیراعظم کے ساتھ ساتھ اس تاریخی شاہی سیاسی سڑک پر مظلوم بنتا رہا تاکہ سابق وزیراعظم کہہ سکیں؎
اک ہم ہی نہیں تنہا مظلوم
اس ملک میں مظلوم ہزاروں ہیں
مظلوم اگر بول پڑے شور مچائے تو کچھ نہیں ہوتا خاموش رہے، چپکے سے گھر بیٹھ جائے تو چشم فلک لال ہو جاتی ہے، اور ظالم کو تلاش کر کے اسے پھینٹی لگا دیتی ہے، لیکن میاں صاحب نے اتنے لوگ اکٹھا کر لئے، اتنا بولے، کہ اب تقریباً وہ مظلوم نہیں رہے، ان کے چاہنے والوں نے ان کے دکھ کماحقہٗ بٹایا، اور قدم قدم جی ٹی روڈ پر ان کا ساتھ دیا، آخر مظلوم کو بھی انصاف مل ہی جاتا ہے۔
٭٭٭٭
نظام ہی ٹھیک نہیں!
جی ٹی روڈ بولے گی، بلکہ یہی روڈ ہماری تاریخ دہرائے گی، اور ثابت کرے گی کہ اس پر چلنے والے ٹھیک تھے ان کا نظام ٹھیک نہیں تھا، ہوتا تو یوں نہ ہوتا جو ہوا، اس نظام کو ہم سب نے مل کر بگاڑااور بگاڑتے ہی رہے تاآنکہ مظلوم نظام انتقام پر اتر آیا اور جی ٹی روڈ پر کچلے جانے والے بچے کی طرح ہمیں کچل ڈالا، اجتماعی اعتراف گناہ کی ضرورت ہے، مگر شاید توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہیں کہ امیر کی سنی جا رہی ہے نہ غریب کی، کیسی عبرتناک مساوات ہے جو سپریم آل مائٹی اللہ نے قائم کر دی ہے، کیسی عجیب بات ہے، کہ مظلوم ہی کہانی کا ہر کردار ادا کر رہا ہے پروڈیوسر ڈائریکٹر کی یہی مرضی ہے، اگست کا مہینہ ہے، مظلوم بنے بغیر بھی جینا کوئی جینا ہے، نظام کو ہم نے ایجاد کیا، ہمارا بنایا نظام ہی آپے سے باہر ہو گیا اور اپنے موجدوں پر پل پڑا، اب ہم مظلوموں کے تمام اثاثے اس بگڑے نظام کی زد میں ہیں، نظام شاید اب پہلے خود کو ٹھیک کرے گا کیونکہ اس نے کافی حد تک ہمیں تو ٹھیک کر دیا ہے، کبھی کبھی معمول اپنے عامل ہی کو دبوچ لیتا ہے مگر کسی کمزور لمحے میں، ہم نے ظلم سہنے کے لئے خود کو کوالیفائی کیا، اور منتخب ہو گئے، اب بگڑا تگڑا نظام ہی ہمارا باس ہے، اور ہم اس کے ماتحت پٹواری ہیں، ہمارا نظام اب محفوظ ہو چکا ہے ہمیں غیر محفوظ کر کے، وہ ہمیں بار بار نیا جنم دیتا ہے اور ہر بار ہم خود کو کوئی اور سمجھ بیٹھتے ہیں، پھر وہ ہم سے اپنی مرضی کے کام کراتا ہے، کیونکہ وہ ٹھیک ہی نہیں، ظالم ہے، اس کا ظلم اس کا جھوٹ، اس کی بددیانتی اس کے سارے گناہ ہم مظلوموں سے سرزد ہوتے ہیں، تاکہ ہم نظام کو بُرا بھی نہ کہہ سکیں، ہم سب مظلوم ہیں اور جرم مظلومی کی سزا مرگ مفاجات ہے یہی آج کی بات ہے۔
٭٭٭٭
مذہب اور دین
ہم چونکہ بہت زیادہ پڑھ لکھ گئے ہیں اس لئے دین کو مذہب اور مذہب کو دین سمجھ بیٹھے ہیں، مذہب تو مکتب فکر کو کہتے ہیں اور دین آسمان سے اترا ایک نظام حیات ہوتا ہے جو انسانوں کے خالق نے انہیں سلیقے طریقے سے جینے کے لئے ان کے ذہنوں پر صحیفوں، اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے نازل کیا ہوتا ہے، اور یہ تاکید بذریعہ ضمیر ہر وقت کراتا رہتا ہے کہ سنبھل کے چلنا، حد سے تجاوز نہ کرنا، تمہاری تخلیق بہترین ہے، اس لئے تقاضے پورا نہ کئے تو یہاں وہاں دونوں پلیٹ فارموں پر مواخذہ کروں گا، ہم پہلے بہت ’’ترقی پسند‘‘ ہوا کرتے تھے پھر جب دیکھا کہ جو ترقیاتی نظام دین کے ذریعے یا اس کی آڑ میں چلا کر، اجتماع کا مفاد افراد میں بانٹ کر اور مظلوم بن کر ہم عیش و آرام کی زندگی گزار سکتے ہیں، وہ تو خود ترقی پسند نظام میں کہیں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا، حالانکہ یہ ترقی پسند نظام یا مکتب فکر ہی دین ہے، گویا دو دین ہو گئے ایک، ایک نمبر دوسرا دو نمبر، ہم لگ بھگ 21کروڑ ہو چکے ہیں، مگر اب بھی ٹکے کے نہیں، لیکن پروا نہیں ہمارے پاس جی ٹی روڈ ہے جو ہم سب کو بحفاظت ’’وج گج‘‘ کے گھر پہنچا دیتی ہے، پھر فکر کس بات کی، ہم سب سے پہلے خود کو پھر دوسروں کو دھوکہ دینے کا ایسا ہنر جانتے ہیں، کہ اب تو ہم جھوٹ موٹ روئیں بھی تو خود ہمیں ہی اپنا رونا حقیقی لگتا ہے، ایک اقلیت ہنستے میں روتی ہے ایک اکثریت روتے میں ہنستی ہے، کون درحقیقت رو رہا ہے ہنس رہا ہے، یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں۔
٭٭٭٭
حقوق نسواں بمقابلہ حقوق نسواں
....Oبلاول:جمہوریت کو خطرہ ہے نہ نواز شریف سے بات ہو گی۔
ایک مرتبہ پہلے بھی جمہوریت کو خطرہ نہیں تھا مگر نواز شریف سے پی پی کھل کربات کرتی تھی۔ اب پھر جمہوریت کو خطرہ نہیں پھر بھی نواز شریف سے بات نہیں کرنا، یہ سب کیا ہے؟
....Oعمران خان:عوام نے مظلومیت کارڈ مسترد کر دیا، نواز شریف عدلیہ سے محاذ آرائی کررہے ہیں،
مظلوم تو ہم سب ہیں ظالم ایک بھی نہیں، اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا، باقی رہی بات عدلیہ سے محاذ آرائی کی تو اس کا جواب ہمارے پاس نہیں شاید غالب کے پاس ہو؎
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟
....Oتحریک قصاص کے بانی طاہر القادری:بدھ کو لاہور میں مال روڈ پر دھرنا دوں گا،
اور چلا جائوں گا؟
....Oاین اے 120ضمنی انتخاب، کلثوم نواز، یاسمین راشد آمنے سامنے،
خواتین کی حق رسی کے حوالے سے یہ جوڑ اچھا ہے، میاں صاحب نے اپنی اہلیہ کو اپنا نعم البدل ثابت کر کے حقوق نسواں کے لئے تگڑی آواز بلند کی ہے۔