| |
Home Page
جمعرات 28 محرم الحرام 1439ھ 19 اکتوبر 2017ء
ڈاکٹر مجاہد منصوری
August 13, 2017 | 12:00 am
سراپا رنج میاں صاحب اور مجید چچا

Sarapa Rang Mian Sahab Aor Majeed Chacha

کاروبار حکومت و سیاست شطرنج کے کھیل کی مانند کثیر الجہت ہے۔ بازی جیتنے کے لئے یہ مسلسل اہداف کے تعین اور حصول کا طالب ہوتا ہے، جو چال در چال بتدریج حاصل کئے جاتے ہیں، سواس دلچسپ ترین ان ڈور کھیل میں ذہانت و مکاری اور توازن و تیزی درکار ہوتی ہے۔ دونوں طرف کے شاطروں کو بازی جیتنے کے لئے جملہ ذہنی صلاحیتوں(ان پٹ) کا ا ستعمال کرنا پڑتا ہے۔ تبھی تو جیتنے والے کی ذہانت اور چالاکی و مکاری کی دھاک بیٹھتی ہے اور مقابل شاطر اتنی ذہنی مشقت کے بعد بھی بازی ہارنے پر شدید ذہنی صدمے سے دو چار ہوتا ہے۔ ہر دو کیفیتوں کو شطرنج کھیلنے والے ہی جانتے ہیں۔
اس شاہی کھیل کی بازی بالعموم وقت لیوا ہوتی ہے، تبھی یہ عوام کا کھیل نہ بنا ،تاہم کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دونوں مقابل شاطروں کے مہروں کی اکثریت ابھی بساط پر ہی ہوتی ہے،کسی طرف سے کشتوں کے پشتے نہیں لگتے، بازی کھل ہی رہی ہوتی ہے کہ یک دم ایک طرف سے ایسی حماقت ہوتی ہے جو مخالف شاطر کی ذہانت اور تیزی کی زد میں آتی ہے وہ فوری حملہ آور ہوتا ہے یا اپنی اگلی دو تین چالیں اسی وقت ذہن میں بناتا ہے اور ان ہی میں مخالف شاطر کے بادشاہ(کنگ) کو پھانس(زچ) لیتا ہے۔ سب متحرک اور حرکت کے منتظر مہرے اپنی اپنی جگہ بیکار ہو کر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، یوں سمجھ لیں کہ یہ ’’قیمتی اثاثہ‘‘ کسی کام نہیں آتا، بلکہ بادشاہ کے اپنے اردگرد کے مہرے اس کے زچ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ ان ہی میں بادشاہ پھنس کر رہ جاتا ہے اور مات ہوجاتی ہے۔ بازی کی امکانی مدت سے پہلے یہ شاخسانہ بنیادی طور پر شکست خور شاطر کی کسی بڑی حماقت کا ہوتا ہے اور جیتنے والے کی ذہانت اور تیزی کا بھی۔ اسی لئے عمل سیاست کو شطرنج سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ افسوس! آج ہمارے تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے جناب میاں نواز شریف جو ساڑھے تین عشروں سے پاکستانی بساط حکومت و سیاست کے بیک وقت کامیاب و ناکام کھلاڑی ہیں، ہارے شاطر کی طرح اپنے اقتدار کی تیسری باری بھی مکمل نہ کرنے پر سراپا رنج و الم ہیں۔ ا ب ریلی تو ان کی ہوئی نا، تاہم راولپنڈی،جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ میں اپنے سپریم کورٹ سے تاحیات انتخابی سیاست کے لئے نااہل ہونے پر میاں صاحب نے بچکانہ نوعیت کے اور طریقے سے سوالات اٹھا کر جو رقت آمیز خطاب کیا، وہ کتنے ہی سوالات پیدا کرتا ہے لیکن ان کو سراپا رنج و الم دیکھ کر حوصلہ نہیں کہ ان کے اٹھائے گئے سوالات کا تجزیہ کرکے انہیں اور مفہوم دیا جائے۔ آخر کوئی شرافت ہوتی ہے کوئی لحاظ ہوتا ہے۔
گزشتہ شام دکھ سے بھرے میاں صاحب کے سوالیہ جلسوں کی ٹی وی کوریج دیکھ کر مجھے اپنے بچپن و لڑکپن کا وہ زمانہ یاد آگیا جب میں نے شطرنج سیکھی ،میدان اور کھیتوں کھلیانوں میں کھیلتے کھیلتے کمسن عمر میں ہی شاطر بننے لگے۔ لاہور میں میرا جم پل راوی کنارے قیام پاکستان سے آٹھ دس سال قبل تعمیر ہوئی پڑھے لکھے متوسط طبقے کی بنی آئیڈیل پلینڈ بستی کرشن نگر(اسلام پورہ)کا ہے جو دریائے راوی اور شہر کے درمیان شہر کا آخری محلہ تھا جس کے آگے کھیت اور چلتے رہٹ پھر راوی کے بند سے پہلے قصور پورہ(راوی روڈ) سے لے کر بابو صابو تک گلاب، موتیا، گیندے کے سرخ و سفید اور پیلے مالٹائی رنگ کے کھیت اور لیموں، میٹھے شہتوت اور بیریوں کے باغات تھے۔کرشن نگر تقسیم سے پہلے سرکاری ملازمین، وکلاء پروفیسروں، شاعر ادیبوں، صحافیوں اور ایسے ہی اوسط درجے کے تنخواہ داروں کی بستی تھی جس کے اندر تک بھی خال خال کھیت، چلتے ٹیوب ویل اور خالی پلاٹوں میں باغیچے تھے سو، محلے کا یہ رنگ اور تاحد راوی پرہی ہم بچوں لڑکے لڑکیوں کی تفریح گاہ تھی۔ سماجی زندگی آئیڈیل تھی۔ فطری، سادہ اور کلچرڈ، ہم پرندوں ، گلہریوں اور خرگوشوں کی مانند تھے کہ گھروں میں مرغیاں پالتے اور کبوتر اڑاتے تھے۔بڑوں سے آنکھ بچا کر بار بار ان بہاروں میں جاکر مزے لیتے کہ اچانک لاہور پر حملہ ہوا۔ مشہور زمانہ 65ءکی جنگ ہوگئی۔ سرحدی دیہات کے لوگ بڑی تعداد میں شہر آنے لگے۔ پھر کوئی ایک ڈیڑھ سال بعد خالی پلاٹ نیلام ہو کر گھر بننے لگے۔ اضافی بستیوں نے اس پار کھیتوں کا رخ کرلیا۔ کھیت اجڑنے اور بغیر منصوبہ بندی کے گلیاں گھر بننے لگے جس کا حاصل بند رروڈ کے ساتھ ساتھ آئوٹ فال تا بند روڈ رلا دینے والی موجودہ زگ زیگ تنگ گلیاں اور بازار ہیں، ہمارا بچپن و لڑکپن جہاں بہار و باغ ، پھلوں، پھولوں کھیت اور ٹھنڈے میٹھے چلتے پانی اور پرند چرند کے سوا کچھ نہ تھا وہ اب اینٹوں پتھروں اور نالے نالیوں کا جزیرہ ہے، بلندی سے دیکھو تو سبزے کا نام و نشان نہیں۔
راوی کے افسانوی کنارے پر جب یہ دردناک کہانی لکھی جارہی تھی تو ہم اپنے کرشن نگر میں سکڑتے گئے۔ لڈو، کیرم بورڈ، آنہ لائبریری کی کتابیں اورگھنٹوںکمروں میں بیٹھ کر فلمی گیت سنتے، ایک نیا لائف اسٹائل تشکیل ہورہا تھا۔ ہمارے بڑے بھائیوں نے نہ جانے کہاں سے شطرنج سیکھ لی اور ان کی تقلید میں ہم بھی شروع ہوگئے۔ ابھی میٹرک بھی نہ ہوا تھا کہ بچے بھی شاطر بننے لگے۔ہمارے گھر کبھی کبھی اتوار کو میرے والد کے دہلی کے یار غار ماسٹر مجید صاحب آتے۔ ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ نیم بوسیدہ آف وائٹ شیروانی اور تنگ پاجامہ پہنے پان چباتے سائیکل کو تالا لگاتے مجید چچا کی نظر کھلے دروازے سے ہم ننھے شاطرنجیوں پر پڑتی تو اندر داخل ہوتے ہوئے منہ بناتے کہتے کہ اس عمر میں یہ کیا غم پال رہے ہو۔ پہلی مرتبہ ہی دیکھا تھا تو قدرے غصے سےابا مرحوم سے مخاطب ہو کر بولے تھے ’’یہ کس نے انہیں اس طرف لگادیا ہے‘‘۔ اک دن تو بازی چھڑو ا کر والد کو ساتھ بٹھا کر لیکچر دے ڈالا کہ’’یہ کھیل نشے کی طرح لت ہے‘‘۔ دوسری بات جو یاد رہ گئی یہ ہے بیٹا اس کھیل میں’’رنج‘‘ کا لفظ پوشیدہ ہے، پھر مجید چچا کا تو تبادلہ ہوگیا۔ اباجی کبھی کبھی حوالہ دے کر ہمیں تنبیہ کرتے لیکن زیادہ روک ٹوک والے نہ تھے، سو ہم باز نہ آئے، کالج یونیورسٹی تک اس میں مبتلا رہے۔
والدصاحب تو انتقال کرگئے میں پنجاب یونیورسٹی میں چیس چیمپئن بھی بنا۔ شادی ہونے لگی تو والدہ نے کہا مجید چچا کو ڈھونڈو اور شادی کے معاملات میں انہیں ساتھ رکھو۔ مجید چچا سے رابطہ بحال ہوا تو میں اخباری رپورٹر تھا اور ملکی سیاست کو خوب سمجھنے لگا تھا اور اسے شطرنج سے ملا کر دیکھتا۔ مجھے سیاست دانوں کی ہر سیاسی کامیابی اور ناکامی کے پیچھے سیاستدانوں کی کامیاب یا ناکام ہی چال معلوم دیتی۔ مجید چچا کو یاد دلایا تو کہنے لگے بیٹا میں نے تمہیں کہا ہوگا کہ اس میں’’رنج‘‘ کا لفظ پوشیدہ ہے۔میں نے کہا بالکل یہی تو یاد رہ گیا باقی لیکچر محو ہوگیا۔ فرمایا کہ’’اب اور سن لو یہ جو سیاست اور حکومتوں کا کھیل ہے، یہ شطرنج کی طرح ہے اور یہ سیاستدانوں کی سی خود غرضی پیدا کرتا ہے‘‘۔ یہ ہارنے والے کو مغموم کردیتی ہے اور جیتنے والے کو لاحاصل اور حقیقی خوشی بھی نہیں دیتی۔ سوائے اپنی چالاکی اور مکاری پر ناز کے۔ اقتدار غرض کا کھیل ہے اسے لوگوں کے لئے کھیلنا ہے تو قائداعظم اور بن بلا(الجزائر کی تحریک آزادی کے رہنما)کی طرح کھیلو، وگرنہ اپنی چالاکی کے تکبر اور کبھی ہارنے کے غم میں ہی مبتلا رہوگے۔ زور دے کر کہتے تبھی تو آئین بنایا گیا ہے کہ حکومت چالاکیوں اور مکاریوں سے نہ ہو قاعدوں اور پابندیوں سے اور لوگوں کے لئے ہو‘‘۔ اللہ بخشے مجید چچا سیاست پر بات کرتے بھی اور سمجھتے بھی، مجھے اپنے آخری سبق میں کہتے رہے دولتانہ اور بھٹو والی سیاست سے بچو کسی شخصیت کی نہیں بس آئین و قانون کی سیاست کرو۔ اب تم صحافی ہواس لئے تمہیں سمجھاتا رہتا ہوں۔
گزری کل میں سوچتا رہا کہ جناب نواز شریف35 سال میں شطرنج کا کھیل کھیلتے کتنی بار مینڈیٹ کے تکبر سے لیس ہو کر سیاست کر کے مزے لوٹتے رہے اور کبھی مخالفین کی کامیاب چالوں کے دام میں آکر غم سمیٹتے رہے۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے کسی دو رمیں نہ آئین کو مکمل فالو کیا اور نہ قانون کا انصاف سے نفاذ کیا۔انہوں نے رفاہ عامہ کی نہیں فقط ا پنے خاندان اور سیاسی کنبے کی آسودگی کی ہی سیاست کی۔ان کے رقت آمیز خطاب میں اٹھائے گئے سوالات کا فقط یہی ایک جواب ہے۔