| |
Home Page
ہفتہ 26 ذیقعدہ 1438ھ 19 اگست 2017ء
August 13, 2017 | 12:00 am
عدالتی فیصلے سیاست دانوں کی سیاسی زندگی ختم نہیں کرسکتے،تجزیہ کار

Todays Print

عدالتی فیصلے سیاست دانوں کی سیاسی زندگی ختم نہیں کرسکتے،تجزیہ کار

کراچی( ٹی وی رپورٹ ) جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سیاست دانوں کی سیاسی زندگی ختم نہیں کرسکتے ،اس وقت پریشر عدالت کے مقابلے میں اسٹبلشمنٹ پر زیادہ ہے،قبل ازوقت الیکشن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پروگرام میں شاہزیب خانزادہ ،احمد بلال محبوب ،منیب فاروق ،افتخار احمد اوررئیس انصاری نے بھی اظہار خیال کیا۔تجزیہ کار شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ نوا ز شریف کے ساتھ کرائوڈ کے اضافے سے ان کی ٹون میں بھی تبدیلی آگئی ہے، نوا ز شریف اپنے ووٹر کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ ماضی کا حصہ نہیں بنے نا اہلی فیصلے کے بعد،نواز شریف بالواسطہ کوئی پیغام نہیں دے رہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسٹیبلشمنٹ نے کیا بلکہ اپوزیشن بھی یہ پیغام دے رہی ہے کہ این آراو نہیں ہونے دیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ سوا چار سال کے نوا ز شریف کے کیر یئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ کبھی بھی انقلاب کی طرف نہیں گئے بلکہ وہ ہر مرتبہ ڈیل کی جانب ہی گئے ہیں ، نوا ز شریف کے سوا چار سال کے ٹریک ریکارڈ کچھ کہتا ہے اور ان کی تین دن کے اندر کی جانے والی تقاریر کچھ اور کہہ رہی ہیں۔

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ نوا ز شریف کے ساتھ یوتھ بھی ہے اور ان کے ساتھ اس دفعہ وہ کرائوڈ ہے جو ان کا ساتھ دے رہا ہے اور غصہ بھی دکھا رہا ہے اوراس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نوا ز شریف اپنا پیغام دینے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ نوا ز شریف نے جو وعدے کئے تھے اس مطابق انہوں نے کام نہیں کئے، نوا زشریف جو پرچیاں دیکھ کر دوسرے ممالک کے صدور سے گفتگو کرتے تھے آج وہ بغیر پرچیاں دیکھے اپنے کارکنوں سے جارحانہ تقاریر کرتے نظر آرہے ہیں، لیکن اب نوا ز شریف کو عمران خان کے مقابلے میں اپنے ووٹروں کی یہ بات سمجھانے کیلئے زیادہ وقت مل گیا ہے کہ میں ان کے ووٹ کا تقدس پامال نہیں ہونے دوں گا۔

شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ اب کنجی عدالت کے ہاتھ میں ہے اور سینئر قانون دان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ ایسی چیزیں موجود ہیں جس پر عدالت کو دیکھنا ہوگا اور اس پر بڑے اخبارات نے ایڈیٹوریل لکھے ہیں کہ عدالت ان معاملات کو دیکھے۔سینئر تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ نوا زشریف پر جو چار تلواریں لٹک رہی ہیں اس سے بچنے کا بہترین طریقہ بیگم کلثوم کا الیکشن جیتنا اور صدر پاکستان کو نئے الیکشن کا مشورہ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انقلاب نوا زشریف نہیں لاسکتے وہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اپنی انگلی ان کی طرف اٹھا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے بھٹو کو پھانسی دی توان کی پارٹی ختم نہیں ہوئی ، افتخار احمد کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 190کی بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس وقت جو لوگوں کی تعداد سڑکوں پر موجود ہے اہمیت اس کی ہے، افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پارٹی ٹوٹ جاتی اگر نواز شریف سڑکوں پر نہیں آ تے، اور نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر جیل جانا ہی ہے تو سج دھج کے جاؤں اور اس بات سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ جلدالیکشن کراسکتے ہیں۔

افتخار احمد کا کہنا تھا کہ نوا ز شریف جو اس وقت بات کر رہے ہیں اس کو وہ سپورٹ کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نوا زشریف سیاسی جنگ جاری رکھیں گے لیکن اگر انہیں سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر وہ ہو گا جو شیخ رشید کہتے ہیں۔ سربراہ پلڈاٹ احمد بلال محبوب نے کہا کہ نوا ز شریف کے پاس ابھی کوئی پروگرام طے ہی نہیں ہے دینے کو لیکن وہ اس پر غور کر رہے ہیں کہ کیا پروگرام دینا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ جیسے ماضی میں ان کاموں میں اسٹیبلشمنٹ شامل ہوتی رہی ہے اور اگر اب بھی ہے تو یہ بات نا اہلی پر نہیں رکے گی، اسی طرح بھٹو دور میں جو مارشل لاء لگا تھا اور اس وقت جب وہ لاہور آئے تھے تب بھی ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا،اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی کے ساتھ بھی پیٹرول پمپ پر زیادتی ہوئی تھی جس کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھلی گئی تھیں جنہوں نے بھٹو کو ہٹایا تھا،احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس وقت پریشر عدالت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ پر زیادہ ہے، اس وقت جو مفروضہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شامل ہے ۔